تازہ ترین

موجودہ وقت میں ریورس سوئنگ بھول ہی جانا چاہئے :عرفان پٹھان

تاریخ    15 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
نئی دہلی//ہندوستان کے سابق فاسٹ بالر اور سرکردہ آل راؤنڈرعرفان پٹھان نے کہا ہے کہ اگر انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے مابین سلامتی کے اعتبار سے محفوظ ماحول میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ کو آئندہ کھیلے جانے والے میچوں کی مثال کے طور پر سمجھا جائے تو دنیا بھر کے فاسٹ بالرز کو ان میچوں میں ریورس سوئنگ کو بھول ہی جانا چاہئے ۔کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بین الاقوامی کرکٹ کو نئے طریقوں کے ساتھ بحال کیا گیا ہے جس میں گیند کو چمکانے کے لئے تھوک کے استعمال پر پابندی عائد ہے ۔پانچویں روز مارک ووڈ اور جوفرا آرچر بولنگ کو دیکھتے ہوئے پٹھان کا خیال ہے کہ گیند بازوں کو کچھ وقت کے لئے پرانی گیند سے ریورس سوئنگ کے بارے میں بھول جانا چاہئے ۔ انہوں نے اسٹار اسپورٹس کے کرکٹ کنکٹڈ پروگرام میں کہا کہ تھوک کی تہہ موٹی ہوتی ہے اور اس کا اثر ریورس سوئنگ پر زیادہ ہوتا ہے ۔ اس وقت تک تھوک کے استعمال پر پابندی عائد رہے گی جب تک کہ کورونا کی وبا برقرار ہے اور تیز بالرز کی راہ مشکل ہونے والی ہے ۔ جب اس کے حل کے بارے میں پوچھا گیا تو پٹھان نے کہا کہ کسی مصنوعی مادے کے استعمال کی اجازت دی جائے یا پھر بھول جائیں کہ ریورس سوئنگ بھی کچھ ہوتی ہے ۔ سیم بولنگ کے لئے موزوں پچیں بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایک بار پھر سیم کو نشانہ بناؤ اس سے حرکت جاری رہے گی یا میچ یک طرفہ ہوجائے گا ۔ہندستان کے ہی ایک دیگر سابق بولر آشیش نہرا نے بھی پٹھان سے اتفاق کرتے ہئے کہا کہ جس طرح جمی اینڈرسن کم لینتھ سے بولنگ کررہے تھے توایسا لگ رہا ہے کہ تھوک پر پابندی کی وجہ سے عام سوئنگ بھی نہیں مل پارہی ہے ۔ نہرا نے کہا کہ اینڈرسن اس دوران شارٹ لینتھ گیندیں کررہا تھا جب کہ انہوں نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ ڈیوک گیند سوئنگ نہیں لے رہا تھا کیونکہ تھوک کے بغیر کوئی چمک نہیں تھی۔ وہ اپنی صلاحیت کا آدھا حصہ بھی انجام نہیں دے پایا تھا۔آسٹریلیا میں ککابورا کی گیند کیسے کھیلے گی اس حوالے سے سابق وکٹ کیپر دیپ داس گپتا نے کہا کہ تمام ٹیموں کے بالرز کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیائی پچیں فلیٹ ہیں اور ککابورا کی سیم 20 اوور کے بعد ختم ہوجائے گی۔ ایسی صورتحال میں تھوک کے بغیر ریورس سوئنگ دستیاب نہیں ہوگی۔ ڈبل پریشر سے نمٹنے میں بالرز کو کافی پریشانی ہوگی۔عرفان پٹھان نے کھیل کے دنوں میں سابق ہندوستانی کپتان سورو گنگولی کی کپتانی کے بارے میں ایک پہلو پر روشنی ڈالی ہے ۔واضح رہے کہ عرفان نے سال 2003-04 میں سورو گنگولی کی قیادت میں گواسکر بارڈر ٹرافی میں بین الاقوامی سطح پر قدم رکھا تھا۔ عرفان پٹھان نے گنگولی کے ایک ایسے ہی معاملے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ سورو گنگولی ٹاس کے وقٹ غیر ضروری طور پر ڈریسنگ روم میں قیام کیا ۔ پٹھان نے کہا کہ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ آسٹریلیا میں اپنے پہلے دورے میں سورو نے اسٹیو وا کو ٹاس کے لئے بے سبب انتظار کرنے پر مجبور کیا تھا۔عرفان نے بتایا کہ میں ڈریسنگ روم میں موجود ہوا کرتا تھا اور مجھے یاد ہے کہ جب بھی ٹاس کا وقت ہوتا دادا گھڑی کو دیکھتے اور منیجر نے انہیں یاد دلایا کہ ٹاس کرنے کا وقت ہوگیا ہے لیکن گنگولی میدان میں ٹاس کے لئے جانے کے بجائے ڈریسنگ روم میں ہی موجود رہتے ۔وٓضح رہے کہ انگلش کپتان ناصر حسین اور اسٹیو وا نے کئی بار ٹاس میں تاخیر کے معاملے میں اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح سورو گنگولی نے انہیں ٹاس کے لئے کئی بار انتظار کرنے پر مجبور کیا۔ پٹھان نے کہا کہ 2004 کا سڈنی ٹیسٹ اسٹیو وا کا آخری ٹیسٹ تھا ،اس ٹیسٹ میں بھی یہاں تک کہ سچن تندولکر کے کئی بار کہنے پر بھی گنگولی وقت پر ٹاس کے لئے نہیں گئے تھے ۔پٹھان نے کہا کہ سڈنی ٹیسٹ کے دوران مجھے یاد ہے کہ سچن پاجی نے کہا تھا کہ دادا آپ کو ٹاس کے لئے جانا چاہئے یہ ٹاس کا وقت ہے لیکن دادا نے جوتے ، سویٹر اور کیپ پہننے میں کافی وقت لگایا۔یہ حقیقت ہے کہ جب کوئی شخص دیر کرتا ہے تو اس کے چہرے پر دباؤ ظاہر ہوتا ہے لیکن دادا کے چہرے پر کبھی جلدبازی کے اثرات ظاہر نہیں ہوئے تھے ۔یو این آئی
 

تازہ ترین