کرونا وائرس سے دماغی مسائل، سوچ سے بھی زیادہ عام ہوسکتے ہیں :تحقیق

تاریخ    10 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر//برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ کوویڈ19 کے مہلک مرض سے دماغ میں پیدا ہونے والی پیچیدگیاں ابتدائی سوچ سے زیادہ عام ہوسکتی ہیں۔ ان پیچیدگیوں میں دماغی بخار ، واہمے، اعصابی توڑ پھوڑ اور دل کا دورہ شامل ہیں۔کوویڈ19سے شدید متاثرہ مریضوں کے بارے میں یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ ان کے اعصابی نظام میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں لیکن اب یونیورسٹی کالج لندن کے ڈاکٹروں کی ٹیم کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کے معمولی کیسوں والے افراد میں بھی سنگین دماغی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔اس ٹیم نے اسپتال میں داخل اعصابی علامتوں کے حامل کووِڈ-19 کے 43 مریضوں کا تفصیلی طبی معائنہ کیا ہے۔ان میں بعض کرونا وائرس کے مشتبہ کیس بھی تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ 10 مریضوں کا عارضی طور پر دماغ کام نہیں کررہا تھا۔12 افراد دماغی حدت کا شکار تھے۔آٹھ کو دل کا دورہ پڑا اور آٹھ کے اعصابی نظام کو نقصان پہنچا تھا۔اس ٹیم میں شامل یونیورسٹی کالج لندن کے کوئین اسکوائر انسٹی ٹیوٹ آف نیورالوجی کے ڈاکٹر مائیکل زیندی نے بتایا ہے کہ’’ہم نے توقع سے بھی کہیں زیادہ اعصابی مسائل سے دوچار افراد کی شناخت کی ہے۔

تازہ ترین