کمیونٹی کلاسز کو بند کیا جائے:ماہرین

آن لائن نظام تعلیم کو ہی فروغ دینے پر زور

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//محکمہ تعلیم نے گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف دیہی علاقوں میں دسویں جماعت تک کمیونٹی کلاسز شروع کئے ہیں جہاں اساتذہ بچوں کو کسی گھر یا کسی میدان میں جمع کرکے پڑھاتے ہیں ۔اگرچہ یہ ہدایات اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان کلاسوں میں ایس او پیزکا پورا اہتمام ہوتا ہے تاہم زمینی سطح پر یہ شکایات موصول ہورہی ہیں کہ ایسا سو فیصد کہیں بھی عملایا نہیں جاتا ہے ۔ عوامی حلقے اورماہرین تعلیم یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کلاس تو کلاس ہوتے ہیں وہ چاہئے سکول میں ہوں یا پھر کھلے میدان میں وہاں پر آپسی میل جول کا کافی احتمال رہتا ہے اور اسطرح سے وبائی بیماری کے پھیلائو کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا اور پھر یہ سوال کہ سکول بند رکھنے کے پھر کیا معنی ہیں۔ دوسرا سوال یہ پوچھا جارہا ہے کہ اس طرح سے آن لائین کلاسز بہت متاثر ہوگئے ہیں۔عوامی حلقوں اور تعلیمی ماہرین نے اس اقدام پرتعجب اور برہمی کا اظہار کیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ روز بروز کورونا بیماری کی صورتحال بگڑتی جارہی ہے تو اسکولی نونہال بچوں کو کیوں رسک میں ڈالا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیونٹی کلاسز کو منسوخ کرکے آن لائن کلاسوں کو ہی فروغ دیا جانا چاہئے۔ تاکہ بچھے محفوظ بھی رہیں اور انکا مستقبل بھی روشن ہوجائے۔ 

تازہ ترین