تازہ ترین

تعلیم کی اہمت

آگہی

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


مصروف العالم
تعلیم انفرادی اور اجتماعی طور پر سب کے لیے نہایت اہم ہے۔یہ ہر قوم کی بنیاد ہوتی ہے اور اسی سے سماجی ،معاشی ،شعوری اور سیاسی استحکام آسکتا ہے۔تعلیم ایک بہترین سرمایہ ہے جو ایک انسان کو دیگر مخلوقات سے اعلیٰ تر بناتی ہے اور ایک اچھا انسان بننے میں مدد دیتی ہے۔اجتماعی طور پر تعلیم یافتہ ہونا کسی بھی ملک کی ترقی و  استحکام کے لیے ضروری ہے۔یہی وہ دولت ہے جو ایک قوم کو سرخ روئی و سربلندی عطا کرسکتی ہے اور اسے ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کرسکتی ہے۔تعلیم ہی ترقی کی بنیاد ہے۔ہمارے دینِ اسلام میں بھی تعلیم پر بہت زور دیا گیاہے۔چنانچہ ایک مرتبہ رسولِ رحمت ﷺ نے جنگی قیدیوں کو اس شرط پر آزاد کرایا کہ وہ مسلمان بچوں کوتعلیم فراہم کریں۔
آج کے اس پُرآشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ٹیکنالوجی کا دور ہے ،سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے۔جدید علوم تو ضروری ہیں مگر اسی کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لئے بھی اخلاقی تعلیم بے حد ضروری ہے۔اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت، محبت ،خلوص، ایثار ،خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اخلاقی تعلیم کی وجہ سے سے صالح اور نیک معاشرے کی تشکیل ہو سکتی ہے۔تعلیم کے حصول کے لئے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیںجو بچوں کو اعلی تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں۔اساتذہ وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور چار کلاسیں لے کر اپنے فرائض سے آزاد ہوجائیںبلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک، علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے سے پورا کیا ،ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے کہ محسوس ہوگا کہ پیشہ ٔ تدریس کو بھی آلودہ کیا گیا۔محکمہ تعلیم اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہو گیا۔کل تک حصول علم کا مقصد تعلیم انسانی تھا، آج نمبر اور پوزیشنیں حاصل کرنا۔ افسوس کہ ہمارے ملک کے تعلیمی اداروں پر مفاد پرست ٹولہ قصر شاہی کی طرح قابض ہو رہا ہے جن کے نزدیک اس عظیم پیشے کی کوئی قدر و منزلت ااورہمیت نہیں رہی۔اس ٹولے کا واحد مدعا و مقصد مادہ پرستی ہے۔ایسے اداروں سے ڈگری یافتہ انسان تو پیدا ہوتے ہیں لیکن تعلیم یافتہ نہیں۔تعلیمی میدان میں مسلمان سب سے پیچھے ہیں ۔دُنیا میں اسلام عیسائیت کے بعد سب سے بڑا مذہب ہے لیکن تعلیمی اعتبار سے دیکھا جائے تو مسلمان خال خال ہی کسی صف میں نظر آئیں گے۔ ہمارے اسلاف نے علم و ادب کے جو میدان فتح کیے تھے،آج اُن سے دیگر قومیںتو مستفید ہوتی ہیںلیکن مسلمان نہیں ۔چنانچہ علامہ اقبال نے اسی حوالے سے کہا ہے   ؎
مگروہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی
جو دیکھی یورپ میں دل ہوتا ہے سیپارہ 
 موجودہ وبا یعنی کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر تعلیمی نظام بری طرح سے متاثر ہوا ۔مرکز کے زیر اہتمام علاقے جموں کشمیر کی بات کی جائے تو یہاں کا تعلیمی نظام بھی بری طرح سے متاثر ہوا ۔گزشتہ سال کے حالات کی وجہ سے یہاں کا تعلیمی شعبہ پہلے ہی کافی متاثر تھا اور اب یہ لاک ڈاون اس پر کاری ضرب ثابت ہورہا ہے۔اگرچہ یہاں اب آن لائن کلاسوں کا سلسلہ شروع کیا جا چکا ہے مگر فور جی انٹرنیٹ سروس کی عدم دستیابی کے باعث انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔کئی ماہ کی مسلسل محصوری نے اُنہیں ذہنی تناو کا شکار کیا ہے۔یہ بچے اب اپنا وقت موبائل گیمز ،ٹی وی اور اسی طرح کے دیگر سرگرمیوں میں گزارتے ہیں۔کئی بچے اس طرح کی صورتحال میں بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔اس سراسیمگی نے اب والدین کو اور فکر مند کر دیا ہے۔اگرچہ والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح بچوں کی توجہ مثبت سرگرمیوں کی طرف مبذول کریںمگر یہ ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔والدین یقینی طور پر بچوں کی تعلیم کو لے کر تشویش میں ہیںمگر اب انہیں یہ فکر زیادہ ستا رہی ہے کہ بچے ذہنی تناؤ کے شکار نہ ہوجائیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس صورت میں والدین بچوں کا خاص دھیان رکھیں۔ بچوں پرزیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے اور بچوں کو تفریح کا سامان گھر میں فراہم کریں.۔ انہیں معمول کے مطلق مختلف مثبت اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے۔اس حوالے سے والدین کو انتہائی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ اُن کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کریں مگر ساتھ ساتھ اُن کی صحت ،خاص کر ذہنی صحت کا بھرپور خیال رکھیں۔ (پلوامہ کشمیر)