تازہ ترین

دردبھری سحر

کہانی

تاریخ    26 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ظہور عالم
جولائی کے 15دن گزر چکے تھے ۔ہر طرف ہریالی تھی۔لوگ کھیتوں میں اپنے کاموں میں مصروف تھے۔۔کھیتوں میں عجیب رونق تھی۔موسم بھی خوش گوار تھا۔۔شام کو لوٹتے ہی لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو کہانياں سنایا کرتے تھے۔صبح ہوتے ہی لوگ پھر سے اپنے گھروں سے نکل کر کھیتوں میں اپنے کام کے ساتھ مصروف ہوتے تھے۔۔
شام کے چار بجے کا وقت تھا اور لوگ اپنے گھرں کی اور کوچ کررہے تھے۔۔ان لوگوں میں گھر جانے کی سب سے زیادہ جلدی شریفہ کوتھی۔کیوں کہ اس کو چھوٹا بچہ تھا ،جو صرف تین ماہ کا تھا۔شریفہ گھر پہنچی تو دیکھا کہ بچہ زور زور سے رو رہا ہے۔ اس نے جلدی جلدی ہاتھ دھوئے اور بچے کو دودھ پلانا شروع کردیا۔بچہ پھر بھی روتا رہا۔
شریفہ نے بچے سے کہا کہ غالب چپ ہوجا ورنہ ابو جان آجائینگے۔بہر حال غالب چپ ہو اور دودھ پینے لگا  اور اپنی ماں کی گود میں سوگیا۔
6چھ بجے کا وقت تھا اور شریفہ اب شام کے کھانے کا انتظام کررہی ہے اور شہنازہ سے کہا ۔بیٹا ذرا پانی لا کے دو۔اس وقت شہنازہ کی غم چھ سال تھی۔اس نے اپنی امی کو پانی لا کے دیا اور امی۔۔۔۔امی۔۔۔ کہتے ہوئے زور زور سے رونے لگی۔
بیٹی کیوں رو رہی ہو؟ امی ۔ امی ابو جان کب تک گھر آجائینگے۔۔امی نے کہا میری جان آج آجائینگے۔تمہارے ابو نے خط میں لکھا تھا کہ میں 16 جولائی کو گھر آئینگے۔۔شہنازہ یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور ماں کے سینے سے لپٹ گئی۔
شام کے قریب ساڑے سات بج چکے تھے اور محمد رمضان گھر میں داخل ہوجاتا ہے۔۔شریفہ بہت خوش ہوجاتی ہے اور جلدی جلدی  شہناز کو کہتی ہے۔۔دیکھو کون آیا ہے۔۔تمہارے ابو ُجان آگئے ہیں۔
شہنازہ نے اپنے ابو کو دیکھا اور زور زور سے رونے لگی اور ابو کے سینے سے لگ گئی اور پھر کاندھے پہ چڑھی۔۔۔ابو نے کچھ مٹھائیاں شہنازہ کو دیں اور پھر مسکرایا۔۔ابو میری گڈیا کہاں ہے ۔۔۔ابو نے جلدی سے بیگ کھولا اور شہنازہ کو گڈیا دیدی ۔اور کہا میری بچی اب خوش ہےنا۔
شنہازہ ۔۔جی ابو جان بہت خوش ۔۔کتنی پیاری گڈیا ہے ۔۔اسے میں ہمیشہ اپنے پاس رکھو گی۔۔
ابو۔مسکراکے بولے سچ میں میری بیٹی پاگل ہے۔
شہنازہ۔۔ہاں ۔ہاہاہاہاہا۔۔
شریفہ۔۔اسی بیچ کہتی ہے ارے جی کھانا تیار ہے آجائو۔۔آپ تھک گئے ہونگے۔۔
جی ہاں آج بہت تھک گیا ہوں۔بدقسمتی سے آج کوئی گھوڑے والا بھی نہیں تھا، رمضان نے جواب دیا۔
شریفہ۔۔جیسے آج ہی جانا تھا ان کو بھی کہیں۔
رمضان ۔۔چلو جی اب کھانا بھی دو ۔
شریفہ ۔۔جی ہاں چلئے۔
رمضان ۔۔کھانا بہت اچھا ہے۔واہ بہت مزہ آیا۔
شریفہ۔۔ جی شکریہ ۔چلو اب آپ آرام کریں۔
رمضان۔۔ چلو جی چلو۔۔
دوسرے دن رمضان بازار کی طرف نکلا اور شریفہ سے کہا کچھ لانا تو نہیں ہے۔۔
شریفہ ۔۔جی ہاں آپ اماں جان کے لئے عینک ٹھیک کر کے لے آیئے ۔
رمضان۔۔ ٹھیک ہے جی، لاتے ہیں۔اس کے بعد رمضان بازار چلے گئے اور شریفا بھی کھیت کی طرف چل دی۔
شام کے چار بج چکے تو شریفا گھر آئی اور شہنازہ سے پوچھنے لگی کہ تمہارے ابو نہیں آئے۔ابھی تک۔
شہنازہ۔۔امی جان ابھی نہیں آئے۔۔قادر چاچا بول رہے تھےکہ وہ نانی کے گھر گئے ہیں۔۔
شریفہ۔ ۔۔اچھا پھر آرہے ہونگے اب۔کچھ دیر کے بعد رمضان بھی آیا ہے ۔۔ارے کیا باتيں ہو رہی ہیں ماں اور بیٹی کے بیچ میں۔ رمضان مسکرا کربولا۔
