انتخابی حد بندی رقبہ کے زاویہ سے

رقبہ کا استعمال بیماری کا علاج نہیں،نئی بیماری کا سبب

تاریخ    9 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


حسیب درابو
حد بندی کے معیار کے طور پر رقبے کا استعمال اس بیماری کا علاج ہوگا جو موجودہی نہیں ہے۔در حقیقت یہ ایک نئی بیماری کا سبب بنے گا۔
1۔حدبندی معاملہ پر کالم سیریز کے دوسرے حصے میں یہ دکھایا گیاتھا کہ صوبہ جموں اور صوبہ کشمیر کے مابین اسمبلی انتخابی حلقوں کی تعداد میں کسی قسم کی تفاوت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ آبادی کی بنیاد پرمجموعی آبادی میں42.68فیصد حصہ داری کے باوجود جموں کو87 رکنی اسمبلی میں سے 37 نشستیں ملی ہیں جو قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کا 42.52 فیصد ہے۔
 2۔تاہم جموں مرکوز سیاسی جماعتوں کی جانب سے جموں کے ساتھ امتیازی سلوک کا معاملہ اور جموں کے لئے زیادہ سے زیادہ نمائندگی کیلئے مطالبہ کی بنیاد یہ ہے کہ یہ رقبہ میں کشمیر سے بڑا ہے۔ نیز یہ بھی دلیل پیش کی گئی ہے کہ جموں کے ہر حلقہ انتخاب میں کشمیر کی نسبت لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کو "ایک شخص ، ایک ووٹ" کے مقصد کے خلاف جاتے ہوئے دیکھاجارہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم منطق ، ماضی کے رواج اور طریقہ کار اور اس کے مضمرات کے لحاظ سے ان کی جانچ پڑتال کریں ،پہلے حقائق کا مختصر اعادہ؛
3۔انتظامی ، آبادیاتی اور رائے دہی کے مقصد کے لئے یونین ٹریٹری بننے سے قبل جموںوکشمیر کا رقبہ 1لاکھ1ہزار387مربع کلو میٹر تھا(مجموعی رقبہ2لاکھ 22ہزار236مربع کلو میٹر میں سے 1لاکھ20ہزار849مربع کلو میٹر پر چین اور پاکستان کے انتظام میںہیں)۔اس میںریاست کا سب سے بڑا حصہ لداخ تھا جس کا رقبہ لگ بھگ 59ہزار مربع کلومیٹر تھا۔ دوسرا سب سے بڑا صوبہ جموں کا ہے جس کا رقبہ 27ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ صوبہ کشمیر ، جس کارقبہ 16ہزار مربع کلومیٹر ہے ،سب سے چھوٹا ہے۔
4۔سب سے پہلے رقبہ کو معیار کے طور پر استعمال کرنا نمائندگی کے بنیادی تصور کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ ممبراسمبلی لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں گوکہ وہ کسی خاص جگہ سے ہوتے ہیں۔ یہ عام بات ہے کہ مقننہ لوگوں کے ان نمائندوں کا گھر ہے جو ریاست کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں نہ کہ کسی مخصوص جگہ ۔حد بندی کا بنیادی مقصد "لوگوں کی مساوی نمائندگی" کو یقینی بنانا ہے۔
 5۔دوسرا ،روایت کے طور تمام قومی اور بین الاقوامی طریقوں کے تحت حد بندی رقبہ کی بنیاد پر نہیں کی جاتی ہے پورے ملک میں بلکہ پوری دنیا میں حد بندی یا مقننہ میں نشستوں کی دوبارہ تقسیم صرف مردم شماری کی بنیاد پر ہوتی ہے۔
6۔تکنیکی طور پررقبہ محض حلقوں کے نقشے بنانے کیلئے زیر غور لائے جاتے ہیں ،نہ رقطہ کو لوگوں کے نمائندوں کی تقسیم کے لئے ۔ اس کا مشاہدہ ہم جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 میں بھی کرسکتے ہیں جس پر ہم آگے چل کرک بحث کرینگے ۔
 7۔لیکن اصول و پالیسی کے ان امور سے زیادہ رقبہ کوجموں و کشمیر میں موجودہ اور مستقبل کے نمائندگی ڈھانچے کو وضع کرنے کے مضمرات کو دیکھنازیادہ ضروری ہے۔ آئیے ہم رقبہ کے انتہائی معاملے کو واحد معیار کے طور پر لیتے ہیں۔ تینوں صوبوں میں انتخابی حلقوں کی تقسیم کیسے ہوتی؟ ۔صوبہ کشمیر میں انتخابی حلقوں کی تعداد 46 سے کم ہو کر 14 ہوجائے گی! صوبہ جموں کے لئے تعداد 37 سے گھٹ کر 22 رہ جائے گی جبکہ لداخ کو 4 سیٹوں کی بجائے 51 سیٹیں ملیں گی۔
