تازہ ترین

گوشہ اطفال|11جولائی2020

تاریخ    11 جولائی 2020 (45 : 02 AM)   


گُد گُد یاں…!!!

ایک دیہاتی اور ایک انگریز گاڑی میں سفر کررہے تھے۔ دیہاتی حقہ پیتا تو انگریز کو غصہ آتا تھا اور جب انگریز اپنے کتے کو پیار کرتا تو دیہاتی کو غصہ آتا۔ دیہاتی کسی کام سے دوسرے ڈبے میں گیا تو انگریز نے اس کا حقہ اْٹھا کر باہر پھینک دیا۔دیہاتی جب واپس آیا تو وہ اپنا حقہ نہ پا کر بہت پریشان ہوا مگر آرام سے بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد انگریز کسی ضرورت سے گیا تو دیہاتی نے اس کا کتا پکڑ کر گاڑی سے باہر پھینک دیا۔ جب انگریز واپس آیا تو اس نے کہا۔ کہاں گیا میرا کتا؟…دیہاتی نے فوراً جواب دیا۔ وہ میرا حقہ پینے گیا ہے۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
ایک آدمی کی گاڑی میں آگ لگ گئی۔ تمام لوگ آگ بجھانے کیلئے دوڑے لیکن دور سے ایک آدمی بہت تیزی سے دوڑتا ہوا آرہا تھا اور زور سے بولا، ٹھہرو ٹھہرو!
لوگوں نے سمجھا کہ یہ آدمی آگ پر جلد قابو پانے کی کوئی ترکیب جانتا ہوگا، اس لئے لوگ دور ہوگئے۔
وہ آدمی آگ کے قریب پہنچا اور اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگاتے ہوئے کہنے لگا، بہت دیر سے ماچس تلاش کر رہا تھا۔
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭
دروازے پر دستک ہوئی۔ ارشد کے ابو نے دروازہ کھولا، سامنے ایک اجنبی کندھے پر بیگ لٹکائے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں مٹی سے بھرا ایک لفافہ تھا جو اس نے سامنے بچھے ہوئے قالین پر اْلٹ دیا۔’’بے وقوف ! یہ کیا کردیا تم نے؟ ارشد کے ابو غصے سے چلائے۔
جناب آپ غصہ نہ کریں۔ میں ویکیوم کلینر فروخت کرتا ہوں، اگرچہ چند لمحوں میں ہماری مشین سے یہ قالین صاف نہ ہوا تو میں زبان سے چاٹ کر اسے صاف کروں گا۔تو پھر چاٹنا شروع کردو۔ ہمارے گھر میں بجلی نہیں ہے۔ ارشد کے ابو نے کہا۔
مُفید معلومات
مینڈک موسم سرما میں نظر کیوں نہیں آتے؟
مینڈک کی بہت سی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان اقسام ہی کی بدولت مینڈک اپنی جسامت، رنگ اور شکل و صورت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ امریکا میں پائے جانے والے بغص مینڈک Tree Forg لمبائی میں ایک انچ سے زیادہ لمبے نہیں ہوتے۔ مینڈکوں کی ایک اور قسم Leopard Frog لمبائی میں دو سے چار انچ لمبے ہوتے ہیں، اسی طرح بل فروگ آٹھ انچ لمبے جبکہ ان کی ٹانگوں کی لمبائی دس انچ تک ہوسکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ تمام مینڈک موسم سرما میں کہا چلے جاتے ہیں؟ شمالی ممالک میں موسم سرما کے آغار پر کچھ اقسام کے مینڈک تالابوں میں چھلانگ لگانے اور ان کی تہہ میں موجود گارے اور کیچڑ میں روپوش ہوجاتے ہیں۔ تمام موسم سرما یہ وہاں سوئے رہتے ہیں۔ اس عمل کو سہ ماہی نیند کہتے ہیں۔ شدید سردی میں بھی تالابوں اور جوہڑوں کا پانی مکمل طور پر نہیں جمتا بلکہ سطح کے نیچے اپنی اصل حالت میں ہی رہتا ہے، اس وجہ سے مینڈکوں کو بھی سردی میں جم جانے کا خدشہ نہیں ہوتا۔ مینڈکوں کی آنکھیں اس کے سر کے بالکل اوپر ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پانی میں چھپے رہنے کے باوجود سطح سے اوپر دیکھ سکتے ہیں، اسی خصوصیت کی بنا پر مینڈک اپنے شکاریوں کے خطرے سے آگاہ رہتے ہیں۔
 
 
 

پہیلیاں۔۔۔۔۔!!!