شریفہ ۔۔جی کچھ نہیں آپ ہی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
رمضان ۔۔اچھا جی۔۔چلو خیر۔مجھے بڑی بھوک لگی ہے ۔۔مجھے کچھ کھانے کو دو۔
شریفہ ۔۔چلئے چائے تیار ہے۔ہاں پی لیتے ہیں۔ چائے پینے کے بعد شریفہ نے کہا ۔۔۔ ارے جی شہنازہ کا داخلہ اسکول میں کرانا ہے اب۔ میں ابھی تک آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔
رمضان ۔جی میں نے بھی سوچ لیا ہے۔۔لیکن میری گڈیا یہاں نہیں پڑھے گی۔۔میری بیٹی تو اب فرقان اکیڈمی کشمیر میں پڑے گی۔اس بار میں نے آپ سب کو اپنے ساتھ لے جانا ہے۔۔
شریفہ۔۔ ۔سچ میں ۔۔۔
رمضان  جی ہاں ۔۔!آپ تیاری شروع کرلیجئے اور ہم کل ہی کشمیر روانہ ہو جائینگے۔صاب نے بھی چھٹی کم ہی دی ہے۔
شہناز نے امی ابو کی باتيں سنیں اور بہت خوش ہوئی کہ اب اس کا داخلہ سرینگر میں ہوگا۔۔اور پھر اپنے گاوں کے سہیلیوں سے کہا کہ اب ہم کشمیر جائینگے اور وہاں ہی رہیں گے۔کتنا مزہ آئے گا ۔۔۔
اسی بیچ میں ایک مہمان نے دروازہ کھٹکھٹا اور رمضان نے دروازہ کھولا۔۔اور اپنے دوست کو دروازے کے سامنے دیکھتے مسکرایا۔حسین آپ ۔۔۔اندر آئو۔۔دونوں ایک دوسرے سے گلےملے۔۔رمضان نے سریفہ سے کہا، ارے جی دیکھئے حسین آیا ہے۔۔
شریفہ ۔۔حسین آج بھی نہیں آتا تو پھر میں بھی دیکھتی یہ کیسے آپ سے بات کرتے۔۔
حسین ۔بھابی وقت ہی نہیں ملتا ہے۔ آج کل ہم کام میں بہت مصروف ہیں۔ آج میں  نے سناتھا رمضان آیا ہے تو میں  سارے کام چھوڑ کر ملنے آیا۔
شریفہ ۔۔چلو جی آپ دونوں باتیں کرلو۔ میں کھانا تیار کرتی ہوں ۔۔حسین کو بھوک لگی ہوگئی۔۔۔رمضان اور حسین باتوں  میں مصروف  ہوگئے اورشہنازہ بھی کشمیر جانے کی خوشی میں کنکڑیاں کھیلنے لگی۔
تب شریفہ نے آواز دی،ارے جی سنو۔کھانا تیار ہے ۔۔۔آجایئے۔دسترخوان بچھایا اور کھانا شروع کر دیا۔۔۔ حسین بھابی کھا نا تو بہت مزہ دار ہے۔۔ شکریہ۔۔
رمضان نے اپنے دوست کے لئے بستر ڈالا اور کہا چلو اب آپ آرام کر لو۔۔ہم بھی صبح جارہے ہیں۔
حسین ٹھیک ہے دوست خدا تمہيں  سلامت  رکھے۔۔ سب سو گئے صبح کا وقت قریب آرہا ہے۔۔۔صبح کے چار بج چکے تھے۔شریفہ نماز کے لئے اٹھی اور رمضان بھی جاگ گیا۔
اسی بیچ میں کہیں اعلان ہوا ہے کہ خبردار کوئی گھر سے باہر نہیں نکلے ۔۔باہر کرفیو نافذ ہے۔۔شریفہ ۔ڈرگئی ۔۔گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ۔ رمضان نے دلاسہ دیا۔ پتا چلا کہ فوج اور بندوق برداروںکے بیچ میںتصادم شروع ہوا ہے۔۔۔رمضان خود بھی ایک سپاہی تھا اور چھٹی پر گھر آیا تھا۔اپنے گھر کا دروازہ کھولا تو دیکھا برانڈےپر ایک فوجی جوان زخمی پڑا ہے اور پانی کی گزارش کر رہاہے ۔۔ا س کا درد رمضان سے سہا نہ گیا اور وہ جلدی اپنے گھر کے اندر داخل ہوا اور پانی کا مگ اٹھایا۔۔شریفہ ۔۔ارے جی آپ کہا جا رہے ہیں۔ باہر فائرنگ ہو رہی ہے۔ میرا دل گھبرا رہا ہے۔۔۔ ارے جی آپ فکر نہ کریں مجھے کچھ نہیں ہوگا۔ اس کو میری ضرورت ہے ۔۔اسے پانی چاہئے ۔میں کیسے یہاں اندر رہوں۔۔شریفہ نے جانے نہیں دیا تھالیکن رمضان پھر بھی دروازے سے پانی لے کر چلا گیا۔۔۔۔فوجی کے قریب پہنچتے ہی فوجی کے بندوق سے گولی نکل گی اور سیدھے رمضان کو لگی۔۔رمضان موقع  پرہی لقمہ اجل بن گیا۔۔۔۔اس طرح شریفہ،شہناز اور غالب کے خوابوں پر بجلی گر گئی اور سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔۔
���
سوندر دچھن کشتواڑ، موبائل نمبر؛7051779918