تازہ ترین

سورو گانگولی کے سات تنازعے جنہیں آج بھی یاد کیا جاتا ہے

’دادا‘کی کامیابی کی کہانیاں آپ کو ہر جگہ مل جائیں گی

تاریخ    9 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ممبئی/انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ یعنی بی سی سی آئی کے موجودہ چیئرمین اور انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سورو گانگولی کی کامیابی کی کہانیاں آپ کو ہر جگہ مل جائیں گی۔انھوں نے کس طرح چھوٹے شہر کے کرکٹرز کو سٹار بنایا۔ انھوں نے انڈین کرکٹ ٹیم کی کس طرح کایا پلٹ دی اور کس طرح ٹیم کو جارحانہ انداز دیا وغیرہ۔آٹھ جولائی سنہ 2020 کو سورو گانگولی 48 سال کے ہو گئے ہیں اور وہ ابھی بھی کرکٹ کی دنیا سے وابستہ ہیں۔عرف عام میں 'دادا' یعنی بڑے بھائی سے موسوم گانگولی کی کامیابی کے دور میں بہت سے تنازعات بھی زور شور سے اٹھے۔یہاں گانگولی کے تعلق سے سات تنازعات پیش کیے جا رہے ہیں جنھیں آج بھی یاد رکھا جاتا ہے۔اسٹیو وا ان آسٹریلوی کپتانوں میں سے ایک ہیں جو میدان میں اور میدان کے باہر بھی کھل کر بولنے کے لیے معروف تھے۔ سنہ 2001 میں سورو گانگولی کے ساتھ ان کی کشاکش کی ایک خاص وجہ تھی۔اسٹیو وا کا کہنا تھا کہ اس وقت کے انڈیا کے کپتان گانگولی جان بوجھ کر فیلڈ پر دیر سے آتے تھے۔اسٹیو وا نے اپنی سوانح عمری میں اس بارے میں لکھا ہے کہ کس طرح گانگولی انھیں ہراساں کرتے تھے اور ٹاس کے لیے تاخیر سے آتے تھے۔اسٹیو وا نے لکھا کہ گانگولی اس سیریز کے دوران سات بار ٹاس کرنے دیر سے آئے تھے۔کئی سال بعد آئی پی ایل میں راجستھان رائلز کے خلاف ایک میچ کے دوران بھی گانگولی دیر سے ٹاس کے لیے آئے تھے۔ اس پر راجستھان رائلز کے اس وقت کے کپتان شین وارن اتنے ناراض ہوگئے کہ میچ کے بعد انھوں نے گانگولی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔گانگولی کی تساہلی کے قصے اپنی جگہ لیکن انگلینڈ کے فاسٹ بولر اینڈریو فلنٹوف نے کاؤنٹی کرکٹ کے دوران گانگولی کے شاہی خاندان سے تعلق پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ بہت سارے کرکٹ مبصرین گانگولی کو 'پرنس آف کولکتہ' بھی کہتے ہیں۔سنہ 2000 میں گانگولی لنکاشائر کے لیے کاؤنٹی کھیل رہے تھے۔ فلنٹوف نے اپنی کتاب میں اس بارے میں لکھا ہے کہ کس طرح گانگولی اپنا زیادہ تر وقت آرام میں صرف کرتے اور وہ ورزش کے لیے آتے ہی نہیں تھے۔ گانگولی پر یہ الزام بھی لگا تھا کہ وہ دوسرے کھلاڑیوں سے اپنی کٹ اٹھواتے تھے۔
گانگولی چیپل تنازع:۔انڈین کرکٹ ٹیم کے کوچ کی حیثیت سے گریگ چیپل کا دور بہت متنازع رہا ہے۔ لیکن سورو گانگولی کے ساتھ ان کے اختلافات نے ایک وقت انڈین کرکٹ ٹیم کو دو خیموں میں تقسیم کردیا تھا۔ اس کی بنیاد سنہ 2005 میں دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن سنہ 2007 ورلڈ کپ کے وقت تک یہ معاملہ کافی دھماکہ خیز ہوگیا تھا۔سچن تینڈولکر نے بھی گریگ چیپل کے کام کرنے کے طریقے پر اعتراض کیا تھا اور اس کا ذکر سچن نے اپنی کتاب میں بھی کیا ہے۔انڈین ٹیم 2007 کے ورلڈ کپ کے دوران سپر 8 تک بھی نہیں پہنچ سکی تھی۔ گریگ چپل کئی بار نیٹس پر کھلاڑیوں سے اور میچ کے بعد پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کے ساتھ الجھ جاتے تھے۔ ایک بار بی بی سی کے سوالات پر بھی گریگ چیپل کافی ناراض ہوئے تھے۔گانگولی اور چیپل کے مابین تنازع اتنا بڑھ گیا کہ گانگولی کو سنہ 2005 میں انڈین ٹیم کے کپتان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ صرف یہی نہیں گانگولی کو ون ڈے ٹیم سے بھی ہٹا دیا گیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ گانگولی کی ہی سفارش پر گریگ چیپل کو انڈین ٹیم کا کوچ بنایا گیا تھا۔بالآخر گانگولی ٹیم میں آئے اور وہ 2007 ورلڈ کپ ٹیم کا بھی حصہ بنے، جس کی سربراہی راہول دراوڈ نے کی۔ لیکن گانگولی کے دل میں چیپل کے بارے میں ایک ٹیس قائم رہی۔ 2007 میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد گریگ چیپل کو کوچ کے عہدے سے فارغ کردیا گیا۔
دراوڈ - گانگولی تنازع:۔جب گانگولی کے گریگ چیپل کے ساتھ رشتے تلخ تھے ان دنوں راہول دراوڈ ٹیم کے کپتان تھے۔ گانگولی نے محسوس کیا کہ دراوڈ کپتان ہونے کے باوجود چیپل کے معاملے میں خاموش رہے۔ سنہ 2011 میں انڈیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے گانگولی نے دراوڈ پر سوال اٹھائے تھے۔گانگولی نے کہا کہ راہل دراوڈ ایسے شخص ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہر چیز ٹھیک سے چلتی رہے۔ وہ جانتے تھے کہ بہت ساری چیزیں غلط ہو رہی ہیں، لیکن وہ چیپل کو یہ کہنے کی ہمت نہیں کرسکے کہ وہ غلط کرہے ہیں۔دراصل گریگ چیپل کے کوچ ہوتے ہوئے گانگولی کے ساتھ جو کچھ ہوا گانگولی ہر موقع پر اسے اپنے سامنے رکھتا رہا۔دراوڈ نے بھی گانگولی کے الزامات کے جواب دیے۔ دراوڈ نے کہا: 'اگر گانگولی یہ کہہ رہے ہیں کہ میں چیپل کو کنٹرول نہیں کر سکتا تھا تو وہ اپنی رائے کا اظہار کرنے میں آزاد ہیں۔ انھوں نے کئی سالوں تک انڈیا کے لیے کرکٹ کھیلی ہے۔ لیکن وہ اپنی بات مجھ سے نہیں کہلوا سکتے۔ میری اس سلسلے میں ان سے کبھی کوئی بات نہیں ہوئی۔'
فیلڈ پر امپائر کے ساتھ تکرار:۔ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ گانگولی نے بطور کپتان انڈین ٹیم کو جارحانہ انداز دیا دوسری طرف میدان پر اسی جارحانہ طرز عمل کی وجہ سے گانگولی کو کئی بار پابندیوں کا سامنا بھی رہا۔سنہ 1998 کے بنگلور ٹیسٹ میں آسٹریلیا کے خلاف آؤٹ ہونے کے بعد وہ ناراض ہوگئے تھے۔ ان پر ایک ون ڈے میچ کے لیے پابندی عائد کردی گئی تھی۔گانگولی کو سن 2000 میں ایک بار پھر امپائروں سے لڑنے کی قیمت چکانی پڑی۔ اس وقت زمبابوے کے خلاف میچ جاری تھا۔ گانگولی پر امپائروں کو دھمکی دینے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا گیا تھا اور ایک بار پھر پابندی عائد کردی گئی۔سنہ 2001 میں سری لنکا کے دورے میں ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہونے پر گانگولی اس قدر مشتعل ہوئے کہ انھوں نے امپائر کو اپنا بیٹ دکھایا۔ ایک بار پھر ان پر ایک ون ڈے میچ کی پابندی عائد کردی گئی تھی۔سنہ 2005 میں ان پر سست اوورز کرانے کے لیے پابندی عائد کردی گئی تھی۔ سنہ 2005 میں وہ ایک خراب دور سے گزر رہے تھے۔ ان سے رن نہیں بن رہے تھے اور بالآخر انھیں اپنی کپتانی بھی گنوانی پڑی۔
