تازہ ترین

نفسیاتِ انسانی پر حج کے اثرات

فلسفہ حج

تاریخ    30 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


میر امتیاز آفریں
حج ِ بیت اللہ ارکان اسلام میں ایک اہم ترین رکن ہے۔بیت اللہ یقینااللہ تعالیٰ کا سب سے قدیم گھر ہے جو فرزندانِ توحید کے دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں۔دل اور پیشانیاں روزانہ پانچ مرتبہ ایک اور اکیلے معبود کی خاطر خشوع و خضوع کے ساتھ ، مطیع و فرمانبردار ہوکر اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔دنیا کے تمام دوردراز راستوں سے مسلمان خانہ کعبہ کی طرف وفد در وفد آتے ہیں ، مناسکِ حج ادا کرتے ہیں ، کعبہ کا طواف کرتے ہیں اور خدائے لم یزل کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں۔دنیا بھر کے ملکوں سے ایک ہی مرکزکی طرف لاکھوں فرزندان توحید کھنچے چلے آتے ہیں ، شکلیں اور صورتیں مختلف ہیں، رنگ مختلف ہیں ، زبانیں مختلف ہیں، لیکن ایک ہی لباس ، ایک ہی اطاعت و بندگی کا نشان ان سب پر لگا ہوا ہے، سب بیک زبان لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک پکار رہے ہوتے ہیں، یہاں زبانوں ، قوموں، وطنوں اور نسلوں کا اختلاف مٹ جاتا ہے۔
حج ایک کیفیت اورجذب و جنوں کا نام ہے۔ حج میں انسان کو سوچ اور فکر و آگہی کے ان مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کہ انسان سوچتا ہے کہ طویل مسافتیں طے کرکے اور مشقتیں برداشت کرکے اطراف عالم کے مسلمانوں کو ایک مقام پر جمع کرنے میں آخر کیا رازپنہاں ہے۔سب لوگوں کا اپنا روایتی لباس اتار کر دو چادریں پہنا دینے میں کیا مصلحت ہے، آخر اس میں کیا حکمت ہے کہ لاکھوں انسان دیوانہ وار پتھر کی ایک عمارت کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں، دو پہاڑیوں کے درمیان دوڑ رہے ہیں، ایک خاص دن اور تاریخ کو ایک خاص مقام پر پورا شہر آباد ہوتا ہے اور شام کو اجڑ جاتا ہے، لاکھوں لوگ پتھروں کے علامتی ستون پر کنکریاں برسارہے ہیں، ایک خاص مقام پر ایک ہی دن لاکھوں لوگ جمع ہوکر لاکھوں جانوروں کی قربانی پیش کرتے ہیں ، آخر کیوں؟
 یہ سارے انداز یہ بتاتے ہیں کی حج اللہ کی بندگی اور اس کی بے پناہ محبت میںخود کو گْم کرنے اور اللہ کے پیاروں کی کچھ ادائوں اور وفائوں کی نقل اتارنے کا نام ہے ، یہ سب کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام ، ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی اہلیہ حضرت ہاجرہؑ کی ادائوں کو اپنانے کا نام ہے۔اسلام کی کامل روح تو یہ ہے کہ انسان کی زندگی مجسم عبادت بن جائے، اس کی چال ڈھال ، رفتار و گفتار ، نشست و برخاست ، انفرادی و اجتماعی معاملات ، حتیٰ کہ ہر شعبہ زندگی اور ہر لمحہ حیات میں اللہ کی مکمل بندگی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کی جھلک نظر آئے اور اسی مقصد کے حصول کیلئے حج عبادت و اطاعت کاایک Package  Complete ہے۔  
’’ فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرناسب کچھ اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے‘‘ (المائدہ/162)۔حج فی الواقع بہت بڑی عبادت ہے اور بہت سی عبادات کی جامع! حج میں ہجرت کا رنگ بھی شامل ہے اور جہاد کا اسلوب بھی۔اس میں ذکر و دعا بھی ہے اور رکوع و سجود بھی۔ مزدلفہ کی رات کی خاموش عبادت بھی اور لاکھوں کے مجمع میں یومِ عرفہ کا خطبہ بھی۔احرام کی کفن نما پوشش بھی ہے اور عید کا خوش آئند لباس بھی۔ وہاں آنسوئوں کی جھڑیاں بھی ہیں اور مسکراہٹوں کی کلیوں کی لڑیاں بھی۔آدمی تھوڑی دیر کے لئے تارکِ دنیا بھی ہو جاتا ہے اور پھر نئی شخصیت کے ساتھ فاتحانہ شان سے دنیا کے دروازے پر دستک بھی دیتا ہے۔بے شمار قبیلے اس کے اپنے بن جاتے ہیں ، کتنے ممالک اسے اپنے ملک لگنے لگتے ہیں، مختلف بولیوں میں وہ ایک ہی جیسے معانی جھلملاتے دیکھتا ہے۔ عصبیتوں اور محدود قومیت کے تالاب سے آگے بڑھ کر وحدت کے ایک سمندر میں شامل ہوجاتا ہے۔