 8۔موجودہ صورتحال میں معیار کی حیثیت سے رقبہ کو مقرر کرنے سے کیا ہوسکتا ہے؟ یونین ٹریٹری کی حیثیت سے جموں و کشمیر کا رقبہ اب سکڑ کر 61ہزار8سو 49 مربع کلومیٹر رہ چکا ہے۔ اس میں سے 62 فیصد صوبہ جموں اور 38 فیصد صوبہ کشمیرمیں ہے۔ اب قانون ساز اسمبلی کے لئے مختص 90 نشستوں میں سے اگر رقبہ واحد معیار ٹھہرا تو 56 نشستیں جموں کو ملیں گی اور 34 نشستیں صوبہ کشمیر کو جائیں گی۔ چلو یہی صحیح! لیکن بات وہیں پر ختم نہیں ہوگی۔
 9۔استدلال کے اس ’’رقبہ پر مبنی تقسیم‘‘کی لکیر کی مزید گہرائی میں جانا سودمند ہوگا۔ اگر رقبہ کے معیار کا اطلاق پورے یوٹی پر کیا جاتا ہے تو اس کا اطلاق جموں صوبہ کے اندر بھی موجود ذیلی خطوںپر کرنا پڑے گا۔اگر اس میں آپ کا فائدہ ہے تو یہ کڑوا گھونٹ بھی پینا ہی پڑے گا۔
 10۔کشمیر ، جو ایک بڑی وادی ہے ،کے برعکس جموں کا جغرافیہ راوی توی کنڈی کے میدانی علاقوں ، شیوالک اور پیر پنچال پہاڑوں اور وادی چناب کا مرکب ہے۔ زمینی نوعیت کے یہ مخصوص خطے اپنے باشندوں کی مذہبی ، نسلی اور لسانی وابستگی سے بھی جداگانہ ہیں۔
 11۔ صوبہ جموں کے اندر 56 سیٹیں تقسیم کرنے کے معیارکو استعمال کرنے کے نتیجے میں جموں کے میدانی علاقوں کے لئے موجودہ 37 سیٹوں میں سے 21 سیٹیں کم ہوکرمجموعی 56نشستوں میں سے 18 رہ جائیں گی۔ چناب ، جسکے پاس 37 میں سے اب تک 9 اسمبلی حلقے تھے ، اب 56میں سے29 حاصل کریں گے جبکہ پیر پنچال کو 2اضافی نشستیں حاصل ہوں گی۔
 12۔ ’’حلقوں میں ووٹوں کی مساوات "کے لحاظ سے اس کا کیا مطلب ہے؟۔’ایک فرد ،ایک ووٹ ‘ہدف کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہے! علاج اس بیماری سے بھی بدتر ہے جو اس رقبہ پر مبنی معیارتلاش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ ایک عام سردی کا علاج کرتے ہوئے  سرطان کاخطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔
13۔ آخر کار اگر رقبہ کو ایک معیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو ایک واحد اہم اورناقابل بحث اصول’’ایک فرد،ایک ووٹ ‘‘پرپڑنے والے اثرات کو دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ یہاں ملاحظہ کریں کہ اگررقبہ کے معیار کو استعمال کیا جاتا ہے تو یہ اصول کیسے متاثرہوتاہے۔
14۔گزشتہ اسمبلی انتخابات میںمیدانی جموں سے اوسطاً ایک لاکھ 45ہزار افرادنے اپنے نمائندے کا انتخاب کیاتھا اور چناب سے کم تعداد میں 1لاکھ2ہزار افراد نے اپنا نمائندہ منتخب کیاتھا۔ چناب میں اب صرف 32ہزار افراد ہی اپنے ممبر اسمبلی کا انتخاب کریں گے جبکہ جموں کے میدانی علاقوں میں 1لاکھ85ہزار افراد کو ایک ممبر اسمبلی منتخب کرنے کا موقع ملے گا! اس کا مطلب یہ ہے کہ چناب کا ایک شخص رائے دہی کے طور پر جموں کے میدانی علاقوں کے چھ افراد کے برابر ہے!
15۔رائے دہندگان کے لئے نمائندوں کے انتخاب میں برابر وزن والی آواز کیلئے یکساں آبادی والے حلقے اہم ہیں۔ اس معاملے میں مثال کے طور پر جموں کے میدانی علاقوں کے ایک حلقے سے منتخب ہونے والے نمائندے کے پاس چناب کے عوام کے منتخب نمائندے کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ووٹر ہوں گے! جموں کے رائے دہندہ کا اثر اس کے چناب ہم منصب کے مقابلے میں ایک چھٹا اثر ہوگا۔ اب تک جموں و کشمیر میں اس امتیاز کا ایک فیصد بھی موجود نہیں تھا!
