تازہ ترین

جدید تعلیم کی بے سود دوڑ

تعلیم خواندگی نہیں انسان بننے کا نام

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بلال احمد پرے
تاریخ شاہد ہے کہ جتنی لوٹ کھسوٹ،  بد اعمالیاں و بد عنوانیاں، رشوت، جرائم و دیگر برے اوصاف پڑھے لکھے افراد نے انجام دیئے ہیں، ان پڑھ افراد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ تعلیم وہ طاقت ہے جو انسانی ذہن سے جہالت اور اندھیرے کے پردے کو چاک کرکے اس سے روشنی کی طرف صحیح رخ کے تعین کا فیصلہ کرنے میں مدد کرتی ہے۔
آج کل تعلیمی ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی دوڑ میں سبقت لینے میں لگے ہوئے ہیں۔ جہاں جمہوریت، سماجیت، ریاضی، تواریخ، سائنس، اردو و انگریزی جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں مگر وہیںاخلاقی تعلیم سے محروم ہی رکھا جاتا ہے۔ اس طرح سے طلبا خام ہی رہ جاتے ہیں جس طرح بٹھے میں کچی اینٹ کو پکی کرنے کے غرض سے ڈالا جاتا ہے لیکن معمولی سی کمزوری کی وجہ سے کئی اینٹیں خام مال کی شکل میں ہی دوبارہ نظر آرہی ہیں۔
جو تعلیم مالک حقیقی کی پہچان کرنے سے قاصر ہو، اس کے تعارف سے بعید ہو، اس کے مقرر شدہ حدود میں زندگی بسر کرنے کا شعور نہیں بخشتی ہو، اخلاقی اقدار کو سنوارنے میں قاصر ہو، وہ تعلیم نہیں بلکہ جہالت، اندھیرا، غفلت، لاپرواہی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
آج کے دور میں انسانی ضروریات اور ایجادات کے جس طرح صنعت و تجارت اور جدید سائنسی ٹکنالوجی کے شعبوں میں وسعت فراہم کی ہے، علم و ہنر اور تحقیق و جستجو کے زاویوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انٹرنیٹ جیسی سستی اور آسان رسانی نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج ( Global Village) بنا دیا ہے۔ اس کا محسوس ضرور ہوتا ہے کہ انسان اپنی ترقی اور علم کی اس انتہا کو پہنچ چکا ہے جس سے اگر انسانی اخلاق واقدار کے ڈھانچے میں نہیں ڈھالا گیا تو اس پورے معاشرے کی تباہی یقینی ہے اور بہت سی حد تک ہم اس اندھی ترقی کے تباہ کن نتائج سے آشنا بھی ہو چکے ہیں۔
انسان نے جہاں جدید علوم سے آسمانوں تک اپنی کمنڈ ڈالی ہے وہیں یہ انسان اخلاقی طور آسمان سے زمین پر الٹا گر چکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم نہ دینے سے بچوں میں منفی سرگرمیاں پرورش پارہی ہیں۔ ہمیں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ دنیا میں مسلمان کی اپنی حیثیت اور شناخت ایک داعی اور قائد کی طرح ہے۔ داعی اور قائد اگر تعلیم یافتہ اور بے دار نہ ہو تو وہ کسی قوم اور قافلے کی رہنمائی کبھی نہیں کرسکتا ہے۔
جدید علوم کو حاصل کرنے کا مقصد صرف اپنی ضروریات زندگی کو بہ آسانی پانے اور دنیا کو خوبصورت بنانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جس کو زندگی کے تقریباً تیس سال صرف کرنے پڑتے ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ضروری ہے کہ ان تیس برسوں کے تعلیمی وقفہ کے دوران اگر بچہ کو کوئی ٹھوس اخلاقی تعلیم نہ دی گئی اور وہ انسانی اقدار کے اوصاف سے غافل ہی رہا اور دنیا میں آنے کے اصل مقصد سے محروم رہا تو وہ اپنی باقی کی زندگی میں اپنی اس غیر اخلاقی دنیاوی اور مادی تعلیم کی کامیابی اور ناکامی جیسے دونوں صورتوں میں جو فساد برپا کرے گا، وہ آئے روز ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال رح نے طلباء کو یہ بات باور کرائی کہ اس مادہ پرست دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر نہ رہ جانا بلکہ تربیت کے اس زمانہ میں:-
