تازہ ترین

کووڈ گائیڈلائنز یکساں تو عمل جداگانہ کیوں؟

تاریخ    23 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


گزشتہ چند روز سے سوشل ا ور مقامی مین سٹریم میڈیا میں تواتر کے ساتھ ایسی رپورٹس آرہی تھیںکہ باہر سے کشمیر آرہے غیر مقامی کامگاروں کو جواہر ٹنل پر کسی سکریننگ یا کووڈ ٹیسٹنگ کے بغیر ہی چھوڑا جارہا ہے ۔اس ضمن میں بانہال سے لیکر جواہر ٹنل اور قاضی گنڈ علاقہ تک ویڈیوز بناکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ خود حکومتی مشینری اپنے ہی وضع کردہ پروٹوکول کو فراموش کرکے مقامی آبادی کو خطرات سے دوچار کررہی ہے ۔بعد ازاں حسب روایت ایک تفصیلی بیان جاری کرکے بتایا گیا کہ اب تک کچھ12ہزار غیر مقامی مزدوروں کے کووڈ ٹیسٹ کئے گئے ۔گوکہ لوگوںکو حکام کی ان تاویلات پر بھروسہ نہیں ہورہا تھا لیکن چونکہ اعدادوشمار سرکاری سطح پر جاری کئے گئے تھے تو یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا تاہم اب جس طرح سے بڈگام اور دیگر اضلاع میں اینٹ کے بٹھوں سے غیر مقامی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آچکے ہیںتو حکومتی دعوے کافی حد تک خود بخود دھڑا م سے گر گئے ہیں کیونکہ ان مزدوروںکے ٹیسٹ جواہر ٹنل سے نہیں بلکہ اینٹ بٹھوں سے ہی لئے گئے تھے اور وہ وہیں کورونا مثبت قرار پائے ۔مطلب یہ ہے کہ ان کے ٹیسٹ کشمیر میں داخلہ کے وقت نہیں لئے گئے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ اُسی وقت مثبت آتے اور وہ اب تک کورونا مریضوںکیلئے مخصوص مراکز میں پہنچ بھی چکے ہوتے ۔
اس طرح کی غیر سنجیدگی کو کسی بھی طرح واجب نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ کشمیر میں ارباب اقتدار اور زمینی سطح پر کام کررہی سرکاری مشینری کورونا معاملات میں تشویشناک اضافہ کیلئے لگاتار لوگوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے انہیں غیرذمہ داری اور لاپرواہی کے طعنے دے رہی ہے لیکن سرکاری مشینری سے جڑے لوگوں اور حکام بالا کو اپنی غیر ذمہ داری اور لاپر واہی شایدنظر نہیں آرہی ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شاید اُن لوگوں کو جوابدہ بنایا گیا ہوتا جنہوںنے غیر مقامی مزدوروں کی ایک کثیر تعداد کو جواہر ٹنل عبو ر کرنے کے بعد کووڈ ٹیسٹ کروائے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت دی ۔
ہم قطعی کسی پر انگلی اٹھانا نہیںچاہتے ہیں لیکن جہاں نظام میں خامیاں موجود ہوں ،ان کی نشاندہی کرنا لازمی ہے کیونکہ جب نشاندہی ہوگی تب ہی اصلاح کی کوشش ہوسکتی ہے ۔ارباب بست و کشاد کو بھی معلوم ہے کہ بین صوبائی نقل و حمل پر پابندی ہے اور لازمی سفری اجازت نامہ اور کورونا منفی ٹیسٹ کے بغیر اس کی قطعی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ اقتدار اعلیٰ کو بھی معلوم ہے کہ جموں صوبہ کی انتظامیہ اس حوالے سے اتنہائی سنجیدہ ہے ،جس کا مظاہرہ وہ نہ صرف لکھن پور سرحد پر کررہے ہیںبلکہ جواہر ٹنل کے اُس پار بانہال کی حدود میں داخل ہوتے ہی اس کا برملا اظہار ہوتا ہے ۔دونوں مقامات پر مسافروں کو کووڈ ٹیسٹ کے بغیر آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔جواہر ٹنل پر تو سفری اجازت نامہ ہوکر بھی اُس وقت تک جموں کے حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جب تک مسافر تازہ ترین کورونا منفی ٹیسٹ نہ دکھائیں۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر سے جموں جانے کے خواہشمند لوگ اب پہلے ہی اپنا کووڈ ٹیسٹ کرواتے ہیں اور اس کے سفری اجازت نامہ حاصل کرکے سفر پر روانہ ہوتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس کے بغیر انہیں جواہر ٹنل سے واپس لوٹنا پڑے گا ۔