مائک ڈینس تنازع:۔دراصل اس تنازع کا تعلق صرف گانگولی سے نہیں تھا بلکہ پوری انڈین ٹیم سے تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ واقعہ اور اس کا نتیجہ بین الاقوامی کرکٹ میں انڈین غلبہ کی علامت تھا۔اس تنازع کے مرکز میں میچ ریفری مائیک ڈینس تھے۔ سنہ 2001 میں انڈیا اور جنوبی افریقہ کے مابین سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ پورٹ الزبتھ میں جاری تھا۔میچ کے دوران تنازع اتنا بڑھ گیا کہ ریفری مائیک ڈینس انڈین کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کرنے کے حق میں آگئے۔ یہاں تک کہ سچن تنڈولکر پر بھی گیند سے چھیڑ چھاڑ کے الزامات لگے تھے۔کپتان گانگولی پر الزام تھا کہ وہ میدان میں اپنے کھلاڑیوں کو قابو نہیں کرسکے۔ گانگولی کی ڈینس نے سرزنش کی۔ضرورت سے زیادہ اپیل کی وجہ سے ویریندر سہواگ، دیپ داس گپتا، ہربھجن سنگھ، شیو سندر داس کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔لیکن انڈین کرکٹ حکام اور میڈیا میں شور و غل کے بعد وریندر سہواگ کے علاوہ سب کے خلاف پابندیاں ختم کردی گئیں۔گانگولی اس معاملے میں اپنی ٹیم کے لیے کھل کر سامنے آئے۔ آج بھی بین الاقوامی کرکٹ میں اس واقعہ کو گانگولی اور ٹیم کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔
لارڈز میں قمیض اتارنے کا واقعہ:۔یہ واقعہ سنہ 2002 کا ہے۔ نیٹ ویسٹ سیریز کا آخری میچ لارڈز میں انڈیا اور میزبان انگلینڈ کے مابین کھیلا جارہا تھا۔انڈیا کے سامنے 326 رنز کا ہدف تھا جس کا حصول ناممکن لگ رہا تھا۔لیکن گانگولی کی کپتانی میں نوجوان کھلاڑیوں نے وہ کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔بطور خاص یوراج سنگھ اور محمد کیف کی ناقابل فراموش اننگز ابھی بھی لوگوں کے ذہنوں میں ہیں۔ جیسے ہی انڈیا نے میچ جیتا، لارڈز کی بالکونی میں کپتان گانگولی نے اپنی قمیض اتار کر لہرائی۔اس وقت انڈین کوچ جان رائٹ تھے۔ جان رائٹ اور گانگولی کی جوڑی کو انڈین ٹیم میں تبدیلی کا محرک سمجھا جاتا ہے۔جان رائٹ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شروع میں ہربھجن سنگھ نے بھی ایسا کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ اور پھر یہ منصوبہ تھا کہ تمام انڈین کھلاڑی یہ کریں گے، لیکن راہل دراوڈ نے سب کو روک لیا۔لیکن وہ گانگولی کو ایسا کرنے سے نہیں روک سکے۔
روی شاستری سے تکرار:۔سنہ 2016 میں بی سی سی آئی نے کوچوں کے انتخاب کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں سچن تنڈولکر، سورو گانگولی اور وی وی ایس لکشمن شامل تھے۔اس کمیٹی کی سفارش پر انیل کمبلے کو انڈین کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا۔سابق کھلاڑی روی شاستری نے بھی کوچ کے لیے ایک انٹرویو دیا تھا، لیکن شاستری کے انٹرویو کے دوران گانگولی موجود نہیں تھے۔ یہ انٹرویو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہوا کیونکہ شاستری بینکاک میں تھے۔روی شاستری نے کہا کہ گانگولی نے انٹرویو میں نہ آکر ان کی توہین کی ہے۔ جس کا جواب گانگولی نے بھی دیا۔گانگولی نے کہا کہ 'اگر میں موجود نہیں تھا تو وہ بھی موجود نہیں تھے۔ انھیں بینکاک میں چھٹیاں گزارنے کے بجائے انٹرویو کے لیے انڈیا میں موجود ہونا چاہیے تھا۔تاہم بعد میں کمبلے نے کوچ کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا اور روی شاستری انڈین ٹیم کے کوچ بن گئے۔