تازہ ترین

مزید خبریں

تاریخ    15 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک

بانڈی پورہ میں کرنٹ لگنے سے نوجوان فوت | ترال میں محکمہ بجلی کے 2ملازم جھلس گئے

سرینگر//بانڈی پورہ میں کرنٹ لگنے سے ایک نوجوان لقمہ اجل بن گیا جبکہ ترال میں محکمہ بجلی کے 2ملازمین جھلس گئے۔ کے این ایس کے مطابق بانڈی پورہ میں منگل کو22سالہ عرفان احمد ملک ساکن کلاروس اور عاقب احمد آہنگر دکان پر لوہے کا شٹر نصب کررہے تھے جس کے دوران نزدیک ہی ہائی ٹنشن تار سے چھو گیا جسکے نتیجہ میں دونوں کو زوردار جھٹکا لگا۔ دونوں شہریوںکو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں عرفان ملک دم توڑ بیٹھا جبکہ عاقب آہنگر کوسرینگر منتقل کیاگیا۔ ادھر ترال بس اسٹینڈ میں محکمہ بجلی کے 2ملازمین منظور احمد شاہ اور سجاد احمد ترسیلی لائن کی مرمت کر رہے تھے اور کرنٹ لگنے سے جھلس گئے۔ دونوں کو پہلے سب ضلع ہسپتال ترال پہنچایاگیا جہاں منظور احمد شاہ کو سرینگر منتقل کیا گیاہے۔
 
 

ترقیاتی عمل کیلئے عوام کی عملی شرکت لازمی: ایل جی

بانڈی پورہ میں کئی وفود ملاقی، ترقیاتی پروجیکٹوں کا ای افتتاح کیا اور سنگِ بنیاد رکھا 

سرینگر //ترقیاتی عمل کیلئے عوام کی عملی شرکت لازمی ہے اور حکومت جموں کشمیر اس پر اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ اس کا اظہار لفٹینٹ گورنر گریش چندر مرمو نے ضلع بانڈی پورہ کے دورے کے دوران کیا جہاں انہوں نے متعدد عوامی وفود کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے ضلع کے عوام کی ترقیاتی ضروریات کا جائیزہ لیا ۔ اُن کے ہمراہ ایل جی کے مشیر بصیر احمد خان ، ڈویژنل کمشنر کشمیر ، آئی جی پی کشمیر ، ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ اور مختلف محکموں کے سربراہ تھے ۔ لفٹینٹ گورنر نے 8.52 کروڑ روپے کی مالیت کے 6 ترقیاتی پروجیکٹوں کا ای افتتاح کیا اور 21.52 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے جانے والے 5 پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھا ۔ جن 6  پروجیکٹوں کا ایل جی نے ای افتتاح کیا، اُن میں داور گریز میں دریائے کشن گنگا پر 1X50 میٹر سپین سٹیل پُل ، کے جی ایچ ای پی ۔ این ایچ پی سی کے کارپوریٹ سوشل رسپانسی بلٹی کے تحت نالہ مدھو متی پر حفاظتی باندھوں ، کُنن میں شیپ ایکسٹینشن سنٹر ، نلہ آلوسہ ناگ مرگ پر پُل جو 8 دیہاتوں کے 15 ہزار نفوس کیلئے نقل و حمل کی بہتر سہولیت فراہم کرے گا ، اتھوٹو پر 1X25 میٹر سپین فُٹ برج اور ہائی سکول منتری گام میں 6 کمروں پر مشتمل سکول عمارت شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ایل جی نے 21.52 کروڑ روپے کی مالیت سے جن پانچ پروجیکٹوں کا سنگِ بنیاد رکھا اُن میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت کالوسہ گردال سڑک کی تجدید و توسیع ، نوڈارہ پنچائت بھون کی تعمیر ، نبارڈ واٹر سپلائی سکیم اجس کے تحت 0.50 ایم جی ڈی فلٹریشن پلانٹ کی تعمیر جس سے علاقے کے 20 ہزار نفوس مستفید ہوں گے ، این آر ڈی ڈبلیو پی واٹر سپلائی سکیم منتری گام کے تحت 0.20 ایم جی ڈی فلٹریشن پلانٹ جس سے 7000 نفوس مستفید ہوں گے اور نسو میں بس اڈہ کی تعمیر کے پروجیکٹ شامل ہیں ۔ انہوں نے زیر تعمیر ترقیاتی کاموں اور پروجیکٹوں کی پیش رفت کا بھی جائیزہ لیا۔ اس سے قبل لفٹینٹ گورنر نے جھیل وُلر کا ہوائی جائیزہ لے کر ڈریجنگ اور بحالی کام کا معائینہ کیا ۔عوام تک پہنچنے کے پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے لفٹینٹ گورنر  16 وفود سے ملے جن میں بی ڈی سی چئیر پرسنز کا وفد ، پنچائتی راج اداروں کے نمائندوں کا وفد ، بلدیاتی اداروں کا وفد ، بانڈی پورہ سول سوسائیٹی ، تحصیل کوارڈینیشن کمیٹی حاجن ، ٹریڈرز فیڈریشن ، فروٹ گروورز ایسوسی ایشن ، قبائلی طبقے کے نمائندے ( گُجر بکروال ) ، ماہی گیر طبقے کے نمائندے ، کاریگروں کی انجمن ، انجینئروں کے سیلف ہیلپ گروپ ، نیشنل یوتھ کارپس کے ارکان اور ترقی پسند کسانوں کے وفد شامل تھے جنہوںنے اپنی مانگیں سامنے رکھیں جس پر گورنر نے کہاکہ اُن کے جائز مسائل اور مانگوں کا جائیزہ لیا جائے گا ۔
 