یہ تو جموں صوبائی انتظامیہ کی کووڈ 19-کے تئیں سنجیدگی کا عالم ہے لیکن کشمیر کی صوبائی انتظامیہ اس کے بالکل الٹ کام کررہی ہے ۔یہاں کشمیر میں داخلہ پوائنٹ (جواہر ٹنل لور منڈا )پر کہنے کوتو چیکنگ پوائنٹ قائم ہے اور وہاں محکمہ صحت کا کیمپ قائم ہے اور ساتھ ہی  پولیس کی ایک بھاری ٹکڑی کی معیت میں ڈیوٹی مجسٹریٹ بھی موجود رہتا ہے لیکن نہ جانے کیوں وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہورہے ہیں۔گاڑیاں آتی ہیں تو خانہ پُری کیلئے ان کے نمبر نوٹ کئے جاتے ہیں ،ہلکی سی عکس بندی کی جاتی ہے اور اس کے بعد اُن گاڑیوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے حالانکہ اس چیک پوسٹ پر تعینات سرکاری اہلکاروں کو بھی معلوم ہے کہ ان گاڑیوں میں جو لوگ سوارہوتے ہیں ،وہ کئی ریاستوں کی سرحدیں عبور کرکے کشمیر کی حدود میں داخل ہورہے ہیں اور ان کا کووڈ ٹیسٹ ہونا لازمی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی کورونا متاثر کشمیر میں داخل تو نہیںہورہا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہورہا ہے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کورونا کے حوالے سے رہنما ہدایات یوٹی سطح کی چیف سیکریٹری کی سربراہی والی ایگزیکٹیو کمیٹی جاری کررہی ہے تو یوٹی کے دو صوبوں میں ان پر عمل درآمد مختلف انداز میں کیوں ہورہا ہے ۔کیوں یوٹی کے ایک حصہ میں رہنما خطوط پر من و عن عمل ہورہا ہے اور دوسرے صوبہ میں ان رہنما ہدایات کو خود سرکاری حکام ہی روند کر چلتے جارہے ہیں۔یہ سوال قطعی اُن غریب غیر مقامی مزدوروں کے خلاف نہیںکیاجارہا ہے ۔انہیں کام کرنے کا حق حاصل ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہیں کیاجاسکتا ہے تاہم اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ چند ہزار غیر مقامی مزدوروں کی وجہ سے ستر سے اسی لاکھ کی مقامی آبادی کو ایک ایسے وقت خطرے میں ڈال دیا جائے جب کورونا وائرس آدم خور بن چکا ہو۔
سرکار کو سمجھنا چاہئے کہ ہمارے ہسپتال پہلے سے بھرے پڑے ہیں اور وہاں مزید لوگوں کو رکھنے کی گنجائش نہیں ہے ۔جب ہمارے اپنے مقامی لوگوں کیلئے علاج و معالجہ کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے تو پھر ایسی صورتحال میں یہ غریب لوگ کہاں جائیں، جن کا یہاں کوئی جان پہچان والا نہیں ہے ۔ایسا کرکے سرکار ان کی سلامتی بھی خطرے میں ڈال رہی ہے ۔اب دیکھئے بڈگام کے مضافات میں کورونا مثبت قرار دئے گئے غیر مقامی مزدوروں کو سرینگر منتقل کرنے کی بجائے الٹا مزید 30سے چالیس کلو میٹرآری زال علاقہ میں قائم کووڈ مراکز میں داخل کیاگیا ۔اگر وہاں ان کی حالت غیر ہوگئی تو سرینگر پہنچاتے پہنچاتے ان کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔
اس لئے ابھی بھی وقت ہے کہ حکام ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ہی کووڈ پروٹوکول کو مذاق نہ بنائیں ۔اگر ایس او پی جاری کئے جاچکے ہیں تو ان کا یکساں اطلاق دونوں صوبوں میںہونا چاہئے ۔اگر جموں کی صوبائی انتظامیہ کرکے دکھاسکتی ہے تو کشمیر کی صوبائی انتظامیہ کو کون سی چیز ایسا کرنے سے روک رہی ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ فوراً سے پیشتر اس سنگین مسئلہ کا تدارک کیاجائے گاتاکہ انسانی جانوں سے کھلواڑ کا یہ غیر انسانی سلسلہ روکا جاسکے۔