 16۔اس حقیقت کے بارے میں بہت کچھ کہاگیا ہے کہ جموں کے انتخابی حلقوں میں لوگوں کی اوسط زیادہ ہے جبکہ کشمیر میں یہ اوسط کم ہے۔ اگرچہ فرق نہ صرف معمولی ہے بلکہ عالمی سطح پر رواداری کی سطح کے مطابق ہے۔ بہرحال اگر کشمیر کے مقابلے جموں میں فی حلقہ ووٹر زیادہ بھی ہیں ، تو کیا یہ صورتحال جموں صوبے کیلئے ہی منفرد ہے؟ آئیے ایک بین ریاستی موازنہ کرتے ہیں۔
 17۔جودھ پور ، جو رقبے کے لحاظ سے راجستھان کا سب سے بڑا انتظامی ڈویژن ہے اور ریاستی رقبے کا 34 فیصد ہے تاہم قانون ساز اسمبلی میں اس کا صرف 16 فیصد حصہ ہے۔ 200 میں سے 32 ممبران اسمبلی۔
 18۔ایک اور مثال گجرات میں کَچھ کی ہے۔ ریاست کے کل رقبے کا یہ 21 فیصد ہے ، لیکن گجرات اسمبلی میں اس کی نمائندگی صرف 3 فیصد ہے۔ دوسری طرف وسطی گجرات ،جو ریاست کے 17 فیصد رقبے پر مشتمل ہے ، ممبران اسمبلی میں اس کا حصہ 31 فیصد ہے۔
19۔ہندوستان کی تمام ریاستوں میں نشستوںکی تقسیم کے مقابلے میں ہم نے صرف دو مثالیں پیش کی ہیں۔ جموںوکشمیر کے کل رقبہ کے26فیصد پر مشتمل جموں کی ریاست کی قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کی شرح42.5فیصد ہے اور اس کو استحصال یا امتیازی سلوک کے طور پیش کیاجارہا ہے!
 20۔قومی سطح پر بھی ٹیکنیکل گروپ کی طرف سے کئے جانے والے تخمینوں کی بنیاد پرسب سے بڑا ممبر پارلیمنٹ3ملین کے قریب لوگوںکی نمائندگی کرتا ہے جبکہ دوسرے ممبران پارلیمنٹ بھی 2.3 ملین افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ’ایک شخص ، ایک ووٹ‘ کی اصطلاحی اصطلاحات میں ، یہ جموں و کشمیر کی صورتحال سے کہیں زیادہ سنگین نوعیت کو پیش کرتا ہے۔
 21۔اس طرح جموں و کشمیر کے لئے حد بندی کمیشن کے ذریعہ جو معیار اپنائے گا، اس کے پورے ملک میں پائے جانے والے اثرات مرتب ہوں گے۔
 22۔جو بھی ہو,جموں و کشمیر تنظیم نو قانون2019 نے حد بندی کمیشن کے شرائط و ضوابط کوطے کیا ہے۔ ایکٹ کی دفعہ 62 ، شق 1 ،ذیلی شق (بی) میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ ’’اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کے مقصد کے لئے‘‘سال 2011 میں ہونے والی مردم شماری استعمال کی جائے گی۔
 23۔بے شک مذکورہ قانون کی دفعہ 14 ، شق 7 میں ایس سی اور ایس ٹی کے لئے مختص کی جانے والی نشستوں کی تعداد کے معاملے میں وضاحت کی گئی ہے کہ’’جموںوکشمیر میں ایس سی اور ایس ٹی کی مجموعی آبادی کے مطابق مجموعی اسمبلی نشستوں کے حساب سے انہیں اپنا تناسب ملنا چاہئے ‘‘۔
 24۔جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 کی دفعہ60 ، شق 2 ، ذیلی شق (بی) تجویز کرتی ہے کہ "تمام انتخابی حلقے قابل عمل حدتک جغرافیائی طور پر کمپیکٹ علاقے ہوں گے اور ان کی حد بندی کے دوران طبی خصوصیات،انتظامی اکائیوں کی حدود ، مواصلات کی سہولیات اور عوام کو میسرسہولیات کو ملحوظ خاطر رکھاجاناچاہئے"۔ لفظ رقبہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔
 25۔اس فریم ورک پر عمل کرکے حد بندی کمیشن ان علاقوں کے جغرافیہ جیسے پہاڑوں اور ندیوں کی مشترکہ طبی خصوصیات پر سنجیدگی سے بحث کرکے اچھا کرے گا۔ یہ ان کی مشترکہ نسل ، مذہب اور زبان کے علاوہ ہے۔ کیونکہ یہی خصوصیت ہے جو لوگوں کو صوبہ جموں کے اندر ان تینوں علاقوں میں رہائش پذیر بناتا ہے ، جس کو حد بندی کی زبان میں "مفاد کی جماعتوں" کے نام سے جانا جاتا ہے۔
26۔ اگلے ہفتے اس سلسلے کے اختتامی حصے میں حدبندی کا مجوزہ طریقہ کار تجویز کیا جائے گا۔
 (کالم سیریز اگلے ہفتے اختتام پذیر ہوگی)