تازہ ترین

بدلتے حالات میں اُردو تدریس کابدلتا منظر نامہ

جامعاتی سطح کی آن لائن پڑھائی کا تفصیلی جائزہ

تاریخ    14 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


پروفیسر اسلم جمشید پوری
کورونا جیسے مہلک مرض کے روز بہ روز پھیلتے دائرے اوراس کے نتیجے کے طور پر گھروں میں قید زندگی کو دیکھتے ہوئے سب کی زبان پر یہی جملے ہیں’’ اب کیا ہوگا؟‘‘ کیا لاک ڈاؤن پوری طرح کھل جائے گا؟ لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد کیا ہوگا۔ اس پورے عمل میں جبکہ گذشتہ تین ماہ سے ہرکاروبارِ زندگی بُری طرح متاثر ہے۔
کورونا کے سبب لاک ڈاؤن کا ہونا اور جسمانی دوری کے فارمولے سے بیماری سے مقابلہ کرنے کے نتیجے میں پیدا شدہ تنہائی نے جیسے سارا منظر ہی بدل دیاہے۔ طرز ِ حیات بدل گیاہے۔ اب وہی باقی رہے گا جو وقت کے تقاضے کے مطابق خود کو ڈھال لے گا۔ زبانوں کے سامنے بھی ایسے ہی حالات درپیش ہیں، لیکن زندہ زبانیں ، خستہ سے خستہ حالات میں بھی دوب کی طرح دب دب کر پھر سر ابھارتی ہیں۔ اُردو بے شک زندہ زبان ہے۔ اسی لیے اُردو نے لاک ڈاؤن جیسی صورتحال میں خود کو آن لائن کرکے اپنا وجود ثابت کر دکھایا ہے۔ آج آن لائن مشاعرے ، تعزیتی جلسے، سیمینار(ویبنار) اورمیٹنگیں منعقد ہو رہی ہیں۔
 یو جی سی کے احکامات کے مطابق سبھی یونیورسٹیز ، حتیٰ کہ پرائمری ، سکنڈری اور ہائر سکنڈری درسگاہوںمیں بھی تعلیم و تدریس کا کام آن لائن شروع ہو گیا ۔ سائنس اور دیگر مضامین انجیئرنگ ، ایم بی اے، ایم سی اے وغیرہ کے لیے آن لائن نظام ِ تعلیم کوئی نئی بات نہیں لیکن اردو کے لیے یہ ضرور بالکل نئی صورتِ حال ہے۔ مگر مشہور مقولہ ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔ اردو پر بھی یہ بات صادق آئی اور یونیورسٹی اور کالجز کے زیادہ تر شعبہء ہائے اُردو نے اُردو کی تعلیم و تدریس کو آن لائن کر دیا ہے۔ یہ بات جہاں اُردو والوں کے لیے پُر خطر اور انجان راستے کی مانند ہے وہیں مجھے لگتا ہے اُردو کے فروغ کا ایک اور در وا ہوا ہے۔ نئے نئے تجربات ہو رہے ہیں۔ بڑی اور Establishedیونیورسٹیز کے شعبہء ہائے اُردو کے لیے یہ بات بہت زیادہ نئی اور حیران کن نہیں ہے۔ وہ بہ آسانی اس نئی تکنیک سے تدریس کا کام انجام دے رہے ہیں ، جبکہ شہری علاقوں سے دور ، کمپیوٹر، فورجی موبائل ، انٹر نیٹ کنکشن جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم کالجز اور یونیورسٹیز کے شعبہء ہائے اردو کے لیے یہ تجربہ بہت کار آمد نہیں۔ ملے جلے تاثرات ہیں۔ زیادہ تر صدر ،شعبہء ہائے اردو کا مانناہے کہ کلاس روم تدریس ہی سب سے بہتر ہے ۔اس کا بدل کوئی اور طریقہ نہیں۔ یہ زمانہ مجبوری کا زمانہ ہے۔ ان کھٹے میٹھے تجربات کے باوجود یہ بات باعث مسرت ہے کہ ایسے حالات میں اردو نے خود کو رائج تکنیکی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے۔ اس پس منظر میں کہا جا سکتا ہے کہ کنواں پیاسے کے پاس آگیا ہے۔
ہندوستان کی ڈیڑھ درجن سے زائد اہم ، خاص اور بڑی یونیورسٹیز کے شعبہء ہائے اردو کے صدر ، اساتذہ اور ذمہ داران سے اس سلسلے میں گفتگو کی گئی ۔ سب سے کچھ باتیں ، کچھ سوال ، مشترک پوچھے گئے۔ سب سے ان کے یہاں آن لائن تدیس کے لیے اپنائی جارہی حکمت عملی اورطریقۂ کار کے بارے میں پوچھا گیا۔ ساتھ ہی پہلے ذریعہ تعلیم Class Room Teaching اوراب لاک ڈاؤن میں استعمال ہونے والے ذریعہ تعلیم یعنی Online Teaching System کے بارے میں تاثرات بھی لیے گئے۔ کچھ کے تاثرات یہاں پیش کئے جارہے ہیں۔