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم سے صداقت ختم ہو جائے وہاں منافقت ڈیرہ جما لیتی ہے ۔ عدل جس کا شیوہ نہ ہو وہاں ظلم وستم کا راج ہوتا ہے اور پھر جس قوم سے شجاعت کا جنازہ اٹھ جائے تو پھر اس کی اپنی کوئی مرضی نہیں رہتی، چوروں اور لٹیروں کی چاکری اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ ایسے حالات میں علمبرداران اسلام پر یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے تمام انسانوں کے اندر بڑھ رہے اس تباہ کن مادہ کو ختم کرنے اور اس سے معاشرے کی تباہی کے میں تبدیل ہونے سے قبل ہی اسلامی اخلاق و اقدار کی تعلیم سے روشناس کرائیں۔ حالانکہ کئی انجمنیں اپنا کام کر رہی ہیں جس کے فائدے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے جن میں دعوت و تبلیغ نمایاں اثر پذیر رہی ہے۔
زندہ ضمیر لوگوں کی یہ کوشش اول سے ہی رہی ہے کہ سرکاری اسکولوں و کالجوں کے علاوہ نیم سرکاری اداروں میں بھی اسلامی تعلیمی نصاب کو شامل کروایا جائے تاکہ آئے روز بے راہ روی جیسے برائیوں کو قابو کیا جا سکتا ہے اور ان سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات کو جدید علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی اخلاق و اقدار کی تعلیم سے پختہ ذہن بنایا جائے۔ چونکہ اس نصاب کو شامل کرانے میں کئی منفی خیالات رکھنے والوں کی طرف سے رکاوٹیں در پیش ہے جس سے یہ مشکل بنا دیا گیا ہے۔لیکن ہمیں اپنے ذاتی سطح پر رسمی تعلیم کے ابتدا سے ہی بچوں کو نزدیکی دارالعلوموں، اسلامی مکتبوں، درسگاہوں میں داخلہ کرانا چاہیے۔ آج کل کئی ایسے اسکول بھی کھل چکے ہیں جہاں جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی نصاب تعلیم کو بھی عملایا گیا ہے۔ لیکن ایسے اداروں کو قابل قبول فیس وصول کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبا کو اپنی طرف راغب کیا جا سکیں۔ اسلامی بیداری پیدا کرنے کے حوالے سے شہر و دیہات کے تمام محلوں میں مردوں و عورتوں کے خاطر ہفتہ وار اصلاحی مجالس کا انعقاد کرانا ہوگا۔ اسلامی فکر پیدا کرنے کے لیے بچوں کو اسلامی شاندار ماضی سے آگاہ کر کے ، اپنے اسلاف کے عمدہ کارناموں سے جوڑ کر ان کا تعلق اور نسبت محسن انسانیت معلم اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم سے استوار کرانا ہوگا۔ اسکولوں میں قرآن مجید، سیرت النبی صلی اللہ علیہ و سلم، سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین اور تابعین کے سنہرے عنوانات کے حوالے سے مقابلہ جاتی پروگرام، مباحثے( Debates) ، مجالس منعقد کروائے جائیں۔ روزانہ اسکول اسمبلی میں تلاوت قرآن کو معہ ترجمہ پڑھنے کا نظم و ضبط بنایا جائے۔
بدن سے روح جاتی ہے تو بچھتی ہے صف ماتم
مگر کردار مر جائے تو کیوں ماتم نہیں ہوتا
آج ہم سب چاہتے ہیں کہ اسلامی بہار پھر سے اپنے اسی عروج پر ہو جس کے تیز و خوش رو ہوا میں عدل وانصاف کی خوشبو آرہی ہو۔ لیکن اس کے لیے ٹوٹی ہوئی رسی اور ربط کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا، اسلامی نظام کو اپنی نجی زندگیوں میں اس طرح اتارنا ہوگا کہ وہ اس کی روح روا اور اس کا احساس و ادراک بن جائے۔ بچوں کی تربیت اس طرح کی جائے کہ وہ جس شخص میں بھی اخلاقی برائی کا اثر پائیں اس سے دور رہ کر بری نگاہ سے دیکھنے لگے۔ بچوں کو روز مرہ تدریس کے دوران صداقت و دیانت، امانت و پاس عہد، عدل و انصاف، حق شناسی، ہمدردی و اخوت، ایثار و قربانی،  فرض شناسی و پابندی حدود جیسے اوصاف سے بڑھکر ظاہر و باطن کی پرہیز گاری سے ذہن سازی کریں۔
 الغرض ہر حال میں خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرنے کا سبق دیا جائے تاکہ ان کے اندر یہ اوصاف بچپن کے دور میں ہی نشو و نما پائیں۔ اس لیے ان کی تربیت کا عمل جس قدر شفاف اور کارآمد ہو اسی قدر قوم کو بہتر مستقبل دیکھنے کو ملے گا-
رابطہ ۔رابطہ ہاری پاری گام، ترال کشمیر 
فون نمبر- 9858109109