تازہ ترین

لیڈروں کی خانہ نظربندی غیر قانونی:ڈاکٹر فاروق،عمر

رہائی کیلئے عدالت عالیہ میں عرضی دائر

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


 سرینگر//سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ نے 5اگست2019 سے نیشنل کانفرنس کے16نظربند لیڈروں کی رہائی کیلئے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔پارٹی بیان کے مطابق ڈاکٹرفاروق اور عمر عبداللہ نے ان لیڈروں کی’’ غیر آئینی و غیر قانونی رہائشی نظربندی‘‘ کے خلاف حبس بے جا کے تناظر میں عدالت میں عرضی دائر کرتے ہوئے انکی رہائی کی درخواست کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے علی محمد ساگر،عبدالرحیم راتھر،ناصر اسلم وانی، آغا سید محمود،محمد خلیل بندھ،عرفان شاہ اور شمیمہ فردوس جبکہ عمر عبداللہ نے محمد شفیع اوڑی،سید روح اللہ مہدی،چودھری محمد رمضان،مبارک گل، ڈاکٹر بشیر ویری،عبدالمجید لارمی، بشارت بخاری اور ڈاکٹر محمد شفیع کی رہائشی نظربندی کو چلینج کرتے ہوئے سینئرایڈوکیٹ شارق ریاض کی وساطت سے عدالت میں عرضی دائر کی ہے۔پارٹی ترجمان کے مطابق عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ ان لیڈروں کی پی ایس اے کے تحت جیل سے رہائی کے بعدان کو مسلسل خانہ نظربندی سے نجات دلانے کیلئے کیا گیا۔ انہوں نے کہا’’ قیدیوں کو جیل خانوں سے انکو گھر منتقل کرنا، ایک دروازے سے نکال کر دوسرے دروازے کے پیچھے نظربند کرنے کی مشق ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’ پارٹی جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر کے پی ایس کو  عدالت کی طرف سے منسوخ کرنے سے یہ بات اجاگر ہوئی تھی بغیر کسی معقول وجہ کے تمام نظربندوں کو رہا کریں گی،تاہم بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامی احکامات کے بغیر کسی بھی طرح کی نظربندی غیر قانونی جو انفرادی آزادی اور حقوق انسانی کے تقدس کی پامالی ہے۔ پارٹی ترجمان نے اس بات کی امید ظاہر کی کہ قانونی نظام ان کے ساتھیوں کے مدد کیلئے سامنے آئے گا،جبکہ یہ لیڈراں بغیر کسی غلطی کے5اگست کے بعد بند ہے۔انہوں نے کہا’’ ہمارے پاس اب صرف یہی راستہ بچا تھااور ہم پرامید ہے کہ عدالت ہمارے ساتھیوں کی شخصی آزادی کو بحال کرے گی،جن میں سے بیشتر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے‘‘۔