تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    26 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


اِن تیز ہواؤں کو تُم بادِ صبا لکھنا
کانٹوں کے بچھونے کو پھولوں کی قبا لکھنا
 
جب فصلِ بہاراں میں گُلشن ہی اُجڑ جائے
اِس حال میں پھولوں کی تقدیر ہی کیا لکھنا
 
سوچوں میں ذہن سارے اُلجھے ہوے رہتے ہیں
تقدیر کی تختی پر کوئی تو دُعا لکھنا
 
تُم نُقطہِ اوّل بھی آخر بھی تُمہی تُم ہو
مُجھکو مرے ہرجائی کیا تیرے سوا لکھنا
 
راتوں کی سیاہی میں صدیوں کو گُزارا ہے
اب ایک ہی شیوہ ہے ظُلمت کو ضیاء لکھنا
 
آ جاؤ کبھی زد میں تُم گردشِ دوراں کی
اُنگلی سے ہواؤں میں بس نامِ خُدا لکھنا
 
شاید کہ وہ سُن ہی لے جاویدؔ صدا میری
فریاد پُرانی ہے انداز نیا لکھنا
 
سردارجاویدؔخان
پتہ، مہنڈر ، پونچھ ،رابطہ؛ 9419175198
 
سر پھری اتنی نہ تھی موجِ ہوا شام کے بعد 
بجھ گیا کیسے مرے گھر کا دیا شام کے بعد 
کارواں رختِ سفر چھوٹ گیا  شام کے بعد 
اس قدر تیز ہوئی موجِ بلا شام کے بعد 
دیکھ کر رنگِ شفق کوہ ودمن سے تا فلک
آگیا یاد ترا دستِ حِنا شام کے بعد 
روشنی کیسی مرے فرشِ تمنا پہ پڑی 
 آ رہی ہے کہاں سے عطرِ قبا شام کے بعد
صبحِ دم ایک سناٹا سا مرے شہر چھایا تھا 
کُو بہ کُو آگ لگی شور اُٹھا شام کے بعد 
ہر طرف ظلم و ستم دیکھ کے توپوں کا غبار 
خون روتی ہے یہاں چشمِ فضا شام کے بعد 
کیوں سیاہ بخت بدل سکتا نہ عارفؔ ہے میرا
جو قرینے سے اُٹھے دستِ دعا شام کے بعد 
 
جاوید عارف ؔ
شوپیان کشمیر 
موبائل نبر؛7006800298
 
چاند تاروں کو رات بھر دیکھا
ہم نے جب غم میں جاگ کر دیکھا
 
ڈوب جائوں نہ کیوں سمندر میں
اسکی آنکھوں میں اپنا گھر دیکھا
 
اسکو چاہا تو یوں ہوا رسوا
اپنا چرچا اِدھر اُدھر دیکھا
 
پھر یکایک بدل گیا منظر
بُت اَنا کا جو توڑ کر دیکھا
 
میں بُھلاؤں اُسے بتا کیسے
خواب میں بھی اُسکا در دیکھا
 
موت کا خوفناک وہ منظر
لاکھ چاہا نہ دیکھیں پر دیکھا
 
کیسے منزل تلاشتا راشد ؔ
راہ دیکھی نہ راہبر دیکھا 
 
راشدؔ اشرف
کرالہ پورہ سرینگر 
موبائل نمبر؛9622667105
 
لب پہ مچل رہی ہیں دعائیں بے شمار 
گردش میں ہیں زمیں پر بلائیں بے شمار 
غافل ہو ں گناہوں سے یارب مجھے سنبھال  
لرزش قدم قدم پہ ، ہیں خطائیں بے شمار  
جسموں پے لاد رکھے ہیں سانسوں کا بوجھ ہم  
سوچوں کو مل رہی ہیں سزائیں بے شمار  
بے چین ہے، بے خواب، بے جان ہے بہار 
بے خوف ہوکے گھومتی ہیں ہوائیں بے شمار    
شہر خموشاں میں ہیں فصیلیں ہی فصیلیں 
ٹکرا کے لوٹ آتی ہیں صدائیں بے شمار  
یہ کیسی چاشنی ہے میری اُردو زبان میں 
کہ پڑھتے ہیں سب اسے اپنائیں بے شمار 
سرحد کی نفرتوں کو بھی مٹادینگی ایک دن 
دلوں کے تار جوڑتی ہیں فضائیں بے شمار   
وہ شاہینؔ کیا جانے آسمان کی وسعتیں 
قیدی بنی ہوئی ہے جس کی ادائیںبے شمار   
 
رفعت آسیہ شاہین ؔ
وشاکھاپٹنم ۔آندھرا پردیش 
موبائل نمبر؛9515605015
 
 
سرمایہ محبت کا ہم نے جو یہ پایا ہے
قدرت نے نیا عالم کیسا یہ دِکھایاہے
 
خواہش ہوئی پوری کیا ہے اس دل مضطر کی!
چاہا تھا جِسے اُس نے اُس کوہی تو پایا ہے
 
اب چھوڑ رویہ یہ، رُخ اپنا دِکھا تو دے
چاہت نے تری ہم کو کیسے نہ ستا یا ہے
 
تم روٹھ بھی جائو تو پھر لوٹ کےا ٓئوگے
خوشیوں سے بھری دنیا کا جشن منایا ہے
 
کیسی بھی ہوائیںہوں، کیسا ہی کورونا ہو؟
گلشن کے ہر ایک گُل میں صورتؔ کو ہی پایا ہے
 
صورت سنگھ
رام بن، جموں
موبائل نمبر؛9622304549
 
 
دنیا گورکھ دھندا اور
حرص و ہوس کا مایا جال
 
چاند ستاروں میں رہ لیں
دھرتی پر ہے سُکھ کا کال
 
راہ بھٹکتے ہم کیونکر؟
ہو نہ کہیں رہبر کی چال
 
سوختہ دل ہے زخمی رُوح
اس پر اُن کا پوچھا حال
 
آہ و فغاں، یاس و حسرت
اور بھی کچھ دامن میں ڈال
 
بِرہا رُت کی اَگنی چھاپ
اَمبر بھی ہے لالم لال
 
ہم سے آس لگائے ہو!
ہم ٹھہرے نِردھن کنگال
 
افروزہ منظور
دلنہ بارہمولہ