تازہ ترین

وبائی دور میں آن لائن ایجوکیشن

ٹیکنالوجی متبادل ضرور لیکن مسائل سے بھی مبّرا نہیں

تاریخ    7 اگست 2020 (00 : 02 AM)   


امتیاز خان
کورونا وائرس ایک ناگہانی بلا کی صورت میںدنیا پر مسلط ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اس بلائے ناگہانی کا سامنا کرنا تو کجا، اس سے بچاؤکا متحمل نہیں ہے۔کورونا کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا خطرہ اسکولوں اور تعلیمی اداروں پرمنڈلاتے دیکھ کر انہیں فوراً بند کردیا گیا جس کی وجہ سے روایتی طریقہ تعلیم تقریباً منقطع ہوچکا ہے۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق 114 سے زائد ملکوں میں تمام اسکول اور کالج بند پڑے ہیں۔ پوری دنیا میں ایک عرب طالب علم اس سے متاثر ہیں۔ 
بچوں کو اس وائرس سے محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی اقدامات کے بطورنجی و سرکاری تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت تک بند کردئے گئے اوراب تعلیمی اداروں کو بند ہوئے تقریباً پانچ ماہ گزر چکے ہیں۔ جو غیر یقینی صورتحال پہلے تھی آج بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ہم دنیا کے ایک ایسے حصے میں رہتے ہیں جہاں ہنگامی حالات کوئی نئی بات نہیں بلکہ اب تو ہم ان حالات کے اتنے عادی ضرور بن گئے ہیں کہ ان حالات میں بھی کسی نہ کسی طرح اپنے مسائل کا حل نکال ہی لیتے ہیں۔ تاہم اس بار صورتحال کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ حالات ہمارے نظامِ تعلیم کیلئے آزمائش بن کر آئے ہیں ۔
ایک وقت تھا جب معاشر ے میں روایتی تعلیم کو اہمیت دی جاتی تھی لیکن آج اس عالمی وبا کے پھیلنے کی وجہ سے آن لائن تعلیمی نظام کو اہمیت دی جارہی ہے تاکہ طلبہ کے تعلیمی کیریئر کومزید کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔اب آن لائن تعلیمی نظام سے سکولوں سے لیکریونیورسٹی سطح تک طالب علم مستفید ہورہے ہیں ۔یہ کہنے کی قطعی ضرورت نہیں رہی کہ کووڈ19 نے صدیوں پرانے ’چاک اور ڈسٹر‘ کے ماڈل کو یک لخت ٹیکنالوجی سے مربوط نظام تعلیم میں تبدیل کردیا ہے۔ اساتذہ کو بہت کم وقت میں حقیقی کلاس رومز سے ورچوئل کلاس رومز کی طرف جانے پر مجبور ہونا پڑا لیکن ان حالات میں کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہرحال بہت بہتر ہے کیونکہ طلبہ کا وقت نہایت قیمتی ہوتا ہے۔
موجودہ صورتحال نے ہمیں اس بات کا احساس دلایا ہے کہ اب ہمیں ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق اپنے معیار کو بلند کرنا ہوگا۔ وہ اسکول جو ڈیجیٹل کشتی میں سوار نہیں ہوسکے تھے وہ آج پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ انہیں بچوں کے تعلیمی تسلسل کو جاری رکھنے کے متبادل طریقوں کو ترتیب دینے میں خاصی مشکل پیش آرہی ہے۔
آن لائن کلاسز کا تجربہ جموں کشمیر میں بالکل نیا ہے۔ یہ کتنا سود مند ہے ،اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس کے ذریعہ اساتذہ اور اسکول اپنے طلبہ و طالبات کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اوسط ذہن رکھنے والے بچے تو صرف اپنی حاضری درج کرنے کے لئے آن لائن کلاسز میں شرکت کر رہے ہیں۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسز کے درمیان بچوں کے سوالات بہت کم آتے ہیں۔ کبھی کسی بچے کی انٹرنیٹ اسپیڈ کم ہوتی ہے تو کبھی استاد کی آواز بچوں تک ٹھیک سے نہیں پہنچ پاتی اور اس دورانیہ میں کافی وقت برباد ہوتا ہے۔ کئی کئی گھنٹے موبائل کے سامنے وقت گزارنے کی وجہ سے بچوں پر شدید ذہنی دباو¿ بن رہا ہے۔عالمی ادارہ یونیسف(UNICEF)کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر ہینریٹا فور(Henrietta Fore)کے مطابق ’کووڈ-19کے زیر اثر لاکھوں بچوں کی زندگی عارضی طور پر صرف اپنے گھروں اور اسکرینوں تک سکڑکر رہ گئی ہے‘۔ جو بچے آن لائن کلاسز نہیں لے پا رہے ہیں ان کے ذہنوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور وہ احساس کمتری کا شکار ہورہے ہیں۔
آن لائن کلاسوں کے حوالے سے جو مسائل طلبائ، والدین اور اساتذہ کو درپیش ہیں ان میںپہلے تو والدین کے لئے ہر بچے کے لئے الگ موبائل ،ٹیب ،آئی پیڈاور لیپ ٹاپ کا انتظام مشکل معاملہ ہے ۔اگر یہ کسی طرح ہو بھی جائے تو بہت سے ایسے دور دراز علاقے ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہے۔ جموں کشمیر میں انٹرنیٹ کی اسپیڈ 2G تک محدود رکھی گئی ہے۔کہیں انٹرنیٹ کی سپیڈ کے مسائل ہیں تو کہیں بجلی کی عدم دستیابی نے بچوں کے لئے آن لائن پڑھنا مشکل بنا دیا ہے۔