1۔پیاسا ہو تو رک جائے خوب پلائو چلتا جائے
             ٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭جواب:فائونٹین پین
2۔گورا گورا دیکھو لوگوں چوں نہ کرو اور کھائو
آگ لگے پانی سے اس میں اس کی بوجھ بتائو 
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭جواب:چونا
3۔آس کٹ کر پاس کٹ کر بیچ میں کھجور
تم پانچوں یہیں سے لوٹو ہم جاتے ہیں دور
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭جواب:لقمہ
4۔یہ دنیا فانی ہے پتھر میں پانی ہے
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭جواب :برف
5۔اپنا کوئی گھر نہیں ہر گھر لیکن اس کا ہے
٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭ جواب:پیسہ

انمول موتی

1۔علم سے بڑا کوئی خزانہ نہیں، بری عادت سے زیادہ کوئی دشمن نہیں اور شرم سے بہتر کوئی لباس نہیں۔
2۔آرزو نصف زندگی ہے اور بے حسی نصف موت۔
3۔روشنی کی امید رکھو پر امیدوں پر زندگی مت گزارو۔
4۔خاموشی، دانا کا زیور اور احمق کا بھرم ہے۔
5۔دعا سے دوری انسان کو دوا کے قریب لے آتی ہے۔
معلوماتِ عامہ
نظام شمسی کے سیاروں میں سب سے چھوٹا سیارہ "نیپچون" ہے۔
"وٹامن"کو اردو میں"حیاتین" کہا جاتا ہے۔
" وھیل مچھلی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔
مچھلی کی آنکھیں ہر وقت کھلی رہتی ہیں کیوں کہ ان کے پپوٹے نہیں ہوتے۔
C.N.G۔’’Compressed Natural Gas‘‘الفاظ کا محفف ہے۔
چنگیز خان کا اصل نام تموچن  تھا۔
دنیا میں سب سے زیادہ پیدا ہونے والی سبزی آلو ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ کاروبارڈالر میں کیا جاتا ہے۔
شتر مرغ دیوقامت پرندہ
موجود پرندوں میں شترمرغ سب سے بڑا پرندہ ہے۔ اس کا قد 2.5 میٹر یعنی ایک گھر کی چھت کی اونچائی کے برابر ہوتا ہے۔ شتر مرغ بہت وزنی ہوتا ہے، اس کا وزن تقریباً ایک چھوٹے خچر شٹ لینڈ کے برابر ہوتا ہے۔ شترمرغ اڑ نہیں سکتا لیکن خطے کے موقع پر یہ 72 کلومیٹر کی رفتار سے بھاگ سکتا ہے۔ یہ رفتار ریس گھوڑے کی زفتار سے زیادہ ہے۔ اڑنے والے پرندوں میں سب سے پرندہ البتروس ہے جس کی ایک پر سے دوسرے پر کیسرتک لمبائی ایک کار کے برابر ہوتی ہے۔
 

