بمنہ کے لاپتہ اسکالر کے اہلِ خانہ کاپریس کالونی میں احتجاج

بازیابی کیلئے پولیس اور فوج سے مدد کی اپیل

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر // بمنہ علاقے سے تعلق رکھنے والے لاپتہ نوجوان پی ایچ ڈی اسکالر کے اہل خانہ اور دیگر رشتہ داروں نے سوموار کے کوپریس کالونی احتجاج کیا اور اس کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس اور فوج سے مدد کی اپیل کی۔احتجاجیوں میں بیشتر خواتین شامل تھیں ،جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے جن پر ’پولیس سے مدد‘ کے نعرے لکھے ہوئے تھے۔بمنہ سے تعلق رکھنے والا کشمیر یونیورسٹی کا پی ایچ ڈی اسکالر ہلال احمد ڈار ولد مرحوم غلام محی الدین ڈار وسطی ضلع گاندربل کے نارہ ناگ علاقے میں 13 جون کو ٹریکنگ کے دوران لاپتہ ہوا تب سے لیکر آج تک اس کا کہیں کوئی اتہ پتہ نہیں۔احتجاجی خواتین نے بتایا کہ بمنہ کے 6نوجوانوں پر مشتمل ایک گروپ سیروتفریح کے لئے ناراناگ وانگت کنگن گئے جہاں سے وہ صحت افزا مقام گنگہ بل کی جانب روانہ ہوئے اور شام کو جب وہ وہاں سے واپس چل پڑے تو ہلال احمد ڈار پیچھے رہ گیا اور دیگر نوجوانوں نے آگے مذکورہ نوجوان کا انتظار کیا اور جب وہ بہت دیر تک نہیں پہنچا تو ان نوجوانوں نے واپس جاکر ہلال احمد کی تلاش شروع کی لیکن وہاں پر موجود نہیں تھا جس کے بعد وہ بمنہ آئے اور نوجوان کی گمشدگی کے بارے میں اس کے گھر والوں کو جانکاری دی ۔ احتجاجی رشتہ داروں نے کہا کہ انہوںنے گنگہ بل ناراناگ میں پولیس اور مقامی لوگوں کی مدد لیکر تلاش شروع کی تاہم ہلال کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل سکا۔ احتجاجی مظاہرین نے آئی جی پولیس سے اپیل کی وہ انکے لخت جگر کی بازیابی کیلئے ذاتی طور پر مداخلت کریں۔
 

تازہ ترین