 

مرکزی داخلہ سیکریٹری کی صدارت میں میٹنگ

افسران کی ترقی اور تبادلوں پر غوروخوض 

سر ینگر//مرکزی داخلہ سیکریٹری اَجے کمار بھلہ نے جموںوکشمیر اور لداخ کی یونین یوٹیز کیلئے ملازمتوں سے متعلق معاملا ت کیلئے تشکیل دی گئی مشترکہ کمیٹی کی دوسری میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرامنیم ، لداخ یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر اُمنگ نرولہ ، داخلہ جنرل ایڈمنسٹریشن ، جنگلات و ماحولیات محکموں کے اِنتظامی سیکرٹریوںنے شرکت کی۔ دورانِ میٹنگ بتایا گیا کہ حکومت ہند کی داخلی امور کی وزارت کو آل اِنڈیا سروسز ۔ انڈین ایڈمسٹریٹیو سروس( آئی اے ایس) ، اِنڈین پولیس سروس( آئی پی ایس) ، اِنڈین فارسٹ سروس ( آئی ایف ایس )سے متعلق کیڈر کا جائزہ لینے کے لئے تجاویز موصول ہوئی ہیںجن پر کاررِوائی جاری ہے۔ترمیم شدہ تجاویز کے مطابق آئی اے ایس ، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس کے لئے بالترتیب 191،154اور 106 کی تجویز ہے تاہم اِس میں لداخ کی اَسامیاں شامل نہیں ہیں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ یوٹی  کے اَفسروں کے لئے لداخ میں تبادلہ کے لئے پالیسی تشکیل دینے کا کام شد و مد سے جاری ہے اور جس کو عنقریب حتمی شکل دی جائے گی۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ جن ملازمین کی تعیناتی لداخ میں کی جائے گی اُنہیں خصوصی مراعات دی جائیں گی۔اِس کے علاوہ یوٹی کے اَفسران کی ترقی سے متعلق کہا گیا کہ اہل اَفسروں کو جلد ہی آئی پی ایس او رآئی ایف ایس میں شامل کیا جائے گا۔ وزارتِ داخلہ نے جموںوکشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروس میں سینیارٹی سے متعلق تمام معاملات کو فوری طور حل کرنے کے کہا گیا تاکہ اہل اَفسران کو آئی اے ایس میں شامل کیا جاسکے۔میٹنگ میں آل اِنڈیا سروسز اور دونوں یوٹیز کی سٹیٹ سروسز کی کیڈر سے متعلق دیگر مراعات پر غور و خوض ہوا جس میں اے آئی ایس اَفسروں کی ترقی ، تبادلے کے معاملات شامل ہیں۔ 
 
 

اننت ناگ میں فوج کی گمشدہ رائفل بر آمد

عارف بلوچ

اننت ناگ //سرہامہ اننت ناگ میں فوج کی گمشدہ رائفل کو بر آمد کیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق رائفل کیمپ سے ہی بر آمد کی گئی ہے۔ اس سے پہلے فوج کی 3آر آر سے وابستہ اہلکار وں نے سرہامہ علاقہ میں گشت کے دوران انساس رائفل کھو جانے کا اعلان کیا تھا۔فوج نے علاقہ کی مساجد میں رائفل کے گم ہونے کے بارے میں اعلان کروایا اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے گمشدہ رائفل کو واپس کرنے کی اپیل کی تھی تاہم اب پولیس کے مطابق رائفل کیمپ سے ہی بر آمد کی گئی ہے۔
 
 

کنگن میں نالہ سندھ سے خاتون کی لاش برآمد 

غلام نبی رینہ

کنگن//کنگن میں نالہ سندھ سے لاپتہ خاتون کی لاش برآمد کی ۔ گون ڑی محلہ نیلا نجون میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب کچھ لوگوں نے نالہ سندھ میں ایک لاش دیکھی ۔ لوگوںنے فوری طور پر کنگن پولیس کوآگاہ کیا۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے لی جس کی شناخت 33سالہ روبینہ زوجہ عبدالمجید خان ساکن گونڑی محلہ نجون کنگن کے بطور ہوئی ۔ قانونی لوازمات پورا کرنے کے بعد لاش لواحقین کے سپرد کی گئی۔ ایس ایچ او کنگن آفتاب احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مذکورہ خاتون 9جولائی سے لاپتہ تھی اور منگل کو اس کی لاش نالہ سندھ سے برآمد کی گئی ۔ کنگن پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ 
 
 
 

گھریلو پروازو ں کا  51واںدِن | 2,716 مسافروںکی واپسی 

 جموں//جموں وکشمیر یونین ٹریٹری میں گھریلو پروازوں کے دوبار ہ چالوہونے کے51واں دِن 2,716مسافروں کو لے کر 4 2 پروازیں جموں اور سری نگر ہوائی اڈے پر اتریں ۔616مسافروں سمیت09کمرشل پروازیں جموں ہوائی اڈے اور 2100مسافروں کو لے کر15 پروازیں آج سری نگر کے ہوائی اڈے پر اتریں۔واضح رہے کہ25؍ مئی سے اب تک جموں ایئر پورٹ پر 367گھریلو پروازیں اتری ہیں جن میں 27,107مسافروں نے سفر کیا ۔ اسی طرح سری نگر ائیر پورٹ پر 599گھریلو پروازیںاتریں ہیں جن میں77,918مسافروں نے سفر کیا ہے۔نیز جموں وکشمیر حکومت نے عالمی وَبا کے پیش نظر اَب تک متعدد ممالک سے تقریباً 3,240مسافروں کو خصوصی انخلأ پروازوں کے ذریعے جموںوکشمیر یوٹی میں واپس لایا ہے۔ہوائی اڈے پر اُترتے ہی تمام مسافروں کا کووِڈ۔19ٹیسٹ کیا گیا اوردونوں ہوائی اڈوں سے  اپنے منازل کی طرف تما م احتیاطی تدابیر پر عمل پیر ا رہ کر روانہ کئے گئے۔حکومت نے ہوائی پروازوں کے ذریعے یوٹی میں وارِد ہونے والے تمام مسافروں کی آمد سکریننگ نمونے لینے اور قرنطین مراکز کی طرف لے جانے کے لئے معقول ٹرانسپورٹ اِنتظامات کئے گئے ہیں اور اِس دوران مرکزی  شہری ہوا بازی اور صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزارتوں کی جانب سے مقرر کئے گئے رہنما خطوط اور ایس او پیز کا خاص خیال رکھا جارہا ہے۔
 
