کشمیر میں کووڈ مینجمنٹ

کاغذی گھوڑے نہ دوڑائیں،عملی طور کچھ کریں!

تاریخ    29 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


 کووڈ مریضوں کے علاج و معالجہ میں خامیوں کے سنگین الزامات کے بیچ کشمیر انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ روز کہا گیا کہ صوبہ کشمیر کے ہسپتالوں میں 4ہزار بیڈ ایسے ہیں جن کو آکسیجن سپورٹ دستیاب ہے جبکہ صرف350بیڈ ہی کورونا مریضوں کے زیر استعمال ہیں جبکہ باقی خالی پڑے ہیں۔اسی طرح کہاگیا ہے کہ پورے صوبہ میں کچھ13ہزار کے قریب بیڈ ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے دستیاب رکھے گئے ہیں جن میں سے صرف6ہزار بیڈ زیر استعمال ہیں جبکہ باقی خالی پڑے ہیں ۔یہ بھی کہاگیا ہے کہ کشمیر کے ہسپتالوں میں اب 300وینٹی لیٹر دستیاب رکھے گئے ہیں جبکہ فی الوقت صرف6مریض ہی وینٹی لیٹر پر ہیں۔
حکومتی اعدادشمار سے انکار نہیں ۔اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ آکسیجن سپورٹ والے بیشتر بیڈ خالی ہیں تو ہسپتالوں میں کیوں کہرام مچا ہوا ہے ؟۔ کیوں صدر ہسپتال سے لیکر سی ڈی ہسپتال اور جے ایل این ایم سے لیکر صورہ ہسپتال تک آکسیجن بیڈوں کیلئے ہاہاکار مچی ہوئی ہے؟۔اگر حکومت کا ہی مان لیاجائے کہ 4ہزار میں سے صرف 350آکسیجن سپورٹ والے بیڈ کورونا مریضوں کے زیر استعمال ہیں تو پھر باقی مریضوں کو آکسیجن کیوں نہیں مل پارہا ہے ؟ کیوں صدر ہسپتال میں مریضوں کو آکسیجن پوائنٹ حاصل کیلئے عملی طور بھیک مانگنا پڑرہی ہے ؟۔حکومت انکار کرسکتی ہیں لیکن زمینی حقائق جھوٹ نہیں بولتے ۔صدر ہسپتال میں حالت یہ ہے کہ کاغذی طور سینکڑوں آکسیجن پوائنٹ دستیاب ہیں لیکن زمینی سطح پر بیشتر آکسیجن پوائنٹ خراب پڑے ہیں اور مریضوں کو آکسیجن کیلئے ترسنا پڑرہا ہے ۔گزشتہ دنوں ایک خاتون مریضہ ،جو عارضہ قلب میں مبتلا تھیں، کو کئی گھنٹوں تک آکسیجن پوائنٹ نصیب نہ ہوا اور وہ ہسپتال کی ایمر جنسی لابی میں ہی ایک سٹریچر پر دم توڑ بیٹھی ۔یہ محض ایک واقعہ ہے ۔اسی طرح کی بیسیوں مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔
اسی طرح اگر کورونا مریضوں کیلئے ہسپتالوں میں بستروں کی کوئی کمی نہیں ہے تو پھر ہسپتال کیوں بھرے پڑے ہیں اور کیوں بستروں کیلئے ہاہاکار مچی ہوئی ہے ۔ صدر ہسپتال گوکہ غیر کووڈ ہسپتال ہے لیکن اس ہسپتال کے بیشتر وارڈ بھی کووڈ کیلئے مخصوص رکھے گئے ہیں اور صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ ہسپتال میں آج کل جو بھی علاج کیلئے داخل ہوتا ہے ،اُس کو کووڈ مشکوک قرار دیکر کووڈ مریضوں کیلئے مخصوص وارڈوں میں داخل کیاجاتا ہے اور ان وارڈوں میں خود حکومت کے وضع کردہ کووڈ ضابطہ کار پر کوئی عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔بے شک طبی عملہ جانفشانی سے کام کررہا ہے لیکن ان کووڈ وارڈوں میں سماجی دوری کا کوئی پاس و لحاظ نہیں ہے اور برائے نام آئیسو لیشن وارڈوںمیں 50مریضوں کو ٹھونسا گیا ہے جن کے ساتھ ہمہ وقت دو سے تین تیماردار بھی رہتے ہیں کیونکہ یہ مریض خود کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ہیں۔