تازہ ترین

ابو لہبؔ۔۔۔۔

حق سے انحراف کا عبرتناک انجام

تاریخ    24 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


عمران بن رشید
تکبر بالاجماع ایک شیطانی جذبہ اور ایک گمراہ کُن صفت ہے۔سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ؐ نے فرمایا تکبر حق کو جھٹلانے اور لوگوں کو حقیر و ذلیل سمجھنے کا نام ہے۔ پیغمبرِاسلام حضرت محمدعربی ؐ پر جب یہ آیت اُتری ’’وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبَیْنَ‘‘ (اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراتے رہو)۔تو رسول اللہ ؐ وادیٔ بطحا کی طرف گئے اور وہاں موجود ’’صفا‘‘ نامی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر چڑھے اور آواز دی’’یاصباحاہ‘‘یہ وہ الفاظ ہیں جو اہلِ عرب اُس وقت پکارتے تھے جب کسی خطرہ کا انداشہ ہوتا۔آواز سنتے ہی اہلِ قریش پیاڑی کے نیچے جمع ہوگئے۔اوررسول اللہؐ نے اُن سے خطاب کرتے ہوئے وہ تاریخی خطبہ دیا جو سیرتِ نبویؐ میں ایک انقلابی نقطہ آغاز کی حیثیت رکھتا ہے۔آپؐ نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ اگر میں تم لوگوں کو بتائوں کہ اس پہاڑی کے پیچھے سے دشمنوں کا ایک لشکر آنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا مانوگے؟لوگوں نے جواب دیا کہ ہمیں تو آپ سے کبھی جھوٹ کا تجربہ ہوا ہی نہیں (لہٰذا آپ سچ ہی بول رہے ہونگے)آنحضرتؐ نے فرمایا’’فَاِنِی نَذِیْرٌلَکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابِِ شَدِیْد‘‘یعنی پھر میں تمہیں اُس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے آرہا ہے (بخاری۔4971)۔یہ سُن کر ابو لہب نے کہا ‘جو اس وقت وہاں موجود تھا ’’تَبَْالَکَ‘‘اے محمد ؐ تو تباہ ہو(نعوذ باللہ)کیا تونے اسی لئے ہمیں جمع کیاتھا۔ ابو لہب کے یہ گستاخانہ الفاظ سُن کر لوگوں کا سارا مجمع منتشر ہوگیا‘ گویا کہ ابو لہب کاتکبر اس کی اپنی ذات اور وہاں موجود دوسرے تمام لوگوں کے لئے حق سے دوری کا سبب بنا۔
سورۃاللہب کا نزول:۔ اس واقع کے بعد سورہ لہب نازل ہوئی جس میں اللہ تعلی نے ابو لہب اور اس کی بیوی دونوں کے لئے ایک بہت بڑی تباہی اور شدید وعید کا اعلان کیا۔
تَبّتْ یَدَا اَبِی لَھَبٍ وَّتَبََّ۔مَااَغْنٰی عَنْہُ مَالَہٗ وَمَاکَسَبَ۔سَیَسْلٰی نَارًاذَاتَ لَھَبٍ۔وَّامْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ                الْحَطَبِ۔فِیْ جِیدِھَاحَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ
’’ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ خود ہلاک ہوگیا۔نہ اس کے کام اس کا مال آیااور نہ جو کچھ اس نے کمایا۔عنقریب وہ شعلے والی آگ میں داخل ہوگا۔اور اس کی بیوی (بھی آک میں داخل ہوگی)جو ایندھن اُٹھانے والی ہے۔اس کی گردن میں مضبوط بٹی ہوئی رسّی ہوگی‘‘…  (ترجمہ۔تفسیردعوۃالقرآن)