 

 درماندہ  2,16,544شہری یوٹی لائے گئے 

 جموں//حکومت جموں وکشمیر نے کووِڈلاک ڈاون کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں درماندہ جموںوکشمیر کے 2,16,544شہریوں کو براستہ لکھن پور اور کووِڈخصوصی ریل گاڑیوں اور بسوں کے ذریعے تمام رہنما خطوط اور ایس او پیز پر عمل پیرا رہ کر یوٹی واپس لایا۔سرکاری اعداد و شما ر کے مطابق جموںوکشمیر کے مختلف اَضلاع کی اِنتظامیہ نے ملک کی مختلف ریاستوں اور یوٹیز سے69,073درماندہ مسافروں کو لے کر جبکہ براستہ لکھن پور1,47,471افراد کو حکومت نے82کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوںکے ذریعے اودھمپو ر اور جموں ریلوے سٹیشوں پر خیرمقدم کیا ۔حکومت نے لکھن پور کے ذریعے اب تک بیرون ملک سے823مسافرو ں کویوٹی واپس لایا ہے ۔اِس طرح جموںوکشمیر حکومت نے اب تک 82 کووِڈ خصوصی ریل گاڑیوں اور براستہ لکھن پور بسو ںکے کاروان میں اب تک بیرون یوٹی درماندہ 2,16,544شہریو ں کو کووڈِ۔19 وَبا سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھ کر واپس لایا گیا۔تفصیلات کے مطابق 13؍ جولائی سے 14؍ جولائی 2020ء کی صبح تک لکھن پور کے راستے سے2,501 درماندہ مسافریوٹی میں داخل ہوئے جبکہ  882مسافر آج 62ویں دلّی کووِڈ خصوصی ریل گاڑی سے جموں پہنچے ۔اَب تک 62ریل گاڑیاں یوٹی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے53,377درماندہ مسافر جموں پہنچے جبکہ 21خصوصی ریل گاڑیوں سے 15,696مسافر اودھمپور ریلوے سٹیشن پر اُترے۔
 
 

’سرینگر میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کا قیام ناگزیر‘  | کشمیری ملازمین کودہلیز پر ہی انصاف ملے: الطاف بخاری

سرینگر//اپنی پارٹی صدر محمد الطاف بخاری نے حکومتِ ہند پرزور دیا ہے کہ سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل(CAT)کا علیحدہ بنچ سرینگر میں قائم کیا جائے تاکہ اُن ہزاروں ملازمین کو انصاف مل سکے جوکہ ملازمت سے متعلق مسائل کیلئے جموں نہیں آسکتے اور نہ ہی یہاںقیام کرسکتے ہیں۔ ایک بیان میں الطاف بخاری نے جموں میں سی اے ٹی بنچ کو فعال بنانے کے فیصلے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا ہے کہ سخت موسمی حالات کے پیش نظر کشمیر صوبہ کے ملازمین کو سرینگر میںعلیحدہ سرکٹ بنچ کی ضرورت ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ’’ بھرتی اور ملازمت کی دیگر شرائط سے متعلق یونین ٹیریٹری اور دیگر ادارے ،جو حکومت کے ماتحت ہیں معاملات کا موثراور تیزی سے نپٹارے کیلئے سرینگر میں علیحدہ سے مکمل سرکٹ بنچ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ الطاف بخاری نے جموں وکشمیر کی عوام کے مطالبہ کو تسلیم کر کے چندی گڑھ ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل کی بجائے جموں میں علیحدہ سے بنچ قائم کرنے کیلئے مرکزی وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کیا البتہ انہوں نے کہاکہ پورے جموں وکشمیر کے لئے واحد سرکٹ بنچ صوبہ کشمیر کے متنازعہ سروس معاملات کے تصفیہ کے لئے ناکافی ہے کیونکہ ملازمین کئی وجوہات کی بنا پر جموں میں نہیں آسکتے۔ کشمیر صوبہ میں ڈیلی ویجرز، کیجول لیبررز، کنسالیڈیٹیڈ ورکرز، آئی ٹی آئی اور اسکلڈ ورکرز، کنٹریکچول اور ایڈہاک ملازمین، درجہ چہارم کے علاوہ کم تنخواہ والے ملازمین کی کثیر تعداد میں سروس معاملات زیر ِ التوا ہیں اور بہت سارے حل کرنا چاہتے ہیں ، اگر ان کے مقدمات کیٹ بنچ جموں میں منتقل کئے جاتے ہیں تو اُن کیلئے وکلاء کی فیس، سفری اور قیام کے اخراجات وغیرہ کا انتظام کرپانا بہت مشکل ہوگا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ پرزور دیا کہ وہ اِس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں اور سرینگر میںعلیحدہ ٹریبونل بنچ قائم کیاجائے جہاں مقامی موجودہ یا ریٹائرڈ عدالتی اور انتظامی ممبران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے تاکہ اِس صوبہ کے لوگوں کو راحت ملے۔
 