اگر حکومت کی دلیل مان لی جائے کہ ابھی صرف 6ہزار ہی بسترے زیر استعمال ہیں اور باقی سات ہزار خالی پڑے ہیں تو ہسپتالوں کے کووڈ وارڈوں میں یہ بھیڑ بھاڑ کیوں کی جارہی ہے ۔کیا حکام سے پوچھا نہیں جاسکتا کہ اگر آپ کے پاس اتنی بڑی تعداد میں بسترے پڑے ہیں تو آپ آئیسولیشن وارڈوں کو حقیقی معنوں میں آئیسولیشن وارڈ کیوں نہیں بنا رہے ہیں ؟۔ کیوں اتنے سارے بیڈ خالی ہونے کے باوجود تمام کووڈ و غیر کووڈ ہسپتالوںمیں آپ مریضوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک رہے ہیں ۔
حکومت کہتی ہے کہ سماجی دوریاں بنائے رکھے لیکن جب آپ کے ہسپتالوں میں بھی سماجی دوریوں کا جنازہ نکالاجارہا ہو تو مریض کہاں شفایاب ہونگے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس غیر سنجیدگی کی وجہ سے آپ کے ہسپتال ہی کورونا کے ہاٹ سپاٹ بن جائیں ۔ویسے وہ بھی ہورہا ہے ۔اب ہسپتالوں سے لگاتار طبی و نیم طبی عملہ کے کورونا سے متاثر ہونے کی خبریں موصول ہورہی ہیں جبکہ بہت سارے مریضوں کی یہ شکایت بھی ہے کہ انہیں کورونا انفیکشن ہسپتالوں سے ہی لگا ہے ۔اگر واقعی ایسا ہے تو یہ سنگین صورتحال ہے اور حکومت کو اس کا کچھ نہ کچھ تدارک کرنا پڑے گا۔اس حقیقت سے قطعی انکار کہ ڈاکٹر اور نیم طبی عملہ جانفشانی سے کام رہے ہیں لیکن جب ہسپتالوں میں وہ ماحول ہی میسر نہ ہو تو کہیں ہم نادانستہ طور اپنے ان ڈاکٹروں اور نیم طبی عملہ کی محنت پر پانی تو نہیں پھیر رہے ہیں ؟۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر حکومت کو بہر حال بلا تاخیر غور کرنا ہی پڑے گا۔
یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگر جسمانی دوری یقینی بنانی ہے تو ہسپتالوں میں عوام کا رَش کم کرنا ہے اور یہ رَش صرف اسی صورت میں کم ہوسکتا ہے جب وہاں داخل مریضوں کی بہتر نگہداشت یقینی بن سکے ۔فی الوقت یہ صورتحال ہے کہ ہمارے سبھی ہسپتالوں میں عملہ کی شدید قلت ہے ۔عمومی حالات میں وہاں عملہ کی قلت تھی اور جب وارڈوںکے وارڈ مریضوں سے بھرے پڑے ہیں تواس رَش سے نمٹنے کیلئے عملہ کہاں سے آئے گا۔بارہا ارباب اقتدار سے استدعا کی گئی تھی کہ ہنگامی بنیادوںپر ماہانہ مشاہرہ ،عارضی یا کنٹریکچول بنیادوںپر طبی و نیم طبی عملہ تعینات کیاجائے لیکن ایسا لگ رہا ہے کہ اقتدار کے گلیاروں میں بیٹھے لوگوں کی ترجیحات کچھ اور ہی ہیں۔اگر سرکار کے پاس بجٹ کی قلت کا مسئلہ ہے تو رضاکارنہ بنیادوں پر اس عملہ کی تعیناتی عمل میں لائی جاسکتی ہے لیکن سرکار ایسا بھی نہیں کررہی ہے حالانکہ نوجوانوںکی ایک بڑی تعداد رضاکارانہ بنیادوں پر اپنی خدمات میسر رکھنے کیلئے تیار ہیں ۔
طبی شعبہ کی مختلف سطحوں پر یہ تضاد قطعی کسی کے مفاد میں نہیںہے اور جتنی جلدی اس تضاد کو ختم کیاجاتا ہے ،اتنا ہی بہتر رہے گا اور جتنا اس میں تاخیر کی جائے گی ،اتنا ہی اس کے سنگین نتائج نکلیں گے جس کیلئے پھر حکومت کے سوا کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا یاجاسکتا کیونکہ ہم مسلسل حکام کو خامیوں کی نشاندہی کرتے آرہے ہیں ۔
 

تازہ ترین