تازہ ترین

کشمیر کی دستکاری صنعت روبہ زوال

خریدار،نہ دادرس،کاریگروں کا خدا ہی حافظ

تاریخ    15 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بشیر اطہر
یوں تو ہماری وادیٔ کشمیر کی معیشت کا دارومدار تین بڑے شعبوں پر ہے جن میں دستکاری، سیاحت اور زراعت قابلِ ذکر ہیں مگر اب کئی دہائیوں سے یہ تینوں شعبے بْری طرح سے متاثر ہوئے ہیں جس کے اہم وجوہات اندرونی تناؤ اور ان شعبوں کی طرف سرکار کے ساتھ ساتھ عوام کی عدم توجہی بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان شعبوں سے وابستہ لوگ اب کسمپرسی کی زندگی جی رہے ہیں۔ جہاں تک دستکار ی صنعت کی بات ہے تو کشمیر دستکاری صنعت کی تاریخ کئی سو سال پرانی ہے اور اس شعبے سے یہاں کی ایک بڑی تعداد وابستہ رہی ہے ۔ان دستکاریوں میں قالین بافی، شالبافی، پشمینہ سازی، پیپر ماشی اور لکڑی کی کندکاری قابلِ ذکر ہیں ۔ اب لگ بھگ ان دستکاریوں کا جنازہ نکلنے کو ہے اور لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔کشمیری دستکاریوں کا جگہ اب اس سائنسی دور میں مشینوں نے لی ہے، ان سے سستا مال تیار کرکے مارکیٹ میں آنے سے بھی ان دستکاریوں کا دم اب آہستہ آہستہ گْھٹ رہا ہے ۔ آج کل مشینی مال کا بول بالا بھی ہے اور لوگ اسی کی ڈیمانڈ کررہے ہیں ۔اگر یہی حال رہا تو وہ وقت بھی دور نہیں کہ کشمیری دستکار مالی بحران میں آکر خودکشی جیسی سنگین حرکتیں بھی کرسکتے ہیں کیونکہ ان کا کوئی پْرسان حال نہیں ہے۔ 
کشمیرمیں دستکاری کاسفر لگ بھگ 600سال طویل مدت پر محیط ہے مگر تب سے آج تک اس شعبے کی کسی نے بھی آبیاری نہیں کی اور اس صنعت کے ساتھ وابستہ دستکاروں کے حق میں کبھی بھی کوئی وظیفہ مقرر نہیں کیاگیا۔ جموں و کشمیر میں کھادی اینڈ ولیج محکمے کے متعلق کسی کو کوئی خبر نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ ہینڈی کرافٹس بھی برائے نام ہے۔ ان محکموں کے ذریعے سے نوجوان دستکاروں کو کبھی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی اور آج تک ان نوجوان دستکاروں کے زخموں کا مداوا کسی نے نہیں کیا ۔یہ محکمے صرف کاغذی گھوڑے دوڑا رہے ہیں اور دستکاروں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔یہ بات بھی قابل مذمت ہے کہ جو لوگ دستکاری اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے ہیں اور اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو آگے لاکر اور انگلیوں میں بھرے جادوئی ہْنر سے اس کو جِلا بخشتے ہیں، ان کا کوئی قدردان نہیں ہے مگر کئی لوگ جو دستکاریوں کا الف بے تک بھی نہیں جانتے ہیں مگر اثر و رسوخ والے ضرور ہوتے ہیں وہ ان دستکاریوں کو اپنے سر لیکر گورنمنٹ کی طرف سے اعزازی اسناد کے ساتھ ساتھ انعام واکرامات بھی وصول کرتے ہیں اور اس طرح وہ دستکاروں کے حق پر شب خون مارنے میں کامیابی حاصل کررہے ہیں۔