1۔ قومی نہیں بین الاقوامی سطح پر اردو کا سب سے بڑا شعبہء، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ہے ۔ان دنوں شعبے کے سربراہ معروف محقق وناقد پروفیسر ظفر احمد صدیقی ہیں۔ ان سے جب آن لائن تدریس کی بابت گفتگو ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے اساتذہ لاک ڈاؤن کے دوران Free Conference.com  ایپ کے ذریعہ پڑھا رہے ہیں۔ اس ایپ میں یوں تو آڈیو اور ویڈیو دونوں سہولتیں موجود ہیں، لیکن ہم لوگ آڈیو کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس ایپ میں بہت سارے فیچر ہیں مثلاً آڈیو ریکارڈنگ، تاریخ کے ساتھ، کتنے لوگ کتنی بار سن چکے ہیں۔ کلاس شروع ہوتے ہی جڑنے والے طلبہ کے نام تحریر اور آواز کے ساتھ سنائی دیتے ہیں۔ طالب علم کبھی بھی ریکارڈنگ سن سکتے ہیں۔طلبہ کے کلاس کے اعتبار سے وہاٹس ایپ گروپ بنائے گئے ہیں۔گروپ میں تحریر ی مواد اور آواز کی رکارڈنگ وغیرہ لوڈ کی جاتی ہے۔ دیگر کئی اساتذہ Zoom in اور Google Classes  کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ 
 2۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے موجودہ صدر پروفیسر شہزاد انجم نے اس تعلق سے بتایا کہ آن لائن تدریس کے لیے ہماری یونیورسٹی ایک تربیتی کو رس کرارہی ہے جس میں اساتذہ کو استعمال کے طریقہ بتائے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے اساتذہ آڈیو اور ویڈیو طریقے سے کلاس لے رہے ہیں۔ واٹس ایپ گروپ بنائے گئے ہیں اور ضروری نصابی مواد طلبہ کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر شہزاد انجم نے مزید کہا کہ آن لائن تدریس کے مسائل کافی ہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ابھی تو صرف خانہ پُری کی جارہی ہے۔ یہ طریقہ کلاس روم تدریس کے مقابلے بہت کمزور ہے۔ 
3۔ کئی اعتبار سے ہندوستان کی نمبر ون اورمنفرد یونیورسٹی کے طور پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دنیا میں شہرت رکھتی ہے۔ بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جدید ٹکنالوجی کا بہتر استعمال سب سے پہلے ہندوستان کی جن جامعات میں ہوتا ہے ان میں جے این یو صف اول میں ہے۔ جے این یو کے شعبہء اردو کے استاد پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے اس سلسلے میں بڑی تفصیل سے گفتگو کی ۔انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا شعبہء اس معاملے میں قبل سے ہی کام کر رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران ہم لوگ وہاٹس ایپ Hangs out   اورZoom in   کے ذریعہ کلاس لے رہے ہیں۔ زیادہ تر طلبہ اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دور دراز کے طالب علم حتیٰ کے کشمیر کے طلبہ بھی اس طریقۂ تدریس کا فائدہ گھر بیٹھے اُٹھا رہے ہیں۔ اس میں حاضری بھی توقع سے زیادہ ہو رہی ہے۔  انہوں نے مزیدکہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آن لائن طریقہ آج وقت کا تقاضہ ہے ،لیکن کلاس روم طریقہ اب بھی بہتر ہے۔ وہاںروبرو گفتگو کرنے کا الگ ہی تاثر ہوتا ہے۔ آن لائن میں انٹر نیٹ کی رفتار اور موجودگی دونوں مخل ہوتی رہتی ہے۔ لیکن آنے والا وقت آن لائن طریقہ کا ہی ہے۔ ہمیں اس سمت بہتر کرنا  ہی ہوگا۔
4۔ دہلی یونیورسٹی کے موجودہ صدر شعبہء اردو پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کہا کہ زیادہ تر اساتذہ Whatsapp Group بنا کر طالب علموں کو پڑھارہے ہیں۔ ضروری نوٹس بھی اپلوڈ کیے جا رہے ہیں۔ طلبہ سوالات بھی کر رہے ہیں۔ ایک نیا تجربہ ہو رہا ہے۔ دونوں طریقۂ تدریس پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا یہ کبھی بھی کلاس روم تدریس کا بدل نہیں ہو سکتا۔ چاہے کتنی بھی ٹکنالوجی کا استعمال کر لیں۔  باڈی لینگویج، کے علاوہ اشعار کی تشریح ، افسانے وغیرہ پڑھانا بہت دشوار کن ہے۔ آن لائن طریقے میں براہ راست رابطہ نہیں ہو پاتا۔کتابوں اوراساتذہ کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔
 8۔ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی، حیدر آباد ملک کی اپنے آپ میں منفرد یونیورسٹی ہے۔اس یونیورسٹی کے ملک کے مختلف علاقوں میں بھی کیمپس ہیں۔ یونیورسٹی کے مین کیمپس حیدر آباد  ، جسے مرکزی حیثیت حاصل ہے، میں شعبہء اردو کے موجودہ صدر پروفیسر نسیم فارس ہیں۔ انہوں نے پوری یونیورسٹی کے شعبہء ہائے اردو کے تعلق سے فرمایا کہ ہم لوگ Zoom in کے علاوہ وہاٹس ایپ گروپ اور آڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ آن لائن تدریس کر رہے ہیں۔ طلبہ کو اہم نصابی مواد فراہم کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی یونیورسٹی کی ویب سائٹس پر بھی مواد لوڈ کیا جا رہا ہے۔ پروفیسر نسیم فارس نے مزید کہا کہ کلاس روم تدریس میں ایک ایک طالب علم سے بہتر اور راست تعلق بنا رہتا ہے۔ آن لائن میں اس کا امکان کم ہے۔ زیادہ تر بچوں کے پاس ایسی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ 
9۔ جموں یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر شہاب عنایت ملک نے بتایاکہ واٹس ایپ گروپ بناکر تدریس جاری ہے۔ طلبہ میسجز کے ذریعہ سوالات کرتے ہیں۔ نصابی مواد لوڈ کیے جارہے ہیں۔ Zoom in کا بھی استعمال کر رہے ہیں ،لیکن نیٹ کی رفتار کبھی کبھی مانع ہو جاتی ہے۔ کلاس روم تدریس کی الگ بات ہے۔ آمنے سامنے ہونے سے طلبہ پر ایک طرح کا تعلیمی ماحول بنا ہوتا ہے۔ استاد کی ہر طالب علم تک رسائی ہوتی ہے۔ سوال و جواب ہوتے ہیں، لیکن آن لائن تدریس میں وہ روح پیدا نہیں ہوتی کام چلاؤ ہے۔ بہتر ہو سکتا ہے ۔ کوئی مرکزی ادارہ اِدھر پیش رفت کرے،تو معاملہ بدل سکتا ہے۔ 
10۔ سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں اس وقت شعبہ ء اردو کی انچارچ ڈاکٹر نصرت جبیں نے آن لائن تدریس کے تعلق سے بتایا کہ یہاں انٹر نیٹ کی بہت دشواری ہے۔ زیادہ تر جگہ 2G کنکشن ہی دستیاب ہیں ۔اس کے باوجود ہم لوگ Zoom in ، وہاٹس ایپ کا استعمال اورٹیلی فونک ، کلاس لے رہے ہیں۔ آڈیو کلاس بھی جاری ہیں۔ زیادہ تر طلبہ اس سے جڑے ہیں۔ آن لائن تدریس کی راہ میں 2G کی پریشانیاں ، انٹر نیٹ کی رفتار اوردستیابی حائل ہے۔ زیادہ تر بچوں کے پاس چھوٹے چھوٹے بٹن موبائل ہیں اس لیے Video کا تو سوال ہی نہیں اُٹھتا۔ ویسے کلاس روم تدریس کا کوئی متبادل نہیں۔ 
اُردو آن لائن تدریس کے تعلق سے بہت زیادہ غور و فکر کے بعد کہا جا سکتا ہے کہ یہ اُردو کے فروغ کے سلسلے میں نیا دریچہ ہے، جس سے نئی تکنیکی ہوائیں آرہی ہیں۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم زبان میں در آنے والے نئے جھونکوں کا خیر مقدم کریں۔ یہ بھی تسلیم کہ کلاس روم تدریس بہترین طریقہ ء کار ہے۔ جس کا متبادل بہت مشکل ہے، لیکن جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے۔ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ نے ایک نئی دنیا کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ سائنس ، انجیئرنگ ، مینجمنٹ اور دیگر ترقی یافتہ زبانوں نے نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے ۔ ایسے میں اُردو کو بھی موجودہ عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ہی چاہیے ۔ ضروری ہے کہ آن لائن اردو تدریس کے سامنے در پیش مسائل کو ہمیں حل کرنا چاہئے، اور ایسے ایپ تیار کیے جائیں جس کے ذریعہ اردو کی تدریس آسان ہو سکے۔ ساتھ ہی ساتھ اردو اساتذہ کے لئے ایک خاص تربیتی پروگرام بھی منعقد ہو۔ یہ ہی نہیںہمارے پاس ادب کی ہر صنف اور ہر موضوع کا ایک بڑا ،E-content) )ای ذخیرہ ہونا چاہیے۔ ہر طرح کا متن ( داستان،ناول ،افسانہ،نظم،غزل،قصیدہ،مرثیہ،وغیرہ)صحیح املااور تلفظ کے ساتھ ماہرین سے رکارڈ کروائے جائیں۔ان اقدامات کے بعد اردو کسی بھی مضمون اور زبان کے مقابل کھڑی ہو سکے گی۔
(مضمون نگار چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی یونیورسٹی میرٹھ اتر پردیش میں شعبہ اردو کے صدرہیں اور ان سے موبائل نمبر 09456259850  اور ای میل ایڈرس  aslamjamshedpuri@gmail.comپر رابطہ کیاجاسکتا ہے)
���������