 

سیاسی سرگرمیوں کیلئے حالات ناموافق: اکبر لون | رام مادھو کا بیان حقیقت سے بعید 

سرینگر//جموں وکشمیر کے حالات کسی بھی صورت میں سیاسی سرگرمیوں کیلئے موافق نہیں کیونکہ مرکزی حکومت نے نہ صرف گذشتہ ایک سال سے ناانصافیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے بلکہ یہاں کے عوام خصوصاً سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو بند کرکے رکھا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان محمد اکبر لون نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ سیاسی سرگرمیوں کی شروعات اور حالات میں بہتری کے بھاجپا جنرل سکریٹری رامادھو کے دعوئوں کو حقیقت سے بعید اور زمینی حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اکبر لون نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ، کانگریس، پی ڈی پی اور جموں و کشمیر کی دیگر سیاسی جماعتوں کے بیشتر لیڈران خانہ نظربند ہیں اور انہیں کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں ، اس کے باوجود بھی رام مادھو سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رام مادھو کے مطابق اگر کشمیر کے حالات ٹھیک ہیں تو پھر یہاں آئے روز ہلاکتیں کیوں ہورہی ہیں؟ اکبر لون نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کے عوام کیساتھ ناانصافیوں کا سلسلہ برابر جاری رکھا ہوا ہے اور ایسے میں مرکزی حکومت یہاں سیاسی سرگرمیوں کی اُمید کیسے کر سکتی ہے؟ اکبر لون نے کہا کہ یہ مرکزی حکومت کی ناانصافیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کو کل اپنے 16لیڈران کی غیر قانونی خانہ نظربندی ختم کرنے کیلئے عدالت عالیہ کا رُخ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ جس طرح سے سپریم کورٹ نے عمر عبداللہ کی غیر قانونی نظربندی اور عدالت عالیہ نے علی محمد ساگر کی بلاجواز اسیری پر جو مؤقف اختیار کیا ایسے ہی نیشنل کانفرنس کے دیگر لیڈران کی نظربندی کو ختم کیا جائے گا۔
 
 

قومی صحت مشن کے عارضی ملازمین مستقلی کے حقدار

سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ چیئرمین حکیم محمد یاسین نے وزیراعظم نریندر مودی اور جموں وکشمیر یونین ٹیریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندر مرمو سے اپیل کی ہے کہ وہ نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت کام کررہے عارضی ملازمین بشمول طبی و نیم طبی عملے کی ملازمت کو مستقل کریں۔ انھوں نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ مشن کے اہلکار بشمول ڈاکٹر و نیم طبی عملہ جموں وکشمیر خاصکر دور دراز علاقوں میں لوگوں کو طبی نگہداشت فراہم کرنے میں اہم کام انجام دے رہے ہیں اس لئے ان کی جائز مانگوں کو بغیر کسی پس و پیش کے پورا کیا جانا چاہیے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے نیشنل ہیلتھ مشن کے عارضی ملازمین کی خدمات کو مستقل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ عارضی ملازمین محکمہ صحت کی ریڈ کی ہڈی کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کی خدمات جموں وکشمیر میں عام لوگوں کو علاج ومعالجہ کی بہتر خدمات فراہم کرانے میں کلیدی رول ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ جموں وکشمیر اس وقت براہ راست مرکزی حکومت کے زیر کنٹرول ہے  اس لئے وزیر اعظم نریندر مودی اور لیفٹینٹ گورنر براہ راست ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نیشنل ہیلتھ مشن کے عارضی ملازمین و ڈاکٹروں کی خدمات کو مستقل بنا کر ان کی امیدوں کو پورا کریں۔حکیم یاسین نے ریاست کے مختلف محکموں میں روزانہ اجرتوں ، کنٹریکچول اور نیڈ بیسڈ ودکروں کی خدمات کو مستقل کیے جانے کا مطالبہ کیا ھے۔
 
 

کشمیر یونیورسٹی طلاب کی مانگ  | سمسٹر فیس میں رعایت دی جائے

سرینگر (یو این آئی) کشمیر یونیورسٹی کے طلاب نے حکام سے سمسٹر فیس میں رعایت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔طلاب کا کہنا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے والدین ناقابل برداشت مالی بحران سے دوچار ہیں جس کی وجہ سے وہ سمسٹر فیس کی ادائیگی سے قاصر ہیں۔ایک طالب علم نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ گذشتہ قریب ایک سال سے ہمیں فیس اور کمروں کا کرایہ ادا کرنا پڑرہا ہے جبکہ ہم اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کی وجہ سے ہمارے والدین اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ فیس کی ادائیگی کر سکیں۔موصوف نے کہا کہ یونیورسٹی میں بیشتر طلبا دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں فیس کے ساتھ ساتھ کمرہ کرایہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے جو موجودہ حالات میں بہت کٹھن امر بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کو لیفٹیننٹ گورنر صاحب اور یو جی سی نے بھی بھر پور امداد کی ہے۔ طلبا نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے سمسٹر فیس میں رعایت کریں تاکہ طلبا کو مزید کسی پریشانی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔
 
 

