تازہ ترین

نئی تعلیمی پالیسی کو کابینہ کی منظوری

سکولی اور اعلیٰ تعلیم میں بڑی تبدیلیاں، ابتداء سے سکینڈری تک 4مدارج مقرر

تاریخ    30 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی// نئی تعلیمی پالیسی نے  2035 تک اعلی تعلیم میں مجموعی اندراج کے تناسب کو بڑھا کر کم سے کم 50 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس میں اسکول کی تعلیم سے لے کر اعلی تعلیم تک میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئیں۔نئی تعلیمی پالیسی کے تحت متعدد داخلی اور خارجی نظام نافذ کیے گئے ہیں۔ آج کے نظام میں، اگر چار سال انجینئرنگ یا 6 سمسٹرس کے بعد، طلبہ کسی وجہ سے آگے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر  ہوجاتے ہیں تو پھر اس کا کوئی حل نہیں ہوتا لیکن ملٹی پل انٹری اور ایگزٹ سسٹم (متعدد داخلی اور خارجی نظام) میں ایک سال کے بعد سرٹی فیکٹ، دو سال بعد ڈپلوما اور 3اور 4 سال بعد  ڈگری مل  جائے گی۔ طلبہ کے مفاد میں یہ ایک اہم فیصلہ ہے۔اسکول کی تعلیم میں کی گئی تبدیلی کے تحت، 6-9 سال کی عمر کے بچوں جو عام طور پر 1-3 کلاسوں میں ہوتے ہیں،ان کے لئے ایک قومی مشن شروع کیا جائے گا  تاکہ بچے بنیادی خواندگی اور اعداد کو سمجھ سکیں۔ اسکولی تعلیم کے لئے خصوصی تعلیمی نصاب 5 + 3 + 3 + 4  نافذ کئے گئے ہیں۔ اس کے تحت، 3-6 سال کا بچہ اسی طرح تعلیم حاصل کرے گا تاکہ اس کی بنیاد خواندگی اور اعداد شمار کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکے۔ اس کے بعد مڈل اسکول یعنی 6-8 کلاس میں ، مضمون کا تعارف کرایا جائے گا۔ کلاس 6 کے بعد سے، بچوں کو کوڈنگ کی تعلیم دی جائے گی۔نئی تعلیمی پالیسی کے تحت، 3-6 سال کے درمیان تمام بچوں کے لئے معیاری ابتدائی بچپن کی دیکھ بھال اور تعلیم کو یقینی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں کی ضروریات کو آنگن واڑیوں کے موجودہ نظام اور 5 سے 6 سال کی عمر کے بچوں کو کھیلوں پر مبنی نصاب کے ذریعہ پورا کیا جائے گا، جو این سی ای آر ٹی  کے ذریعہ تیار کیا جائے گا۔ ابتدائی بچپن کی تعلیم ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ، ویمن اینڈ چائلڈ ڈویلپمنٹ، صحت اور خاندانی بہبود اور قبائلی امور کی وزارتیں مشترکہ طور پر بنائیں گی اور ان کا نفاذ کریں گے۔ اس کی جانے والی رہنمائی کے لئے ایک خصوصی مشترکہ ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔بنیادی خواندگی اورا قدار پر مبنی تعلیم کے ساتھ تعداد پر توجہ دینے کے لئے ترجیحی بنیاد پر ایک قومی خواندگی اور شماریاتی مشن قائم کیا جائے گا۔ گریڈ ایک سے تین کو ابتدائی زبان اور ریاضی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ این ای پی 2020 کا ہدف یہ ہے کہ گریڈ 3 تک کے ہر طالب علم کو سال 2025 تک بنیادی خواندگی اور اعداد کا علم حاصل کرلینا چاہئے۔ اسکول میں تمام مضامین یعنی سائنس، سوشل سائنس، آرٹس، زبان، کھیل، ریاضی وغیرہ پر پیشہ ورانہ اور تعلیمی سلسلے کے انضمام پر یکساں زور دیا جائے گا۔مختلف اقدامات کے ذریعہ سال 2030 تک تمام اسکول کی تعلیم کے لئے 100 فیصد مجموعی اندراج کے تناسب کو حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کوہدف کو یقینی بنانا ہے کہ پیدائش یا پس منظر کے حالات کی وجہ سے کوئی بھی بچہ سیکھنے اور ان کو بہتر بنانے کے کسی بھی مواقع سے محروم نہ رہ جائے۔ معاشرتی اور معاشی طور پر پسماندہ گروپوں پر خصوصی زور دیا جائے گا۔ پسماندہ علاقوں کے لئے خصوصی تعلیم کا شعبہ اور علیحدہ صنفی شمولیت فنڈ قائم کیا جائے گا۔اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے ایک جامع ہمہ جہتی  (امبریلا)ادارہ ہوگا جس کے تحت معیاری ترتیب، فنڈنگ، منظوری اور ضابطہ کے لئے آزاد یونٹ قائم کیے جائیں گے۔ پیشہ ورانہ تعلیم ہر طرح کی تعلیم کا لازمی جزو ہوگی۔ نئی تعلیمی پالیسی کا مقصد سال 2025 تک 50 فیصد طلبا کو پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کرنا ہے۔نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن تحقیق اور اختراعات  کو فروغ دینے اور توسیع دینے کے لئے ملک بھر میں ایک نئی یونٹ تشکیل دے گی۔متعدی بیماریوں اور عالمی وبائی امراض میں اضافے کے پیش نظر، آن لائن تعلیم کو فروغ دینے کے لئے سفارشات کا ایک جامع مجموعہ تیار کیا جائے گا، تاکہ جب بھی اور جہاں بھی روایتی اور ذاتی طور پر تعلیم کے طریقوں کا امکان ممکن نہ ہو، انہیں معیاری تعلیم کا متبادل دیا جائے۔ تعلیمی پالیسی کا مقصد سو فیصد نوجوانوں اور بالغوں کی خواندگی کو حاصل کرنا ہے۔
 

