کیا میاں قیوم کی قید و بند ضروری ہے؟سپریم کورٹ کا جموں کشمیر سرکار سے سوال

تاریخ    15 جولائی 2020 (04 : 03 PM)   
(File Pic)

نیوز ڈیسک
سرینگر//سپریم کورٹ نے بدھ کو جموں کشمیر سرکار سے پوچھا کہ کیاکورونا کی موجودہ صورتحال میں جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن، سرینگر کے صدر ایڈو کیٹ میاں قیوم کی قید و بند کی ضرورت ہے؟
جسٹس سنجے کشن کول اور اندو ملہوترہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے ڈویژن بینچ اُس عرضی کی شنوائی کررہا تھا جس میں جموں کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ 
اطلاعات کے مطابق سالسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ میں جواب دائر کرنے کیلئے دس روز کا وقت مانگ لیا۔
اس سے قبل قیوم کے وکیل ایڈوکیٹ دشیانت داوے نے جواب دائر کرنے کیلئے زیادہ وقت مانگنے پر اعتراض اٹھایا۔
انہوں نے کہا کہ 73سالہ قیوم اب کم و بیش ایک سال سے جیل میں ہے ۔
انہوں عدالت کو بتایا کہ کورونا سے پیدا صورتحال کے باوجود قیوم جیل میں ہیں۔
جسٹس کول نے اس موقع پر سالسٹر جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ” قیوم اب ایک سال سے جیل میں ہے اور اُس کی فکر تبدیل نہیں ہوئی ہے۔چونکہ اس وقت کورونا وبا جاری ہے اس لئے مہربانی کرکے اس مسئلے کو دیکھ لیجئے“۔ 
اس معاملے کی اگلی پیشی23جولائی کو مقرر کی گئی ہے

تازہ ترین