ترتیبِ مصحف کے اعتبار سے یہ سورت قرآنِ مجید کی ایک سو گیارویں(۱۱۱)سورت ہے جو مکّہ میں نازل ہوئی۔ابو لہب نے چونکہ حق کو جھٹلایا اور دوسروں کو بھی حق سے روکا لہذا اللہ تعلی نے یہاں ماضی کے صیغے میں اُس کے عبرتناک مستقبل سے آگاہ کیا۔اوراُس کی بیوی اُمِ جمیل کے آگ میں ڈالے جانے کی خبر بھی دی۔وہ ایک بدکرداراورچغل خور عورت تھی ہمیشہ لوگوں میں فساد پھلاتی رہتی تھی۔دونوں میاں بیوی ابو لہب اور ام جمیل رسول اللہؐکے بدترین دشمن تھے انہیںجب بھی موقع ملتا تھاآپؐکی مخالفت کرتے۔چنانچہ تفسیردعوت القرآن میں ابوزنادؒ کی ایک روایت موجودہے ۔وہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے قبیلہ بنودیل کے ایک شخص نے بتایا جس کا نام ربیعہ بن عبادؓ تھااور وہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے‘وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ کو زمانہ جاہلیت میں ذوالمجاز بازار میں دیکھا ‘آپؐ فرمارہے تھے ’’یَااَیُھَاالنَّاسُ! قُولُوالَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہٗ تُفْلِحُوْا‘‘یعنی اے لوگو!لا الٰہ الا اللہ کہو فلاح پائوگے۔لوگ آپؐ کی بات سننے کے لئے جمع ہوجاتے مگر آپ کے پیچھے پیچھے ایک شخص تھا‘ اُس کا چہرہ روشن‘آنکھیں بھینگی اورسرپر بالوں کی دو مینڈھیاں تھیں۔وہ رسول اللہؐ کے بارے میں کہتا لوگو!اس کی بات نہ سننا یہ بے دین اورکذاب ہے(نعوذباللہ)۔آپ ؐ جہاں بھی تشریف لے جاتے ‘وہ آپؐ کے پیچھے پیچھے ہوتا۔میں نے آپ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے مجھے رسول اللہ ؐ کا نسب بتایااور انہوں نے مجھے بتایایہ آپ ؐ کا چچاابو لہب ہے(جلدپنجم صفحہ۔379)۔ 
 حق سے انحراف کا عبرت ناک انجام :۔ ابو لہب کا اصل نام عبدالعزاتھا ‘یعنی عزاکا بندہ۔البتہ وہ لوگوں کے درمیان ابولہب کے لقب ہی سے معروف تھا‘ جس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اُس کا چہرہ آگ کے مشابہ سرخ تھا اسی مناسبت سے اُسے ابو لہب کہا جاتا تھا ۔
’ ’اللہب‘‘بے دھوئیں کے شعلے کو کہا جاتا ہے۔ بہر حال سورہ لہب کے نزول کے قریب قریب آٹھ سال بعد ’غزوئہ بدر‘ کا معرکہ پیش آیا جس میں مسلمانوں کو زبردست فتح نصیب ہوئی اور کفارِ مکہ کا سارا سازو سامان فریبِ نظر ثابت ہوا۔مسلمانوں کی فتحیابی کی اطلاع جب مکہ پہنچی تو ابو لہب اس قدر مایوس اور خوف زدہ ہوا کہ گھر کے اندر محصور ہوکر رہ گیااور کھاناپیناتک چھوڑدیا۔اسی اثنا میں اسے ’’عَدَسَہ‘‘نامی ایک بیماری نے آپکڑلیااور اس کے پورے جسم پر چھوٹے چھوٹے دانے(pustules) نکل آئے جو اس کی ہلاکت کا باعث بنے۔ اس کی لاش کئی روز تک اس کے گھر میں پڑی رہی ‘جب اس سے بدبو آنے لگی اور آس پاس میں رہنے والوں کو تکلیف دینے لگی تو لوگوںنے لکڑیوں کے سہارے اس کی لاش کو کھینچ کھانچ کر بستی سے دور ایک گڑھے میں ڈال دیا۔
رابطہ : سیرجاگیر سوپور،کشمیر، 8825090545
 

تازہ ترین