پلوامہ اور ترال میں گھر گھر تلاشیاں 

سرینگر//فورسز نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے مرن اور ترال کے رٹھسونہ میں جنگجوئوں کی موجود گی کی اطلاع موصول ہونے کے بعد علاقے کو محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشیاں لی جس دوران کسی بھی جگہ سے کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہو ئی ہے اور نا ہی کسی کی گرفتاری عمل میںلائی گئی ہے ۔کے این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں فورسز نے پلوامہ کے مرن نامی گائوں میں جنگجوئوں کی موجود گی کے بعدکے بعد دن کے اجالے میں محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشیاں شروع کی ہے جس دوران انہوں نے گائوں کو چاروں اطراف سے بند کر کے کسی کو بھی اند یا باہر سے اندر جانے کی اجازت نہیں دی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کئی گھنٹوں کے تلاشی کارروائیوں کے بعد فورسز نے اپنا محاصرہ ختم کیا۔ادھر ترال میں فورسز نے رٹھسونہ نامی گائوں کو منگلوار کے صبح سویرے محاصرے میں لے کر گھر گھر کی تلاشی لی۔اس دوران گائوں کا محاصرہ کئی گھنٹوں تک جا ری رہاتاہم تلاشی کارروائیوں کے دوران فورسز کو کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوا۔پولیس ذرائع نے بتایا دنوں گائوں میں جنگجوئوں کی موجود گی کی اطلاع کے بعد محاصرہ کیا گیا ہے انہوں نے بتایا بعد میں یہاں کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہوا ۔
 
 

واجب الادا رقومات کی ادائیگی میں آناکانی | کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کااظہار برہمی 

سرینگر// سینٹرل کنٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی کے جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے الزام عائد کیا ہے کہ واجب الاد رقومات کی واگزاری کیلئے پس و پیش سے کام لیا جارہاہے۔ ایک بیان میں فاروق ڈار نے کہاکہ ٹھیکیداروں نے تعمیراتی کام مکمل کئے ہیں لیکن ابھی تک ان رقومات کو فراہم نہیں کیاجارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ برس مارچ میں جب تعمیراتی ٹھیکداروں نے واجب الادا رقومات کی واگزاری پر کام چھوڑ ہڑتال کے علاوہ ٹینڈروں میں شرکت کا سلسلہ بند کیا تو گورنر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے معاملے میں مداخلت کی،جس کے بعد چیف انجینئروں کے علاوہ کمشنر سیکریٹری خزانہ،چیف سیکریٹری اور اُس وقت کے گورنر ایس پی ملک کے مشیر کے کے شرما کے ساتھ یہ معاملات اٹھائے گئے۔فاروق ڈار نے کہا کہ متعدد میٹنگوں میں ان تعمیراتی کاموں پر اعلیٰ حکام کو مطمئن کرنے کے بعد انہوں نے اصولی طور پر بغیر غیر ضروری اعتراضات کے رقومات واگزاری پر اتفاق کیااور کافی رقم واگزار بھی کی گئی۔ انہوںنے واجب الادا رقومات کی واگزری کیلئے سرکاری ٹریجریوں میں تعمیراتی ٹھیکداروں کو مبینہ طور ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ  ایک سال بعد اب ٹریجری میں ان واجب الادا رقومات کی واگزاری میں غیر ضروری اعتراضات کھڑا کرکے رقومات کی ادائیگی کو روک رہے ہیںجو سراسرناانصافی ہے۔ 
 
 

کپوارہ میں لاک ڈائون 25جولائی تک بڑھایاگیا

اشرف چراغ 

کپوارہ//کپوارہ میںلاک ڈاون کے تیسرے روز بھی معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئیں جبکہ ضلع میں لاک ڈائون میں 10روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ضلع میں کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے ضلع میں 12جولائی سے سہ روز لاک ڈاون کا نفاذعمل میں لایا گیاجس کے دوران ضلع میں سڑکو ں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب تھا جبکہ سرکاری ادارو ں میں ملازمین کی حاضری بھی کم رہی ۔اس دوران منگل کو لاک ڈاون میں توسیع کر کے 25جولائی تک بڑھایا دیا گیا ہے۔ضلع انتظامیہ نے جہا ں لاک ڈاون میں توسیع کی وہیں پر چند رعاتیں بھی دی ہیں جن میں ضلع کے بازارو ں میں دکانیں صبح 7بجے سے دوپہر ایک بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ بپلک ٹرانسپوڑٹ جن میں زائلو اور سومو گاڑیا ں خاص طور سے شامل ہیں ،کی نقل و حمل پر مکمل طور پابندی عائد کی گئی ہیں ۔سرکاری دفاتر معمول کے مطابق اپنا کام کاج جاری رہے گا تاہم بینک شاخوں میںلوگو ں کی بھیڑ پر مکمل پابندی عائد ہے تاہم دوران کام سماجی دور ی کا خیال رکھنا ضروری ہے اور اس کے لئے بینک عملہ کو سختی سے عمل کر نا ہو گا ۔ضلع مجسٹریٹ نے لاک ڈاون کے طور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو صورتحال پر نظر کرنے کی مکمل طور ذمہ دار ی سونپ دی گئی جبکہ ضلع میں دیگر ادارو ں کو لاک ڈاون پر سختی سے لوگو ں کو عمل کرانے کی ذمہ داری سو نپ دی گئی اور خلاف ورزی کرنے والو ں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔
 
 
بارہمولہ میں ماسک نہ پہنے پر 65ڈرائیوروں پر جرمانہ عائد
سرینگر//کووڈ۔ 19ضوابط وقواعد کی خلاف ورز ی کی پاداش میں شمالی ضلع بارہمولہ میں ماسک نہ پہنے پر65ڈرائیوروں پر جر مانہ عائد کیا گیا جبکہ4گاڑیاں ضبط کی گئیں۔ اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق اے آر ٹی او بارہمولہ جمشید چودھری نے اُن ڈرائیوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی مہم شروع کی ،جو کووڈ۔19ضوابط وقواعد کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ۔ کے این ایس کے مطابق  ضلع میں65ڈرائیوروں کے خلاف کووڈ۔19رہنما خطوط کی خلاف ورز ی کی پاداش میں کارروائی عمل میں لاکر جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ4گاڑیاں ضبط کی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ ان سبھی ڈرائیوروں پر ماسک نہ پہنے پر جر مانہ عائد کیا گیا جبکہ یہ مہم جاری رہے گی۔چودھری نے کہا کہ50ہزار روپے جرمانہ کے بطور خلاف ور زی کے مرتکب افراد سے وصول کئے گئے ۔ان کا کہناتھا کہ ڈرائیوروں میں200ماسک بھی تقسیم کئے گئے ،جنہوں نے ماسک نہیں پہنے تھے ۔
 