 کئی لوگ جو اس صنعت سے وابستہ ہیں،ان کا کہنا ہے کہ یہ صنعت اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے کیونکہ گزشتہ پچیس برسوںسے جاری نامساعدحالات کی وجہ سے اس صنعت کو کافی نقصان ہوا ہے مگر محکمہ ہینڈی کرافٹس کی خاموشی بھی معنی خیز ہے اور یہ محکمہ غریب اور مفلوک الحال دستکاروں کی خاطر کوئی مثبت قدم نہیں اٹھارہا ہے جس کی وجہ سے یہ غریب طبقہ بنک قرضوں کے نیچے دب گئے ہیں اور مالی بحران میں آکر اب ذہنی دباؤ کے بھی شکار ہورہے ہیں ۔اگرچہ گورنمنٹ کی طرف سے ہر سال دستکاری میلوں پررقوم خرچ کر رہی ہے مگر یہ سب سراب ثابت ہورہا ہے کیونکہ جب کاریگر ہی نہ رہے تو ان میلوں کا کیا مطلب ہے ۔
دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو اس صنعت کا دارومدار غیر ملکی وغیر ریاستی سیاحوں پر تھا مگر اب یہاں سیاحوں کا آنا جانا کم ہوا ہے ۔اس سے لگتا ہے کہ کشمیریوں کو معاشی طور غیر مستحکم کئے جانے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔یہ ایک قابل توجہ بات ہے کہ باغبانی اور دستکاری صنعتوں سے کشمیر کے آٹھ لاکھ سے زائد خاندانوں کے تقریباً45 لاکھ افراد کا روزگار منحصر ہے اور یہ صنعتیں کشمیر کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڑی کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان صنعتوں سے وابستہ افراد کا چولہا محنت کرنے کے بعد ہی جل رہا ہے ۔جموں و کشمیر سرکار کے اعداد وشمار کے مطابق2018کے دوران ریاست میں132 میگا ٹن خام ریشم تیار کی کئی تھی جس سے تقریباً150000میٹر ریشمی کپڑا تیار کیا گیا اور اس پر تقریباً 192.58ملین امریکی ڈالر کا خرچہ آیا تھا مگر ریاست سے کاٹیج ہینڈی کرافٹس انڈسٹری کی کل برآمدات178. 26ملین امریکی ڈالر رہیں تھیں ،جس سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً اس پر 15ملین امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے جو اس صنعت کی کہانی اپنی ہی زبانی پیش کررہی ہے۔ اگر آئندہ بھی یہی حال رہا تو غریب دستکاروں کا مستقبل داؤ پر لگ جائے گا
ایک سروے کے مطابق2019کے لاک ڈاؤن کے بعد سے ہینڈی کرافٹس سیکٹر میں600کروڈ روپے سے زائد مالیت کے اسٹاک فروخت نہیں ہوئے مگر حکومت چپ چاپ تماشا دیکھ رہی ہے ۔دستکاری صنعت کشمیر کی شان ہے ،اس لئے اس صنعت کو بچانے کیلئے ہم سب کو آگے آنا چاہیے اور حکومت پر دبائو ڈالنا چاہیے تاکہ صدیوں پرانی اور شہرہ آفاق دستکاری مصنوعات کے فروغ اور اس صنعت کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے اقدامات کرے ور جو نقصان دستکاروں کو 2018سے لیکر2020 تک ہوا ہے ،اس کی حکومت تلافی کرے تاکہ یہ غریب دستکار بھی عزت کی زندگی جی سکیں اور ان کے بچے بھی تعلیم کے نور سے منور ہوسکیں۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہیے کہ وہ دستکاروں کے لیے کم سود والے اور آسان قرضے فراہم کرے تاکہ یہ دستکار اپنی صنعتوں کو ازسر نو تشکیل دیں۔نیز حکومت کو چاہیے کہ وہ دستکاروں سے براہ راست مال خرید کر اس کو مارکیٹ میں ڈالے تاکہ ان غریبوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ مگر مچھ کے آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوتا ہے بلکہ اس گم گشتہ صنعت کی طرف توجہ دینے سے کسی حد تک مسائل حل ہوجائیں گے۔
رابطہ ۔خانپورہ کھاگ،7006259067
 

تازہ ترین