مونگ پھلی کی ٹافی کیسے بنے؟

 تیاری کا مکمل وقت:15 منٹ
پکانے کا وقت:30 منٹ
کتنے لوگوں کیلئے ہے:5 افراد
 اجزاء: سوکھا دودھ چھوٹا ٹین، مونگ پھلی کٹی ہوئی آدھا کپ، چینی پسی ہوئی 2کپ، کوکو پاؤڈر ایک کھانے کاچمچ،پانی آدھا کپ، مکھن یا گھی ایک کھانے کا چمچ
تیار کرنے کی ترکیب: پانی میں چینی گھول کر دودھ گھول لیں۔ مونگ پھلی ملا کر ہلکی آنچ پر پکائیں۔لکڑی کا چمچ استعمال کریں۔ کوکو بھی چھڑک دیں۔گاڑھی ہو جائے تو اتار کر خوب گھوٹیں۔برتن کے کنارے پر سفیدی سی لگنے لگے تو ایک کھلے برتن یا ٹرے میں ہلکی سی چکنائی لگا کر یہ آمیزہ پھیلا دیں۔ سطح بابر کر دیں،ذراہ ٹھنڈا ہونے پر استعمال کریں۔
 
 

ملکہ مکڑی اور میں۔۔۔

 
کہانی
 
 دانیہ آصف
 
مئی کا مہینہ تھا اور گرمیوں کی چھٹیاں تھیں، گھر میں امی کا ہاتھ بٹانے اور چھٹیوں کا کام کرنے کے باوجود اتنا وقت مل جاتا کہ میں مزے سے مرحوم اشتیاق احمد اور ابن آس محمد کے جاسوسی ناول پڑھ سکوں آج جب میں بستر صاف کر کے سونے کے لیے لیٹی تو میری نظر اس مکڑی پر پڑی جو میرے خیال سے تقریبا دو چار دن سے میرے بستر کے آگے پیچھے نظر آرہی تھی ابھی میں اس مکڑی کے بارے میں سوچتے سوچتے میں انسانوں کی دنیا سے کوسوں دور مکڑیوں کی دنیا میں پہنچ گئی۔میں نے دیکھا کہ تمام مکڑیاں دربار میں ادب سے بیٹھی ہوئی تھیں اور ملکہ مکڑی بے چینی سے جاسوس مکڑی کا انتظار کر رہی تھی ، میں جاسوس مکڑی کا پیچھا کرتے ہو ئے دربار میں پہنچ گئی اور ان کی گفتگو سننے لگی۔
جاسوس مکڑی کو دیکھتے ہی ملکہ کی بے چینی کو قرار آگیا ، مکڑی دربار میں حاضر ہوکرآداب بجا لائی اور بولی ’’آج میں اس لڑکی کے دماغ سے تمام کہانیاں اکھٹی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہوں اب آپ کا ادھورا خواب مکمل ہو جائے گا اور آپ بھی ایک نامور لکھاری بن جائیں گی۔‘‘ملکہ مکڑی نے جوش سے پوچھا:
’’ اور اس لڑکی کا کیا ہوگا ؟‘‘
’’وہ تو بیچاری اپنے خالی دماغ پر زور دیتی رہ جائے گی‘‘ جاسوسہ بولی، اور اس کے ساتھ ہی دربار میں قہقہے گونج اٹھے اور میں سوچ رہی تھی کہ اچھا اب میری سمجھ میں آئی کہ میرے دماغ میں کہانیاں کیوں نہیں آرہی۔
یہ سن کر تو مجھ سے رہا نہ گیا میں آگے بڑھی اور بولی۔
’’ ملکہ مکڑی اگر آپ ہمیشہ میری کہانیاں چراتی رہیں گی تو اس طرح آپ کبھی لکھنا نہیں سیکھ سکیں گی اور کیا پتہ میں بڑے ہو کر کہانیاں لکھنا ہی چھوڑ دوں پھر آپ کیا کریں گی؟‘‘
میری اس بات پر ملکہ مکڑی بڑی بے رحمی سے بولی’’ ہم کسی اور کی کہانیاں چرا لیں گے ‘‘۔
میں یہ سن کر تنک گئی لیکن پھر مجھے خیال آیا(دشمن جو آپ کی کہانیاں چرا لے جائے ) اسیاچھے طریقے سے سمجھانا چاہئے پھر میں بولی۔
’’ ملکہ عالیہ آپ سنجیدہ ہو کر بات کریں اور آپ یہ بتائیں کہ آپ خود کیوں کہانی لکھنے کی کوشش نہیں کرتیں ‘‘۔