 

سیاسی لیڈروں کی خانہ نظربندی غیر قانونی

 سی پی آئی ایم 

سرینگر//سی پی آئی ایم نے کشمیر میں سیاسی لیڈروں کی خانہ نظربندی اور نقل و حرکت پر بندشوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے قانون کی حاکمیت کو بحال کرنے پر زور دیاہے۔پارٹی نے کہا ہے کہ حالیہ ایام میں جن لیڈروں کی رہائی عمل میں لائی گئی انہیں بھی لوگوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور ناہی انہیں اپنے گھروں سے باہر قدم رکھنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ سی پی آئی ایم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی،سی پی آئی ایم اور جموں کشمیر پیپلز مومنٹ کے علاوہ دیگر پارٹیوں کے لیڈروں کو غیر قانونی پر پر گزشتہ برس5اگست کے بعد غیر قانونی طور پر بند رکھا گیا،تاہم کن قوانین کے تحت ان پر بندشیں عائد کی گئی وہ معلوم نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی انتظامی حکمنامہ کے بغیر رہائشی نظربندی ذاتی آزادی اور حقوق انسانی کے خلاف ہے بیان میں کہا گیا کہ اس بات کی رپورٹیں بھی موصول ہو رہی ہے کہ کچھ لوگوں کو پولیس تھانوں میں ایف آئی آر کے بغیر کئی دنوں نظر بند رکھا جاتا ہے اور یہ صرف حکام کی طرف سے زیادتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قانون کی حاکمیت ہونی چاہی تھی تاہم انتظامیہ از خود قانون کو بالائے طاق رکھ رہی ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

قربانی کا کوئی متبادل نہیں:مفتی ناصر

رہنما خطوط کا خاص خیال رکھیں

سرینگر//جموں کشمیر کے مفتی اعظم، مفتی ناصر الاسلام نے کہا ہے کہ قربانی کا کوئی متبادل نہیں ہے تاہم گوشت کی تقسیم کاری کے دوران تمام ضوابط اور رہنما خطوط کا خیال رکھنا لازمی ہے۔عید الاضحی سے3ہفتہ قبل وادی میں کرونا کیسوں میں اضافے کے بیچ مفتی اعظم نا صر الاسلام نے بتایا’’ بہتر ہے کہ گوشت کو مقامی سطح پر ہی موجودہ صورتحال کے پیش نظر تقسیم کیا جائے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کووڈ کو عیدالاضحی کے موقع پر قربانیاں پیش نہ کرنے کا عذر نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر وہ قربانی کے متحمل ہوںتو تمام احتیاطی تدابیر اپنائیں اور قربانی ادا کریں ۔
 
 
 

اوڑی میں کوروناوائرس سے متعلق جانکاری پروگرام 

ظفر اقبال

اوڑی// گورنمنٹ بائز ہائر سکنڈری سکول اوڑی کے پرنسپل مشتاق احمد سوپوری کی سربراہی میں منگل کوکووڈ 19 کے حوالے سے ایک جانکاری پروگرام منعقد کیا گیا۔سکول انتظامیہ نے اس سلسلے میں بڑی تعداد میںبینربنائے تھے جن پر کوروناوائرس سے متعلق جانکاری درج تھی۔انہوں نے اوڑی کے سب ضلع اسپتال ،پولیس تھانہ ، مین بازار، مین گیٹ اوڑی کمپلیکس، جامع مسجد نور کے علاوہ مختلف سکولی احاطوںمیں لگائے ۔اس جانکاری پروگرام میں سب جج اوڑی امتیاز احمد لون،بلاک میڈیکل آفیسر اوڑی ڈاکٹر محمد رمضان میر، زیڈ ای او اوڑی،ایس ایچ او اوڑی اور یوتھ سروس اینڈ سپورٹس سے وابستہ اہلکاروں کے علاوہ سول سوسائٹی کے لوگ بھی موجود تھے۔
 
 
 
 

سوپور میں نقب زنی | کریانہ دوکان سے سازوسامان اڑالیا گیا 

سوپور/غلام محمد //شمالی کشمیر کے سوپور قصبہ میں نقب زنی کی ایک واردات کے دوران ایک دوکان سے لاکھوں روپے کا سازوسامان اڑالیا گیا۔سوموار اور منگلوار وار کی درمیانی رات کو گول مارکیٹ مین چوک میں واقع بشیر احمد زرگر کی دوکان سے چوروں نے سازوسامان اڑالیا۔اس بارے میں دوکان کے مالک بشیر احمد نے بتایا کہ جب وہ صبح اپنی دوکان کھولنے پہنچاتو دوکان کا شٹر توڑا ہوا تھا اور دوکان میں کافی تعداد میں ساز وسامان غائب پایا گیا۔پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کیا ۔ اکنامک الائنس سوپور کے صدر حاجی محمد اشرف گنائی نے قصبے میں چوری کی برھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
 
 
 

ڈگری کالجوں کی ’این اے اے سی‘ ایکرڈیشن | کمشنر سیکریٹری اعلیٰ تعلیم نے تیاریوں کا جائزہ لیا

