تازہ ترین

برطانیہ میں مقیم کشمیری ڈاکٹروں کی اپیل، کوروناکا کوئی فوری علاج نہیں

طبی ماہرین کی صلاح پرسختی سے عمل کریں

تاریخ    15 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//برطانیہ میں کام کررہے کشمیری ڈاکٹروں نے وادی کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ طبی پیشہ وروں کے ساتھ تعاون کرکے اُن کے مشوروں پر عمل کریں تاکہ کوروناوائرس کی عالمگیروباء پر قابو پایا جاسکے۔وادی میں کووِڈ- 19کے معاملوںمیں اضافہ ہونے پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے برطانیہ میں کشمیر ڈاکٹروں کی انجمن (بی کے ایم اے)نے کشمیری زبان میں ایک ویڈیو میںلوگوں پرزوردیا ہے کہ وہ کوروناوائرس کی انفیکشن کے پھیلائوکوروکنے کیلئے معیاری ضابطہ عمل پرسختی سے عمل کریں۔برطانیہ میں کشمیری ڈاکٹروں کی انجمن کے صدر ڈاکٹر فاروق احمد واندرو،کنسلٹنٹ ہیمٹالوجی ،نے سات منٹ کے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ برطانیہ کاصحت عامہ کانظام دنیابھر میں اعلیٰ پایہ کاہے لیکن ہم نے اس وباء کا مشکل سے مقابلہ کیا ہے ۔برطانیہ  اور ہمسایہ ممالک میں کافی اموات ہوئی ہیں ۔ہمیں آپ کی فکر ہیں کیوں کہ کشمیرمیں یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔لوگوں اور ڈاکٹروں کو اس کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہے ۔ڈاکٹر شاہین شورا نے کشمیری لوگوں پرزوردیا ہے کہ وہ چہرے پر ماسک لگائیں اور مساجد کارُ خ کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے مزیدکہا،’’مہربانی کرکے چہرے پر ماسک لگائیںکیوں کہ اس سے وائرس انفیکشن لگنے کے امکانات کم ہوتے ہیں ،اجتماعات سے گریز کرناچاہیے اور مساجد کے بجائے گھروں میں نمازاداکی جائے۔ ڈاکٹر شارق لنکر،جنرل پریکٹشنر نے کہاکہ اس وائرس کا کوئی ٹیکہ نہیں ہے یا کوئی دوااس کے علاج کیلئے نہیں ہے ،سماجی رابطوں کوکم کرنااورمعیاری ضابطہ عمل پر عمل کرنااس کے مقابلے کی کلید ہے ۔لنکرنے کہا ،’’ملکوں نے اس بیماری کے پھیلائو کوروکنے کیلئے لاک ڈائون نافذکیااورسماجی دوریوں کواختیارکیا۔ہم اپنے کشمیری بھائیوں اوربہنوںسے اپیل کرتے ہیں کہ وہ سماجی رابطوں کو کم کریں اور احتیاطی تدابیراختیار کریں کیوں کہ ہم اس بیماری کے نازک مرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔یہ اب سماج میں ہے اور پھیل سکتا ہے.۔سوموارکوجاری جموں کشمیرانتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق  وادی میں کووِڈ- 19کے 8495معاملات سامنے آئے ہیں اوراس بیماری سے170لوگوں کی موت ہوئی ہے ۔4569مریض صحت یاب ہوئے ہیں جبکہ3756ابھی بھی اس بیماری میں مبتلاء ہیں.۔ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ دیگر عارضوں میں مبتلاء لوگوں جیسے ذیابیطس،گردوں کی بیماریاںاور بلندفشار خون میں مبتلاء لوگوں کی پرواہ کریں ۔طبی پیشہ وروں نے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی کہ اُن لوگوں کے ساتھ امتیاز نہ برتے جو اس بیماری کاشکار ہوئے۔

تازہ ترین