دہلی میں لاک ڈاؤن سے فضائی آلودگی میں کمی،نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 70فیصد کی تخفیف

تاریخ    29 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی// اقوام متحدہ نے کل کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران دارالحکومت دہلی میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 70 فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ ہوا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح زیادہ ہونے سے سانس لینے سے متعلق بہتر ساری پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں اور گاڑیاں اس فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔منگل کے روز جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی 'اربن ورلڈ میں کووڈ ۔19' رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی لگانے سے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں کارآمد ثابت ہوئی لیکن اگر شہروں کو کسی پالیسی کے بغیر دوبارہ کھول دیا گیا تو یہ حصولیابی عارضی ثابت ہوسکتی ہے ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گرین ہاؤس گیس کے اخراج اور آلودگی میں کمی کو برقرار رکھنے کے لئے شہروں کو دوبارہ کھولنے سے پہلے آلودگی میں کمی کی پالیسی پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور کاربن گیس کے اخراج میں کمی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔اقوام متحدہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کا مرکز شہری علاقہ ہے ۔ شہری علاقوں میں 90 فیصد کورونا وائرس کے انفیکشن سامنے آئے ہیں۔ متعدد مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہوا کا خراب معیار کا گہرا تعلق کورونا وائرس کے انفیکشن کی وجہ سے ہونے والی موت سے ہے ۔ نائٹروجن آکسائڈ کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں امریکہ میں اموات کی شرح میں آٹھ فیصد اور ہالینڈ میں 21.4 فیصد کا اضافہ درج ہواہے ۔ وائرس کے انفیکشن کا پھیلاؤ شہری آبادی کی کثافت اور ٹریفک کے تمام راستوں سے ہوتا ہے ۔اس رپورٹ کے مطابق دہلی میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی سطح میں 70 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے ، جبکہ امریکہ کے مختلف شہروں میں یہ سطح 18 سے 40 فیصد، جرمنی اور بیلجیم میں 20 فیصد اور چین کے شہری علاقوں میں 40 فیصد کم ہوئی ہے ۔ اس رپورٹ کے اجراء کے موقع پر اپنے ریکارڈ شدہ پیغام میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتیرش نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس حقیقت کو سمجھیں اور شہروں کو مزید جامع، پائیدار اور مدافعتی قوت سے بھرپور بنائیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں ممبئی کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپریل تک نشان زد کیے گئے کنٹینمنٹ زون کا 30 فیصد حصہ جھگی بستی کا تھا اور 60 فیصد حصہ جھگی بستیوں کے آس پاس تھا۔یو این آئی
 

تازہ ترین