فیصلہ 34سالہ تبادلہ خیال کا ثمرہ

یو این آئی
 
نئی دہلی // مرکزی کابینہ نے ملک میں اسکولی اور اعلی تعلیم میں غیرمعمولی تبدیلی لانے کے لئے تاریخی اور زیرانتظار نئی تعلیمی پالیسی کو آخر کار بدھ کو منظوری دے دی۔نئی تعلیمی پالیسی میں انسانی وسائل فروغ کی وزارت کا نام بدل کروزارت تعلیم کردیا گیا ۔ تقریباًً 34برس کے بعدملک کو ایک بار پھر نئی تعلیمی پالیسی ملی ہے۔وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کی میٹنگ میں اس پالیسی کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ میں انسانی وسائل کو فروغ کے وزیر ڈاکٹر رمیش پوکھریا ل نشنک بھی موجود تھے۔ڈاکٹر نشنک نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں  کو بتایا کہ آج کا دن تاریخی دن ہے۔ نئی تعلیمی پالیسی میل کا پتھر ثابت ہوگئی۔ نئی تعلیمی پالیسی پر تبادلہ خیال کے دوران دو لاکھ 25ہزار مشورے آئے۔ملک کی تاریخ میں نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ میں اتنے طویل عرصہ تک کوئی تبادلہ خیال نہیں ہوا۔اعلی تعلیم کے سکریٹری امت کھر ے نے ملک میں تعلیم کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 1948-49میں یونیورسٹی ایجوکیشن کمیشن قائم ہوا تھا اور اس کے بعد سیکنڈری ایجوکیش کمیشن 1952-1953میں قائم ہوا۔اس کے بعد 1964-66میں ڈی ایس کوٹھاری کی صدارت میں تعلیم کمیشن قائم ہوا جس کی بنیاد پر 1968میں ملک میں پہلی بار قومی تعلیمی پالیسی بنی۔ اس کے بعد 1976میں 42ویں آئینی ترمیم کے تحت تعلیم کو کنکرینٹ لسٹ میں شامل کیا گیا اور 1986میں قومی تعلیمی پالیسی بنی جو اب تک چل رہی تھی لیکن 1992میں اس میں تھوڑی ترمیم کی گئی۔ اس کے بعد اب نئی تعلیمی پالیسی بنی اور اس کے لئے سبرامنیم اور کستوری رنگن کمیٹی قائم ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے لئے قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ ریاستی سطح پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور ماہرین تعلیم ہی نہیں عام لوگوں سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ اس پالیسی میں کئی سطح پر ڈگری ڈپلوما وغیرہ کا التزام ہوگا اور ہنرمندی پر زور دیا جائے گا اور مختلف موضوعات اور شعبوں کو شامل کیاجائے گا۔ کریڈٹ سسٹم اور گریڈ کی خودمختاری دی جائے گی۔آن لائن تعلیم پربھی زور دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ا بھی  اس پرمجموعی گھریلو پیداوار کا  4.3فیصد تعلیم پر خرچ ہوتا ہے جسے اب بڑھا کر چھ فیصد کیا جائے گا اور پرائیویٹ، سرکاری اور ٹرسٹ کی حصہ داری بھی ہوگی۔خیال رہے کہ جب پچھلی حکومت میں جب محترمہ اسمرتی ایرانی انسانی وسائل کو فروغ کی وزیر بنی تھیں تب سے نئی تعلیمی پالیسی بنانے کا عمل شروع ہوا اور اس طرح تقریباً چھ برس بعد اس تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دی گئی اور آخرکا ر مودی کابینہ نے اس پر اپنی مہر لگا دی۔