ملکہ مکڑی نے بیچارگی سے کہا’’ اتنی تو کوشش کرتی ہوں مگر جب بھی قلم لے کر بیٹھتی ہوں میں مکڑیوں کی دنیا سے دور شہد کی مکھیوں کی دنیا میں چلی جاتی ہوں‘‘۔
میں نے کچھ سوچ کر کہا ’’ملکہ مکڑی کہانی لکھنے کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے کہانی لکھنے کے لیے آپ کو تین باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
۱۔ موضوع کا انتخاب
۲۔ کہانی کا سبق
۳۔کہانی کے کردار اور جگہ کا تعین
کہ آپ گائوں دیہات شہر بازار، کس جگہ کی کہانی لکھ رہی ہیں اس طرح آپ پوری کہانی لکھ سکتی ہیں‘‘۔
ملکہ مکڑی نے خوش ہو کر پوچھا ’’تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟ ‘‘ میں نے بغور ملکہ مکڑی کو دیکھا اور پھر بولی’’ مجھے میری امی جان سے معلوم ہوا کیونکہ مجھے بھی کہانی لکھنے کا بہت شوق تھا لیکن میں ہر کہانی میں کئی کردار اور جگہیں ملا دیتی تھی پھر امی نے مجھے سمجھایا کہ اس طرح کہانی میں سارے کردار اکھٹے کرنا مناسب نہیں،کردار واقعات کے حساب سے شامل ہونے چاہئیں ‘‘۔
میرے بتانے پر ملکہ مکڑی نے کچھ سوچ کر کہا’’ تم تو بڑی اچھی ہو مگر ایک بات بتائومیں نے تمہاری کہانیاں چرائیں،پھر تم میری مدد کیوں کر رہی ہو؟‘‘
تو اس پر میں نے جواب دیا’’ آپ وہی مکڑی ہیں نا جس نے ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تھی جب وہ غار ثور میں تھے۔آپ نے ہی اللہ کے حکم سے جال بنایا تھا نا ‘‘۔
تو وہ میری بات کا جواب دیتے ہوئے کہنے لگی’’ ہاں! وہ بزرگوار ہماری برادری ہی سے تھیں‘‘۔
میں نے کہا ’’تو میں تمہاری مدد کیوں نہ کروں جس نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی میں تو ضرور اس کی مدد کروں گی ‘‘اس پر اس نے کہا ’’تم تو واقعی اچھی ہو،اب میں پہلی کہانی تمہارے اور اپنے بارے میں لکھوں گی‘‘۔
میں جذبات میں آ کر بولی ’’ دیکھیں ملکہ مکڑی! دوستی اپنی جگہ مگر اب لڑائی ہو جائے گی کیونکہ اس ملاقات پر اب میں کہانی لکھنے والی ہوں‘‘۔لیکن پھر ہم نے یہ طے کیا کہ ہم دونوں ہی اس ملاقات کا احوال اپنے اپنے انداز میں لکھیں گے۔ ابھی میں جاسوس مکڑی سے بات کر رہی تھی کہ امی کی آواز آئی ’’ماریہ پرے ہٹو، چھوٹا بھائی اٹھ جائے گا، چھوٹے بھائی پر چڑھو گی کیا لڑکی ‘‘۔
میں نیند میں بولی ’’صحیح ہے اگلی کہانی آپ پر‘‘ اس پرامی حیرانی سے گویا ہوئیں ’’کیا مطلب ماریہ ‘‘۔
میں سمجھ چکی تھی کہ وہ سب خواب تھا ۔میں مسکرا دی اور بولی ’’کچھ نہیں امی ‘‘۔
اگلے دن جب میں سونے کے لیے لیٹی اور پھر سے بستر جھاڑا تو میں نے دیکھا جاسوس مکڑی وہاں نہیں تھی اور میں تذبذب میں پڑ گئی کہ کیا واقعی میں مکڑیوں کی دنیا میں چلی گئی تھی؟ تو کیا وہ خواب نہیں تھا؟ یہ سوچ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
 
 
 

تازہ ترین