پگھلا ہوا سیسہ

کہانی

تاریخ    12 جولائی 2020 (30 : 01 AM)   


رتن سنگھ کنولؔ(پہلگامی
’’تھوڑی لیں گے؟‘‘
نہیں، جس چیز کو میں نے ایک بار ترک کردیا وہ میرے لئے حرام ہوگئی۔۔۔ ہاں! اگر کوئی میرے سامنے پیے گا تو مجھے اعتراض نہیں۔۔۔‘‘
بے نیاز صاحب نے سلاد سے بھری ہوئی پلیٹ سے گاجر کا ٹکڑا اُٹھاتے ہوئے لاپرواہی سے آتش صاحب کے سوال کا جواب دیا۔ آتش صاحب کے حلق سے اُن کا یہ جواب نہ اُترا۔ اُس نے اِنکی بات کو کاٹنے کی بجائے اپنی ہی مثال دیکر کہا؛
’’جناب میرے باطن اور ظاہر میں کوئی فرق نہیں۔۔۔ میں کوئی نقاب نہیں پہنتا۔۔۔۔‘‘
ڈاکٹر بے نیاز صاحب کو آتش صاحب کی یہ بات ناگوار گزری لیکن چہرے پہ ملال کا کوئی نشان ظاہر نہ ہونے دیا اور مسکراتے ہوئے گوش گذار کردیا؛
’’اِس کا مطلب یہ ہوا کہ میں بہروپیا ہوں؟ میں نے ہی نقاب پہنی ہوئی ہے؟۔۔۔۔‘‘
’’نہیں یار، میں نے آپ کے لئے نہیں کہا‘‘ آتش صاحب نے اپنی زبان کو دانتوں تلے دباتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے۔۔۔۔ میں نے تو اپنے ہی اچھے یا بُرے کردار کو پیش کیا۔۔۔۔‘‘
سالانہ ادبی کانفرنس میں شامل ہونے کیلئے بہت سارے ادباء شہر کے ایک ہوٹل میں تشریف فرما تھے۔ ایسے مواقع ادیبوں کو برسوں بعد ہی نصیب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ سنتے ہیں، کچھ سناتے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ جذباتی طور پر چارج ہوتے ہیں۔ جب بچھڑتے ہیں تو ایک نئے عزم اور ولولے کے ساتھ۔
چار ادیب جو چار یار بھی تھے، برسوں سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ وہ اکثر ایسے مواقع پر پروگرام کے اختتام پر رات کسی ہوٹل میں اِکٹھے گذار لیتے تھے۔ اس دن بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔
ڈنر کیلئے میز پر بیٹھے۔ اپنی مرضی کا کھانا پینا منگایا۔ کھانے کے ساتھ ساتھ گفتگو بھی جاری رکھی۔ اِدھراُدھر کی باتوں کے علاوہ ’’مادری زبان کو درپیش خطرات‘‘ کے موضوع پر جو مقالات پڑھے گئے تھے، اُن پر بھی اپنے اپنے نقطہ نگاہ سے خیالات پیش کئے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔
آتش صاحب نے جو بات چھیڑی تھی اُسکو اب آگے نہ بڑھنے دیا۔ اس کے برعکس مقالات کے موضوع کو چھیڑ دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ پیش کئے گئے مقالات میں زبان اور ادب میں کوئی تمیز ہی نہیں رکھی گئی تھی۔ جب کہ ادب ایک فن ہے اور زبان اسکا میڈیم ۔۔۔ ہر ایک تحریر فن نہیں ہوتی اور نہ ہی فن زبان کاو بدل ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
منتظمین کے انتظامات پر ساحل صاحب کو شکایت تھی۔ اُس کا کہنا تھا کہ چُنندہ ادیبوں کو ہی ہر بار مقالے لکھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ان لوگوں نے ’’اکادمی‘‘ میں اپنا رعب سا جما رکھا ہے۔ ان کے پاس کہنے کو کوئی نئی بات تو ہوتی ہی نہیں۔ مکھی پہ مکھی مارتے رہتے ہیں۔ پرانی شراب نئی بوتلوں میں بھر دیتے ہیں۔ دُم کو سر بنا لیتے ہیں اور پائجامے کو قمیض۔۔۔۔
پروانہ صاحب نے اِس بات کو اِتنا سنجیدگی کے ساتھ لے لیا کہ جیسے کوئی بہت بڑا حادثہ درپیش آیا ہو۔ وہ کسی چُٹکلے یا مذاق پر بھی ہنستا نہیں تھا۔ غصے میں بولتے وقت منہ سے جھاگ نکل آرہی تھی۔ بار بار کہتے ’’معاشرہ ہمارا خراب ہوگیا ہے۔۔۔ ابتداء سے انتہا تک سارا شیرازہ بکھر گیا ہے۔۔۔ سارا نظام مفلوج ہوگیاہے۔۔۔۔