سر ی نگر//کمشنر سیکریٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم طلعت پرویز روحیلانے صوبہ کشمیر کے سرکاری ڈگری کالجوں کے این اے اے سی ایکرڈٹیشن کے لئے جاری تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے میٹنگ طلب کی۔میٹنگ کا اِنعقاد گورنمنٹ زنانہ کالج ایم اے روڈ کے کانفرنس ہا ل میںکیا گیا جس میں محکمہ اعلیٰ اَفسران بشمول ناظم خزانہ ، ناظم منصوبہ بندی ، ناظم کالج ،نوڈل پرنسپل کشمیر کے علاوہ ایم اے اے سی ایکرڈٹیشن کے لئے پہل کالجوں کے پرنسپلوں نے شرکت کی۔کمشنر سیکریٹری نے نیشنل اسسٹمنٹ اینڈ ایکرڈیٹیشن کونسل ( این اے اے سی ) کے ذریعہ مقررہ کردہ کالجوںکے سات بنیادی ایکرڈیٹیشن معیار وںکاتجزیہ کیا جن میں نصابی پہلو ، درس و تدریس ، اور تجزیہ ، تحقیق ، اختراعی و توسیعی اقدامات ، بنیادی ڈھانچہ اور تدریسی ذرائع ، طلبا کے لئے مدد اور ترقی ، گورننس قیادت اور انتظام و انصرام ، ادارہ جاتی اقدار اور بہترین اقدامات شامل ہیں۔کمشنر سیکرٹری نے اِن تمام معیاروں کی عمل آوری سے متعلق پرنسپلوں سے جانکاری حاصل کی۔ اُنہوں نے کہا کہ اس ضمن میں پرنسپلوں کو سب سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ پرنسپلوں کی جانب سے اِس سلسلے میں درپیش رُکاوٹوں کے لئے اُنہوں نے عملے ، بنیادی ڈھانچہ او رسازو سامان کی قلت کامسئلہ حل کرنے کی یقین دِہانی کی۔اِس سے قبل ڈائریکٹر کالجز نے کہا کہ قریباً 50کالج این اے اے سی کے تسلیم شدہ ہے اور اعلیٰ تعلیمی محکمہ باقی ماندہ کالجوں کے لئے بھی این اے اے سی ایکرڈیٹیشن کا خواہاں ہے۔
 
 
 

ڈگری کالج چاڈورہ کیلئے اراضی منتقلی | اپنی پارٹی لیڈر نے انتظامیہ کی سراہنا کی

سرینگر//جموں وکشمیر اپنی پارٹی لیڈر فاروق اندرابی نے ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقہ میں گورنمنٹ ڈگری کالج کے قیام کے لئے شناخت کی گئی اراضی کو محکمہ اعلیٰ تعلیم کے نام منتقل کرنے پر لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی والی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ۔ ایک بیان میں اندرابی نے صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے، کمشنر سیکریٹری اعلیٰ تعلیم، ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام، ایس ڈی ایم چاڈورہ، میونسپل کمیٹی چاڈورہ اور محکمہ مال کے متعلقہ ملازمین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ضروری لوازمات مکمل کر کے اراضی کی منتقلی کو یقینی بنایا جس سے اب کالج کی جلد تعمیر کے لئے راہ ہموار ہوگئی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا ’’میں اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری کا شکر گذار ہوں جنہوں نے بطور ِ وزیر تعلیم چاڈورہ کے لئے ڈگری کالج منظور کیاتھا اور اب 25کنال اراضی محکمہ اعلیٰ تعلیم کو منتقل ہونے سے اہلیانِ چاڈورہ کی دیرینہ مانگ پوری ہوگی‘‘۔ اپنی پارٹی لیڈر نے لوگوں کے مطالبات کی طرف توجہ دینے اور اُن کے بروقت موثر ازالہ کے لئے لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ بس ٹرمینل چاڈورہ پر بھی جلد کام شروع کیاجائے جس کے لئے متعلقہ محکمہ نے پہلے ہی مفصل پروجیکٹ رپورٹ پیش کر دی ہے۔
 
 
 
 

نیشنل کانفرنس کا شادی لال  کے لواحقین سے اظہار تعزیت 

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر شریف الدین شارق ، محمد یوسف ٹینگ اورصوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میرنے ریاست کے ہر دلعزیز اور مقبول اداکار شادی لال کول ساکن چوٹہ بازار کنہ کدل حال جموں کے فوت ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آنجہانی کے پسماندگان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ۔ پارٹی کے اقلیتی سیل کے لیڈران بھوشن لعل بٹ، ڈاکٹر سمیر کول ، ایم وائی یوگی اور انیل دھرنے آنجہانی کی آتما کی شانتی کیلئے دعا کی۔
 
 
 

  عارضی ملازمین کی تنخواہیں واگزار کی جائیں: اعجاز خان 

سرینگر // ٹریڈ یونین لیڈر اعجاز خان نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ تمام محکمہ جات کے عارضی ملازمین کی رُکی پڑی تنخواہوں کو عید سے قبل واگذار کیا جائے ۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ وادی کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کررہے عارضی ملازمین کئی ماہ کی تنخواہوں سے محروم ہیں جس کے نتیجے میں عارضی ملازمین کے اہلخانہ فاقہ کشی پر مجبور ہیں ۔ انہوںنے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ ان ملازمین کے مسائل کی طرف توجہ دیکر ان کی رُکی پڑی تنخواہوں کو عید الاضحی سے قبل واگذارکیا جائیتاکہ وہ بھی عید کے موقع پراپنے اہل وعیال کی ضروریات کو پورا کرسکیں۔ سی این آئی
 