حاجی جب اللہ اکبر کہتا ہے تو وہ یہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے دل سے مان لیا کہ خدا ساری قوتوں سے بڑی قوت ہے، اور اس کا دین برتر ہے، اور اس کا قانون سب سے فائق ہے، اس کا اقتدار سب پر غالب ہے اور اس کا حکم ہر طرف جاری و ساری ہے۔ وہ جب لبیک الٰلھم لبیک کہتا ہے تو دراصل اپنے آپ کو بارگاہِ الٰہی میں پیش کرتا ہے کہ میں آپ کی پکار پر حاضر ہوں اور عمل سے اقرار کرتا ہے کہ جدھر آپ بلائیں گے، ادھر مجھے حاضر پائیں گے، جدھر سے آپ ہٹائیں گے ادھر سے ہٹ جائوں گا۔ پھر اپنے احرام سے وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ میں نے اپنے آپ کو موت کے اس خط پر کھڑا کر دیاہے جس سے مجھے ایک نہ ایک دن آگے جانا ہے اور زندگی کا حساب پیش کرکے جزا و سزا سے حصہ پانا ہے۔وہ جب بیت اللہ نامی مکان کا طواف کررہا ہوتا ہے تو دراصل اس کی روح خداوند ِ لامکانی کا طواف کرکے یہ ظاہر کرتی ہے کہ میرا مرکز و محور صرف ذاتِ الٰہی ہے، اس کی طرف لپکنا ، اسی سے محبت ، اسی کے لئے فدائیت اور اسی کی اطاعت! وہ جب حجر اسود کا استلام کرتا ہے تو اس کے درجات در اصل اپنے رب و الہٰ کے سنگ ِ آستاں کو چوم رہے ہوتے ہیں۔ وہ جب مقامِ ملتزم پر کھڑے ہو کر ایمان و بخشش کی دعائیں کرتا ہے تو وہ گویا ایوانِ محبوب کی چوکھٹ کو تھامے ہوئے ہوتا ہے اور بے اختیار روتا ہے۔ وہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے اور پھر لمبی پیاس کے ماروں کی طرح پیٹ بھر کر آبِ زمزم پیتا ہے اور اگر جذبہ صحیح ہو تو آبِ زمزم شفاء القلوب ہے۔حاجی ، حضرت ابراہیم علیہ السّلام ؑ ، حضرت ہاجرہ ؑاور حضرت اسماعیل علیہ السّلام کے احوال و جذبات سے حصہ پانے کے لئے  صدیوں پہلے کی تاریخ کو کھینچ لاتا ہے۔مقامات و آثار اسے کچھ وقت کے لئے اس روح پرور ماحول میں لے جاتے ہیں جو صدیوں سے اطاعت و بندگی کی عظیم مثالیں رہی ہیں۔وہ جب عرفات کے بے پایاں ہجوم میں موجود ہوتا ہے تو اس کے سامنے میدانِ حشر کا سا نقشہ آجاتا ہے۔ وہ قربانی کرتا ہے توحضرت ابراہیم علیہ السّلام کے اس ارشاد کا صحیح مفہوم نقش ہو جاتا ہے کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ رب العالمین کے لئے ہے۔
حج میں وقت کی قربانی ہے، مال کی قربانی ہے، آرام و آسائش کی قربانی، بہت سے دنیاوی تعلقات کی قربانی ہے، بہت سی نفسانی خواہشوں  اور لذتوں کی قربانی ہے اور یہ سب کچھ اللہ کی خاطر ہے، کوئی ذاتی غرض اس میں شامل نہیں ہے، پھر اس سفر میں تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ مسلسل خدا کی یاد اور خدا کی طرف شوق و عشق کی جو کیفیت آدمی پر گزرتی ہے وہ اپنا ایک مستقل نقش دل پر چھوڑ جاتی ہے جس کا اثر برسوں قائم رہتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ حج مومن کی زندگی میں تبدیلی لائے بلکہ چاہئے کہ یہ ایک فیصلہ کن موڑ بن جائے ، گناہوں کو ترک کرکے پاکیزہ زندگی گزارنے کا نقطہ ٔآغاز ہو، بندہ اپنے رب سے شعوری طور پر ایک عہد و پیمان اور تجدید وفا کا عزم کرکے،صرف سلا ہوا لباس ہی نہ اتارے بلکہ وہ لباسِ معصیت جس میں سر تا پا جکڑا ہوا ہے اسے بھی اتار پھینکے۔ حکیم الامت علامہ اقبال ؒنے خوب فرمایا ہے  ؎
مومناں را فطرت افروز است حج 
ہجرت آموز و وطن سوزست حج  
یعنی حج مومنوں کی فطرت کو منور کرنے والا ہے۔حج گھربار چھوڑنے کی تعلیم دیتا ہے اور وطن کی محبت دل سے نکال دیتا ہے۔
حرم کی سرزمین پر پہنچ کر زائرِ حرم قدم قدم پر ان لوگوں کے آثار دیکھتا ہے جنہوں نے اللہ کی بندگی و اطاعت میں بہت کچھ قربان کر دیا تھا۔دنیا بھر سے لڑے، مصیبتیں اٹھائیں، جلا وطن ہوئے، ظلم سہے مگر بالآخر اللہ کا کلمہ بلند کرکے چھوڑا، اور انسان سے اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرانے والے ہر باطل کا سر نیچا کرکے ہی دم لیا۔
رابطہ :بڈگام کشمیر،9858064648