یونیسیف نے ایک رپورٹ میںتعلیم کے آن لائن طریقہ کی جانب پیش قدمی کے بارے میں تشویشناک حقائق کو اجاگر کیا ہے۔انہوںنے متنبہ کیا کہ طلبہ کی نصف تعداد جو 82کروڑ 6 لاکھ پر مشتمل ہے تعلیم کے آن لائن ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہوجائے گی کیونکہ ان کے گھروں میں کمپیوٹر دستیاب نہیںہیں۔اس کے علاوہ طلبہ کی 43%تعداد جو 7کروڑ 6لاکھ پر مشتمل ہے ،کے گھروں میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ دوسری طرف ٹیکنالوجی کو صیح طورپر استعمال کرنا اساتذہ اورطلباءدونوں کے لئے ایک بڑ ا چیلنج بن کے سامنے آرہا ہے۔اسکولی طلبہ کیلئے آن لائن تعلیم کالج طلبہ کی بہ نسبت محفوظ،پرسکون اور سہولت والی نہیں ہے۔ جہاںکم عمر بچوں کا اپنے اساتذہ سے تعلق والدین کی طرح ہوتا ہے وہیں ان کے لئے کمرئہ جماعت اپنے گھر کی طرح ہوتا ہے۔یوں کہا جاسکتا ہے کہ ورچول لرننگ اگرچہ سود مند ضرور ہے لیکن مسائل سے ہرگز پاک نہیںہے۔ماہرین تعلیم کے مطابق آن لائن نظام میں تمام تر ذمہ داری طلبہ پر عائد ہوتی ہے اسی لئے ان میںذاتی نظم و ضبط(Self Discipline)کاپایا جانا بے حد اہم ہوتا ہے۔
یونیسف کے مطابق آن لائن تعلیم کم عمر طلبہ کے لئے خطرات اور اندیشوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔نوخیز طلبہ کا انٹرنیٹ سے تعامل (Internet Exposure)مختلف قسم کے استحصال کا سبب بن سکتا ہے۔ تنظیم نے حکومتوں، اسکولوں اور والدین کوان مسائل سے نبردآزماہونے کیلئے متعدد سفارشیںپیش کی ہیں۔ یونیسف نے حکومتوں سے کہا ہے کہ بچوں کی حفاظت سے متعلق بنیادی خدمات کو یقینی بنائیں تاکہ اس وبائی دور میں بھی بچے خود کو آزاد اور متحرک رکھ سکیںجبکہ والدین سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ بچوں کی ڈیوائسز(Devices) جدید ترین سافٹ ویئر اپڈیٹس اور اینٹی وائرس پروگرام سے لازمی طور پر لیس ہوں۔ 
جہاںروایتی طریقہ تعلیم میں اساتذہ کمرئہ جماعت میں طلبہ کی توجہ ،انہماک اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کیلئے سرگرم رہتے ہیں وہیں ورچول لرننگ میں ان تمام امور کی نگرانی طلبہ کو ازخود انجام دینی پڑتی ہے۔آن لائن نظام ِ تعلیم میں طلبہ کو بہت زیادہ آزادی اور اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں اور کمرئہ جماعت کی طرح ان پر راست نگاہ رکھنے کے لئے اساتذہ موجود نہیں ہوتے ہیں۔پڑھنے ،سیکھنے اور اپنے وقت کی تکمیل کی تمام تر ذمہ داری طلبہ پر عائد ہوتی ہے۔ طلبہ میں ذاتی( ذ ہنی) نظم و ضبط اور اوقات کی مو¿ثر و مناسب تنظیم وترتیب اور بہتر استعمال کا اگر فقدان پایا جاتا ہے تو اکتسابی و تعلیمی سفر میں ان کا پیچھے رہ جانا ایک فطری امر ہوگا۔اسی لئے آن لائن تعلیم کی فراہمی سے قبل طلبہ کونظم و ضبط اور وقت کے بہتر استعمال کی مہارتوں سے متصف کرنا بے حد ضروری ہے۔
موجودہ حالات میں آن لائن نظامِ تعلیم کے ساتھ کسی کو انکار نہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کے ساتھ لاکھوں لوگوں کاروزگار جڑا ہوا ہے۔ ان کے بند ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کی فیس قائدے سے ادا نہیںکر پارہے ہیں۔ پرائیوٹ اسکولوں میں کام کرنے والے بے شمار اساتذہ کے سامنے اب دو وقت کی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کئی اسکول تو ایسے ہیں جو کرائے کی عمارتوں میں ہیں۔ وقت پر کرایہ نہ دینے کی وجہ سے اب ان عمارتوں کے مالک انہیں بوریا بسترہ سمیٹنے کیلئے مجبور کر رہے ہیں۔ ایک طرف تعلیم کا خسارہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف لاکھوںلوگوں کا روزگار ختم ہو رہا ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ اس بڑے نقصان کو دیکھتے ہوئے آسٹریلیا اور سویڈن جیسے ملکوں میں لاک ڈاو¿ن کے دوران بھی اسکول بند نہیں کئے گئے۔ ڈنمارک میں اب احتیاطی تدابیر کے ساتھ اسکول کھول دئے گئے ہیں۔جموں کشمیر میں بھی اسکول اگر سماجی دوری، ماسک اور طاق و جفت جیسے ضابطوں کے ساتھ کھولے جائیں تو اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ لیکن اب حکومت کو کوئی مضبوط قدم اٹھانا ہوگا ورنہ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال انتہائی خطرناک صورت اختیار کرسکتی ہے۔
 

تازہ ترین