تازہ ترین

کورونا کی زد: قربانی کیلئے تیاریوں کی رونقیں ماند

جانوروں کی سرکاری قیمتیں مقرر لیکن منڈیاں اورخریدار کہیں نہیں

تاریخ    21 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // کورونا وبا ء کے پیش نظر اس سال عید الاضحی پر گہماگہمی اور قربانی کے جانوروں کی خریداری مختصر ہونے کا قوی امکان ہے ۔ قربانی کرنے کیلئے اب صرف دس دن رہ گئے ہیں، ایسے میں شہر میں کسی بھی جگہ پر نہ منڈیاں لگیں ہیں اور نہ ہی بکروال اپنے مال سمیت کہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ حکام نے زندہ بھیڑ فی کلو 230اوربکری 210روپے فی کلو قیمتیں مقرر کی ہیں ۔محکمہ کی جانب سے جاری کئے گئے آڈر میں بھیڑ دہلی والا 230روپے فی کلو زندہ ، بھیڑمیرون کراس 230فی کلو زندہ ، بھیڑ بکروال 220فی کلو زندہ ، مقامی کشمیر بھیڑ کی قیمت فی کلو زندہ 220روپے اور بکری کی قیمت فی کلو زندہ 210روپے مقرر کی گئی ہے ۔قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مقرر کرنے کیلئے محکمہ کے ڈائریکٹر کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں نئی قیمتیں طے کی گئیں ۔محکمہ نے اگرچہ قیمتیں طے کی ہیں تاہم اس بار عید کی آمد سے قبل گہما گہمی کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔اس سے قبل ہر سال بڑی عید کے دس یا 15روز قبل ہی منڈیوں میں جانوروں کی خریداری شروع ہو جاتی تھی لیکن اس سال شہر کی سب سے بڑی منڈی عید گاہ میں اکا دوکا بکروال ہی مال کولیکر پہنچے ہیں ۔حکومت کی جانب سے منڈیوں سے مال خریدنے کیلئے ابھی تک کوئی بھی ایس او پیز کوجاری نہیں کیا گیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکا ر ایک طرف یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ماسک کا استعمال ضروری ہے لوگوں کو گھروں میں رہنا ہے، سماجی دوریاں قائم کرنی ہیں تو ایسے میں بھاری بھیڑ میںقربانی کے جانوروں کی خریداری کیسے ممکن ہوسکتی ہے۔معلوم رہے کہ شہر کی منڈیوں میں زیادہ تر بکروال شوپیاں ، پونچھ، راجوری ،کپوارہ اور دیگر علاقوں سے لا کر بیچتے ہیں لیکن دوبارہ لگنے والے لاک ڈائون کے نتیجے میں یہ منڈیوں تک نہیں پہنچ پائے ہیں ۔کئی ایک بکروالوں کا کہنا ہے کہ انہیں منڈیوں تک پہنچنے کیلئے اجازت کی ضرور ت ہے جو انہیں نہیں مل پائی ہے ۔ مٹن ڈیلرس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کشمیر وادی میں عید کیلئے مال کی کوئی کمی نہیں ہے اور جیسے ہی حکام مال کو فروخت کرانے کیلئے ایس او پیز قائم کرتے ہیں تو منڈیاں بھی مال سے بھر جائیں گی ۔ایسوی ایشن جنرل سیکریٹری معراج الدین گنائی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا  اس وقت سب سے بڑا معاملہ کورونا صورتحال کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال 5اگست کے بعد بڑی عید پر ان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ مال لائیں اور اس کو فروخت کریں ،لیکن جب انہوں نے مال لایا تو اس کی خریداری نہیں ہو سکی اور ڈیلروں کو 20سے25کروڑ کا کا نقصان اٹھانا پڑا ۔محکمہ خورک ورسدات کے ڈائریکٹر بشیر احمد خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ محکمہ نے نرخ نامے نکالے تھے لیکن پھر انہیں اس میں کچھ تبدیلی لانی پڑی اور اگلے 2روز میں نئے نرخ نامے مشتہر کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ قربانی کے جانوروں کی منڈیاں پہلے سے ہی ہر جگہ ہیں اور صرف ریٹ لسٹ مشتہر کرنا باقی ہے ۔
 

تازہ ترین