تازہ ترین

انتخابات حد بندی کے بعد ہوں گے | دفعہ370کی واپسی کا کوئی سوال نہیں:رام مادھو

وسیم باری کے لواحقین کی تعزیت پرسی کیلئے بھاجپا قیادت بانڈی پورہ پہنچی

تاریخ    13 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


شبیرابن یوسف
سرینگر//بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا کہ جموں کشمیر میںاسمبلی حلقوں کی نئی حدبندی کے مکمل ہونے کے بعد ہی اسمبلی انتخابات ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایک بار حدبندی مکمل ہوجائے جموں کشمیر یوٹی کی اپنی اسمبلی ہوگی ۔ریاستی درجہ بحال کئے جانے سے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرسے تعلق رکھنے والے ہر ایک مسئلہ کواُٹھایا جائے گا۔ بھاجپا کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا کہ دفعہ 370 کی واپسی کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنمائوں کو گھروں سے باہر آکر بات کرنی چاہیے اگروہ اس کی واپسی چاہتے ہیں۔وہ بانڈی پورہ میں منعقدہ ایک تعزیتی میٹنگ میں بول رہے تھے،جو پارٹی کے تین کارکنوں جنہیں گزشتہ دنوں ہلاک کیاگیا تھا ،کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقد کی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ وادی کے سیاستدانوں کو آگے آنا چاہیے۔رام مادھو نے کہا کہ دفعہ370کو واپس نہیں کیا جائے گا۔ہم کہہ رہے ہیں کہ جموں کشمیرکیلئے ٹھیک نہیں تھااور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے ختم کیا،لیکن آپ کہہ رہے ہو کہ یہ فائدہ مندتھا،سیاسی بحث شروع کرو ،لوگوں کے پاس جائو ،دفعہ370کا مطالبہ کرو اور اس کیلئے دلیل پیش کرو۔بھاجپا رہنما نے کہا کہ اُن کاخیال تھا کہ دفعہ370کومنسوخ کئے جانے کے بعدیہاں 10سے15دن تک سوگ منایا جائے گا لیکن اب ایک برس ہوگیا ہے اور لوگ اب بھی سوگ منارہے ہیں ۔انہوں نے کہا ،’’وہ اپنے گھروں سے باہر نہیں آرہے ہیں ،جموں کشمیرمیں تما م سیاسی رہنما آزاد ہیں ۔کوئی دہلی میں ہے اور کوئی کشمیرمیں ہے جو صرف ٹوئٹ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست کے معنی کیا ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ لوگوں کے پاس جائیں اور اُن کے مسائل کو اُٹھائیں۔کیا آپ ایساکرتے ہو؟نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کہاں غائب ہوگئیں؟۔مادھو نے کہا ،’’سیاست یہ ہے ،لیکن یہاںاس کے بجائے کیا ہورہا ہے،کچھ لوگ یہاں اس مسئلہ کو جنگجویت کی حمایت کیلئے استعمال کرتے ہیں اورلوگ مارے جارہے ہیں یا باقی وہ ہیں جو گھر میں بیٹھ کر سوگ منانا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا ہمیشہ سے پرامید تھی کہ کشمیرمیں وطن پرستوں کا خون نہ بہے۔انہوں نے کہا کہ اِسے ختم کرنا ہے۔ہم دہشت کی سیاست نہیں چاہتے ۔اورہمارے پاس اس کو ختم کرنے کے دو طریقے ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ یاتو بھاجپا کے کارکن اپناجھنڈانیچے کریں اور گھروں میں بیٹھ جائیں۔لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔لوگ جو ماررہے ہیں اورجو لوگ مررہے ہیں ،کوسمجھنا چاہیے کہ وسیم باری کی ہلاکت ہزاروں ورکروں کوآگے لائے گی ۔یہاں ہمیشہ ایسے لوگ ہوں گے جوبھارت کاجھنڈا لہرائیں گے ۔بھاجپا کے سینئررہنما نے کہا کہ سماج کا ایک طبقہ ہے کو تشددکاحامی ہے اوریہ کشمیر کے لوگوں کی مصیبتوں کی وجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو سبق سکھانا ہوگا۔اگر آپ نے حریت سے استعفیٰ دیا ہے تو کیا اس کا مطلب ہے کہ آپ کے گناہ دھُل گئے ہیں؟۔رام مادھو کے علاوہ وزیر مملکت ڈاکٹر جتندرسنگھ اور پارٹی کے قومی نائب صدر اویناش کھنہ اورجموں کشمیر میں پارٹی کے صدر رویندررینہ نے بھی تعزیتی میٹنگ سے خطاب کیا۔ رام مادھواس سے قبلسخت حفاظتی بندوبست میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندرسنگھ اورنائب صدراویناش رائے کھنہ کے ہمراہ بانڈی پورہ مقتول بھاجپا رہنما کے لواحقین کی تعزیت پرسی کو پہنچے ،بھاجپا رہنما نے مقتولین کو خراج عقیدت پیش کیااور کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم جموں کشمیرکے تمام لیڈران اورکارکنوں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم غمزدہ کنبے کی مدد کو آئے ہیں اور کنبے کی مدد کیلئے دس لاکھ روپے دینے کااعلان کیا۔ذرائع ابلاغ کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے جموں کشمیرمیں بھاجپارہنمائوں اور کارکنوں کی سیکورٹی میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