جگنو صاحب نے سب کو سمجھایا،’’بھائی حوصلہ رکھو، حسد کی آگ سے دور رہو۔۔۔ اپنا کام لگن اور محنت سے کرو۔۔۔ آپکو بھی ایک دن مقالات لکھنے کی دعوت دی جائے گی۔۔۔۔ انعام اور اکرام بھی عطا ہونگے۔۔۔‘‘
’’سچ پوچھو تو میں ان چکروں میں نہیں پڑتا‘‘ ڈاکٹر بے نیاز صاحب بھی بولنے کے بغیر نہیں رہ سکا۔ ’’کسی کو کیا ملتا ہے، کون انعام حاصل کرتا ہے، کون نہیں کرتا، مجھے اس کے ساتھ کوئی سروکار نہیں۔میں تو اپنی دُھن میں لکھتا ہوں۔۔۔ جب کوئی چیز لکھنے کو مجبور کرتی ہے۔۔۔ناکا ہو سے دوستی نا کاہو سے بیر۔۔۔‘‘
سب لوگ چُپ ہوگئے اور ڈاکٹر بے نیاز صاحب کی بے اعتنائی پر اندر ہی اندر سوچنے لگے۔ اُنکے اندر جنگ ابھی بھی جاری تھی۔ وہ چلانے کیلئے الفاظ کے تیر ڈھونڈ رہے تھے۔ بہت دیر تک خاموشی تنی رہی۔ کوئی ردعمل ظاہر نہ ہوا تو ڈاکٹر بے نیاز صاحب نے ہی چھوڑی ہوئی بات کا سِرا پھر پکڑلیا؛
’’ایک سچی بات بتائوں؟۔۔۔ کسی کے لکھنے سے دنیا نہیں بدل جاتی۔۔۔ کون سا جُرم ختم ہوگیا۔۔۔ سینتالیس میں انگریز برصغیر کو دوپھاڑ کرکے چلے گئے تو کیسا قہر مچ گیا۔فسادات اور لوٹ مار کے حوالے سے منوں ادب تخلیق ہوا لیکن کیا کچھ بدل گیا؟۔۔۔۔ بھارت اور پاکستان کی دشمنی ختم ہوگئی؟۔۔۔‘‘
’’یار مجھ سے تو برداشت نہیں ہوتا۔۔۔ کسی بُرائی پر میرا خون کھول جاتا ہے۔۔۔ اچھی بات ہو تو خوشی بھی بے حد میسر ہوتی ہے۔ بقول پنجابی شاعر وارث شاہ کے، ’’میں لکھتا ہوں کیونکہ مجھے سمجھ ستاتی ہے‘‘۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ہم کسی بُرائی یا اچھائی پر اپنا ردعمل ظاہر نہ کریں تو معاشرہ کبھی نہیںسدھرے گا۔ اچھے یا بُرے کی پہچان ختم ہوجائے گی۔۔۔ ردعمل بہت ضروری ہے ۔۔۔ ایک اچھا ادب پارا اچھے فن کا ثمر ہے، سماج کا آئینہ ہے۔۔۔ طاقت ہے۔ اگر میں غلط نہیں تو ایک خوبصورت فن پارے سے خوبصورت زندگی کی کرن نمودار ہوتی ہے۔۔۔ سرابوں سے آگے کی دنیا جو ابھی بنی نہیں ہوتی۔۔۔ اگر وہ اسکی ترویج و تبلیغ میں اپنی تخلیقات کو زورِ تخیل سے آراستہ کرکے عوام و خواص کے سامنے پروسے تو دُنیا سنور جائے۔۔۔ پھر اگر تخلیق کار کو انعام و اکرام بھی عطا کئے جائیں تو غلط نہیں۔۔۔۔ وہ دوسروں کیلئے تحریک بن جاتا ہے۔۔۔‘‘
ڈاکٹر بے نیاز صاحب نے کباب کا ٹکڑا منہ میں ڈالا اور چباتے ہوئے گویا ہوا؛
’’دوست تو ہم پکے ہیں لیکن مزاج اور سوچ اپنی اپنی۔۔۔ مشترکہ بات جو ہم میں ہے وہ ذوقِ ادب اور اسکی تخلیق سے منسلک ہے۔۔۔کیوںلکھتے ہیں؟ اسکے اسباب بھی جدا جُدا ہوسکتے ہیں۔۔۔ رہا میرا معاملہ خیال آیا تو لکھ دیا۔ من ہلکا ہوگیا۔۔۔ کسی لالچ یا طمع کیلئے نہیں۔۔۔ جناب میری تصانیف کے پس منظر میں یہی مقصد کارفرما رہا ہے۔۔۔۔‘‘
’’اچھا پروفیسر دلشاد صاحب کے بارے میں آپ کا کیا کہناہے؟ قطع کلام معاف!‘‘ آتش صاحب کو اچانک یاد آیا۔
’’کیوں؟‘‘ ڈاکٹر بے نیاز صاحب پروفیسر دلشاد صاحب کا نام سُن کا چونکے۔
’’دلشاد صاحب کو ’بیسٹ بُک ایوارڈ‘ ملنے کا اعلان ہوگیا ہے۔‘‘ آتش صاحب نے بات مکمل کی۔
ڈاکٹر بے نیاز صاحب یہ خبر سُن کر جیسے آسمان سے گرے۔ ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ ڈالے؛
کب؟ کیسے؟ کس کتاب کے لئے؟۔۔۔۔ دو کوڑی کا پروفیسر دلشاد!۔۔۔ میرا ہم جماعتی! خاک لکھتا ہے وہ۔۔۔ کچرا ہیں اُسکی تحریریں۔۔۔۔‘‘
اب ڈاکٹر بے نیاز صاحب کا چہرا پُرسکون نہ رہا۔ اُس پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ یہ خبر جیسے پگھلا ہوا سیسہ بن کر اُسکے کانوں میں گھس گئی۔
���
رابطہ؛پہلگام کشمیر،موبائل نمبر؛9858433957