تازہ ترین

محبوبہ مفتی کے پی ایس اے میں تین ماہ کی توسیع

زبردستی اور دبائو سے ہمیں زیرنہیں کیاجاسکتا:پی ڈی پی ترجمان

تاریخ    1 اگست 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سری نگر// جموں و کشمیر حکومت نے پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی، جو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظربند ہیں، کی نظربندی میں مزید تین ماہ کی توسیع کردی ہے۔ پی ڈی پی نے محبوبہ مفتی پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے اطلاق میں تین ماہ کی توسیع کئے جانے کی مذمت کی ہے۔محکمہ داخلہ کے پرنسپل سکریٹری شالین کابرا کی طرف سے جاری حکم نامے کے مطابق محبوبہ مفتی دختر مرحوم مفتی محمد سعید ساکنہ بجبہاڑہ حال نوگام سری نگر کی نظربندی میں مزید تین ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور انہیں سب جیل فیئر ویو گپکار روڈ میں ہی بند رکھا جائے گا۔ قبل ازیں حکومت نے محبوبہ مفتی کو رواں برس 7 اپریل کو سب جیل ٹرانسپورٹ یارڈ سری نگر سے اپنی رہائش واقع گپکار روڈ منتقل کیا تھا ،جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا۔ساٹھ سالہ محبوبہ مفتی، جنہیں پانچ اگست 2019 کو حراست میں لیکر چشمہ شاہی کے گیسٹ ہائوس میں نظربند کیا گیا تھا، کو گذشتہ برس نومبر کے وسط میں مولانا آزاد روڑ پر واقع سرکاری کوارٹر منتقل کیا گیا جہاں ان کے لئے سرما کے پیش نظر گرمی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا تھا۔ادھرپیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے جمعہ کو پارٹی صدرمحبوبہ مفتی پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے اطلاق میں تین ماہ کی توسیع کئے جانے کو غیرجمہوری،غیرآئینی اور انسانیت سوزقراردیتے ہوئے اس بات کو دہرایا کہ حکومت کایہ رویہ پیپلزڈیموریٹک پارٹی کو اپنے مرکزی ایجنڈا کوآگے لیجانے اور سچ بولنے سے بازنہیں رکھے گا۔پارٹی ترجمان اور میڈیامشیرسیدسہیل بخاری کے مطابق ان اقدامات کا مقصد خوفزدہ کرنا ہے جن کے دوررس نتائج ظاہر ہوں گے  اوران سے لوگوں میں احساس بیگانگی اور مایوسی میں اضافہ ہوگاجن کی شناخت کو گزشتہ سال5اگست کوتاراج کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ عجیب بات ہے کہ محبوبہ مفتی کی غیرقانونی نظر بندی کیخلاف عدالت عظمیٰ میں عرضی زیرالتواء ہے اورحکومت ایسے غیرقانونی اورغیرجمہوری ہتھکنڈوں سے پی ڈی پی صدر کاتعاقب کررہی ہے ۔ پی ڈی پی ترجمان نے کہا کہ پارٹی کایہ واضح موقف ہے کہ نظریات کو نہ ہی پابند زنجیر کیاجاسکتا ہے ناہی پابندی لگائی جاسکتی ہے اور نہ ہی ماراجاسکتا ہے اورجمہوریت میں نظریات کو پنپنے کا موقعہ دیاجاتا ہے نہ کہ ان کا گلا دبایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ زبردستی اوردبائو سے ہمیں زیر نہیں کیاجاسکتاہے۔ 

تازہ ترین