میڈیکل کالج اننت ناگ کے پرنسپل کو صدرمہ، ہمشیرہ انتقال کر گئیں

اننت ناگ //گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت جیلانی کی ہمشیرہ انتقال کرگئیں۔اس سلسلے میں اسپتال کے لیکچر ہال میں ایک تعزیتی اجلاس منعقدہواجس میں مرحومہ کے ایصال ثواب اور غمزدہ کنبہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔تعزیتی اجلاس میںاسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالمجید میر، طبی و نیم طبی عملہ ، فیکلٹی ، میڈیکل ، پیرا میڈیکل ، وزارتی اور دیگر عملہ نے شرکت کی۔کشمیر عظمی کے نامہ نگار عارف بلوچ نے بھی پسماندگان سے اظہار تعزیت کی ہے۔
 
 
 

ادویہ سازی کے شعبے میں تحقیق 

بین الاقوامی ویبنارمیں کشمیر یونیورسٹی کی شرکت

سرینگر//کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ فروغ انسانی وسائل مرکز اور شعبہ ادویاتی سائنس کی جانب سے دوسرے بین الاقوامی ویبنار کے دوران فارمسی کونسل آف انڈیا کے صدر اور جے ایس ایس اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میسور کے پرو چانسلرپروفیسر بی سریش نے کلیدی خطبہ دیا۔ویبنار میں ایک ہزار شرکاء جس میں دنیا بھر سے طلاب ،محقیقین،ماہرین تعلیم،صنعت کاروں،ادویات ، ضوابط کا نفاذ کرنے والوں اور غیرتدریسی عملہ سے وابستہ لوگ شامل تھے۔ پروفیسر سریش نے ادویہ سازوں کو صحت کی نگہداشت سے متعلق جدید تعلیم سے خود کو لیس کرنے کی صلاح دیتے ہوئے کہا کہ ہنر سازی اور صلاحیت سازی کو بہتر کریں تاکہ وہ سماج اور معاشرے کو صحت مند بنانے میں اپنا رول ادا کریں۔انہوں نے اپنے خطبے کے دوران اس میدان میں جدید رجحانات اور ادویہ سازی کے میدان میں مستقبل میں آنے والے چلینجوں پر روشنی ڈالی۔ کشمیر یونیورسٹی؎ میں شعبہ ادویاتی سائنس شعبہ کی سربراہ پروفیسر ناہیدہ تبسم نے شعبے کی طرف سے تحقیق کے میدان میں کئے گئے کام پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فارمیسی کونسل آف انڈیا اور مرکزی ادویہ قانون کا جموں کشمیر میں نفاذ کیا جائے گا۔ویب نار کے دوران کشمیر یونیورسٹی کے یو جی سی کے فروغ انسانی وسائل کے سربراہ پروفیسر شبیر احمد بٹ اور آرگنائزئنگ سیکریٹری ڈاکٹر گیر محمد اشفاق نے بھی ادویہ سازی اور اس شعبے میں کئی گئی تحقیق پر روشنی ڈالی۔
 
 
 

طبی علاج سے زیادہ کونسلنگ مؤثر: ڈاکٹر محمد مظفر خان

سرینگر// یوتھ ڈیولپمنٹ اینڈ رہیبلٹیشن سینٹر سرینگر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد مظفر خان کا کہنا ہے کہ منشیات کی لت میں پھنسے بچوں کو باہر نکالنے کے لئے طبی علاج سے بھی زیادہ اہم اور موثر کونسلنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین اور اساتذہ سے بہتر کوئی کونسلر نہیں ہوسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے عید گاہ سرینگر میں 50 بستروں پر مشتمل سینٹر قائم کیا ہے جہاں منشیات کے مریضوں کا مفت علاج ومعالجہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے ان باتوں کا اظہار محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے خصوصی پروگرام 'سکون' میں کیا ہے۔ڈاکٹر مظفر خان نے کہا: 'جب کوئی بچہ منشیات کا عادی بن جاتا ہے تو وہ پورے خاندان کے لئے بہت ہی بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس کو منشیات کے دلدل سے باہر نکالنے کے لئے اگرچہ میڈیکل علاج ضروری ہے لیکن کونسلنگ کا سب سے بڑا رول ہے'۔ماہر نفسیات ڈاکٹر ونود دھر نے کہا کہ ایک بچہ سگریٹ پینے سے منشیات کا سفر شروع کرتا ہے اور پھر چرس اور بعد میں ہیرائن کا استعمال کرنے لگتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں والدین اس کو محسوس کرسکتے ہیں اور اس کا خود ہی کونسلنگ کے ذریعے علاج بھی کرسکتے ہیں۔یو این آئی
 
 
 

منشیات مخالف مہم |  سوپور میںشہری گرفتار، نشیلی ادویات ضبط

غلام محمد

سوپور//سوپور پولیس نے منشیات مخالف مہم کے دوران شنگر گنڈ علاقے میں ناکے کے دوران ایک شہری کو گرفتار کیا ہے اور اس کے قبضے سے نشیلی ادویات کوبرآمد کیا۔پولیس کے مطابق منشیات فروش ناصر احمد خواجہ ساکن سیلو سوپور کو گرفتار کر لیا گیاجو علاقے میں منشیات کے دھندے میں ملوث تھا۔ اُس کے قبضے سے 143 نشیلی کیپشول اور 12 کوڈین بوتلیں برآمد کی گئیں اور مذکورہ شخص کے خلاف ایک کیس زیر ایف آئی آر، نمبر 184/2020 پولیس تھانہ سوپور میں درج کیا گیا ۔ ایس ایچ او سوپور نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ رواں سال مارچ سے آج تک سوپور پولیس نے 38 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 5 کو سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔
 

تازہ ترین