کووِڈ- 19: 5 سال سے کم عمرکے 67لاکھ بچے لاغر پن کا شکار ہوسکتے ہیں:یونیسیف

تاریخ    31 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیو یارک/یواین آئی/ بچوں کی بین الاقوامی تنظیم یونیسیف نے متنبہ کیا کہ کووڈ۔9 کی عالمی وباء کی وجہ سے سماجی اور معاشی اثر ات کے نتیجہ میں رواں سال میں پانچ سال سے کم عمر کے مزید 67لاکھ بچے لاغر پن یا عمر کے لحاظ سے دبلے پن کا شکار بن سکتے ہیں۔یہ نتیجہ مشہور عالمی طبی جریدہ دی لانسیٹ Lancetمیں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں اخذ کیا گیا ہے ۔تجزیہ کے مطابق ان بچوں میں سے 80 فیصد بچوں کا تعلق براعظم افریقہ کے پسماندہ صحرائی علاقہ اور جنوبی ایشیاء سے ہوگا۔مزید برآں یہ کہ ان میں سے نصف سے زیادہ تعداد میں ایسے بچے اکیلے جنوبی ایشیاء میں ہوں گے ۔یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہین ریٹا فور نے کہا کہ سات مہینے قبل سب سے پہلے جب کووڈ 19 کے معاملے منظر پر آئے تھے تو یہ حقیقت واضح ہوچکی تھی کہ اس وبائی مرض کے بجا ئے اس سے پیدا ہونے والے اثرات بچوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ خاندانی غربت اور بھوک سے عدم تحفظ کی صورت حال میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔ انسانی نشوونما کے لئے لازمی غذائیت بخش اشیاء کو فراہم کرنے والے اداروں کی خدمات اس سے متاثر ہوئیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے نتیجے میں بچوں کے کھانے کی چیزوں کا معیار بھی گرا اور ان میں تغذیہ کی کمی کا تناسب بڑھ گیا۔واضح رہے کہ لاغر پن یا دبلا ہونا ،ناقص تغذیہ کی ایک جان لیوا شکل ہے جو بچوں کو بہت پتلا اور کمزور بنا دیتی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایسے بچوں میں کمزور دماغی حالت، کمزور تعلیمی رجحان، کمزور مدافعت اور متعدی بیماریوں کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بعض بیماریوں کی وجہ سے وہ لقمہ اجل بھی بن جاتے ہیں۔ یونیسیف کے بموجب کووڈ 19 کی وبا پھیلنے سے پہلے ہی سنہ 2019 میں 47 ملین بچے لاغر پن کا شکار تھے ۔ اگر اس کے تدارک کے لیئے فوری طور عملی اقدامات نہیں کئے گئے تو رواں سال کے آخر تک لاغرپن کا شکار بچوں کی عالمی تعداد تقریبا 54 ملین تک پہنچ سکتی ہے ۔ اس سے دنیا میں عالمی سطح پر لاغر پن کے شکار بچوں کی تعداد اس سطح پر پہنچ جائے گی جس کی مثال موجودہ ہزارے میں نہیں ملتی۔لانسیٹ تجزیہ کے مطابق کووڈ۔19 کے سماجی و معاشی اثرات کے سبب رواں سال میں کم اور اوسط آمدنی والے ملکوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں لاغر پن کے معاملے 14.3 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں۔ ناقص تغذیہ کے سبب اس طرح کے بچوں میں ہر ماہ دس ہزار10,000 سے زائد مزید اموات کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ان اضافی اموات میں 50 فیصد سے زیادہ واقعات افریقہ کے صحرائی علاقہ میں رونما ہوں گے ۔ تاہم اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں لاغر پن کے معاملوں کی تعداد اس تخمینہ سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے ۔ کووڈ۔ 19 کے نتیجہ میں قوت بخش غذاوئں کی فراہمی متاثر ہونے کے سبب ناقص تغذیہ کے بچوں اور خواتین پر دوسرے طرح کے بھی اثرات مرتب ہوں گے ،ان میں نشوونماکا رک جانا، موٹا پا، وزن بڑھ جانا، بدن میں ضروری معدنیات کی کمی وغیرہ شامل ہیں۔ یونیسیف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وبائی مرض کے ابتدائی مہینوں میں ضروری غذائی اشیاء فراہم کرنے کی مجموعی طور پر شرح 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اس میں زندگی بچانے والی غذا بھی شامل ہے ۔ لاک ڈاؤن کے اقدامات کی وجہ سے بعض ملکوں میں غذا فراہمی کی خدمات 75 فیصد سے 100 فیصد تک متاثر ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر افغانستان اور ہیتی میں وبا کے خوف اور صحت سے متعلق کارکنوں کیلئے حفاظتی سامان کی کمی کی وجہ سے لاغرپن کے شدید شکار بچوں کو اسپتالوں میں علاج کے لئے بھرتی کرنے کی شرح میں بالترتیب 40 فیصد اور 73 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ کینیا میں بھرتی کی شرح میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ کووڈ۔ 19کی وجہ سے عالمی سطح پر 250 ملین سے زیادہ بچے وٹامن اے سے پورے طور پر فائدے ا ٹھانے سے محروم ہیں۔ لانسیٹ کے مطابق جب ہر ملک میں لاغر پن کے شکار متوقع تخمینہ کو غذائیت فراہم کرنے والی خدمات میں سالانہ اوسطا 25 فیصد کمی سے ملا کر دیکھا جائے تو سال بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں ہونے والی اموات میں 128,605 کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ وٹامن اے کی فراہمی میں 15 فیصد اور 50 فیصد زیادہ سے کمی کے منظر ناموں کے تناظر میں دیکھنے سے شدید لاغر پن کا علاج، نوخیز بچے کو ماں کا دودھ پلانے اور حاملہ خاتون کو غذائیت والی چیزیں کی کمی وغیرہ کا پتہ چلتا ہے ۔لانسیٹ کی رپورٹ پر رائے زنی کرتے ہوئے یونیسیف، فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہوں نے متنبہ کیا ہے کہ کووڈ۔19 وبا کے نتیجہ میں پوری دنیا میں خاص طور پر کم اور اوسط آمدنی والے ملکوں میں قوت بخش غذاؤں کا استعمال کم ہوا ہے ۔ اس کے سب سے زیادہ خراب اثرات بچوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ غذائی اشیاء کی فراہمی کی خدمات متاثر ہونے ، کھانوں کا معیار گرنے ، اور وبائی مرض کے خوف سے پیدا صدموں کے نتیجہ میں بچے اور خواتین زیادہ تر ناقص تغذیہ کا شکار ہو رہی ہیں۔ انسانی بہبود کے لئے سرگرم اداروں و تنظیموں کو اس سال کے آخر تک سب زیادہ معاشی طور پر کمزور ملکوں میں زچہ بچہ اور بچوں بہتر نشوونما کے ئے فوری طور پر 2.4 ارب امریکی ڈالر رقم کی ضرورت ہے ۔ اقوام متحدہ کی چار ایجنسیوں کے سربراہا ن نے دنیا کی حکومتوں، عوام، صاحب خیر حضرات، اور نجی شعبے سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کے غذائیت سے متعلق حق کے تحفظ کے لئے آگے آئیں۔یونیسیف انڈیا کی نمائندہ ڈاکٹر یاسمین علی حق نے کہا کہ وبائی مرض کے ثانوی اثرات سے لاکھوں بچے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ روز گار کے چلے جانے کے ساتھ ساتھ علاج و معالجہ اور غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے سبب معاشی طور کمزور خاندان اور بچے مفلسی کا شکار ہوسکتے ہیں اور غریب خاندانوں کو اپنے بچوں کو کام پر لگانے کے لیئے مجبور ہونا پڑسکتا ہے جس سے ان بچوں کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے ۔ 
 

تازہ ترین