تازہ ترین

کورونا کے بیچ عالمی کرکٹ کی واپسی | انگلینڈاور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا میچ آج سے

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


یو این آئی
لندن//انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلا ٹیسٹ کل 8 جولائی سے شروع ہوگا جس کی میزبانی ساؤتھ ہمپٹن کرے گا۔کرکٹ کا میدان تماشائیوں کے بغیر آباد ہوگا۔ کرونا کے باعث تین ماہ سے زائد عرصے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہوگی۔کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اسٹیڈیم میں تماشائیوں کا مصنوعی شور لگایا جائے گا۔پاکستانی وقت کے مطابق میچ دوپہر تین بجے شروع ہوگا۔ جو روٹ کی جگہ بین اسٹوکس انگلینڈ کی قیادت کریں گے۔ جو روٹ دوسرے بچے کی پیدائش کے باعث پہلا ٹیسٹ نہیں کھیلیں گے۔انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں عالمی سطح پر وبائی مرض بننے والے کورونا وائرس کے خطرے کے درمیان بدھ کو ایجس باؤل میں شروع ہونے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میچ میں نئی تاریخ رقم کرنے کا آغاز کریں گی۔کورونا کی وجہ سے117دن طویل وقفے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ اس میچ سے واپسی کر رہی ہے ۔ دونوں ممالک کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ناظرین کے بغیر کھیلی جائے گی اور کورونا کی وجہ سے کچھ نئے قواعد لاگو ہوں گے ۔انگلینڈ کے کرشمائی آل راؤنڈر بین اسٹوکس کے لئے یہ ٹیسٹ ان کے کیریئر کا سنگ میل ثابت ہوگا کیوں کہ وہ فرسٹ کلاس میں بغیر کپتانی کے ٹیسٹ میچ کی کپتانی کریں گے ۔کورونا کی وجہ سے میچ کھیل کے نئے حالات میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے لئے ایک نیا امتحان ہوگا جو کھیل کی مستقبل کی حالت اور سمت کا تعین کرے گا۔ اسٹیڈیم میں کوئی تماشائی نہیں ہوگا اور صرف بلے کے ساتھ گیند مارنے کی آواز سنائی دے گی۔ٹیسٹ کرکٹ میں چوتھی اور آٹھویں نمبر کی ٹیموں کے مابین ہونے والے اس میچ میں کرکٹ میں واپسی متوقع ہے جو کورونا وائرس کی وجہ سے مارچ کے وسط سے بند ہے ۔ آخری بین الاقوامی میچ 13 مارچ کو آسٹریلیائی اور نیوزی لینڈ کے مابین ایک روزہ میچ ہوا تھا جو سڈنی میں شائقین کے بغیر کھیلا گیا تھا۔اسٹوکس پچھلے 50 سالوں میں دوسرے کپتان ہوں گے جو انگلینڈ کے فرسٹ کلاس میچ کھیلے بغیر پہلے کپتان بن جائیں گے ۔ اس سے قبل کیون پیٹرسن نے بغیر فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہی ون ڈے میچ میں انگلینڈ کی کپتانی کی۔ روٹ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کی وجہ سے پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں نہیں کھیل رہے ہیں۔اسٹوکس کو 2016 میں نائب کپتان بنایا گیا تھا لیکن برسٹل میں حملے کے ایک سال بعد نائب کپتانی سے انہیں الگ کردیا گیا تھا۔ انہوں نے گذشتہ سال ایشیز سے نائب کپتانی واپس حاصل کی تھی۔ خود کو بطور کپتان ثابت کرنے کا یہ ایک بہت بڑا موقع ہے ۔عالمی نمبر دو آل راؤنڈر اسٹوکس کا مقابلہ عالمی نمبر ایک کے آل راؤنڈر جیسن ہولڈر سے ہوگا۔ یہ بطور کپتان ہولڈر کا33واں ٹیسٹ ہوگا۔ دونوں کپتانوں کو اپنی بیٹنگ میں پریشانی ہے لیکن دونوں ٹیموں میں ورلڈ کلاس فاسٹ بولنگ اٹیک ہے ۔