رسوماتِ بد کی فلک بوس لہریں

کشمیری معاشرہ اسراف کے اتھاہ سمندر میں غرق

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


مجتبیٰ شجاعی
مجموعی طور پر اگر ہم مسلم معاشرے کا جائزہ لیں۔خواہشات کی غلامی، حرص و ہوس ،تمنائے مال و متاع اور بے جا اخراجات سے سماج میں اضطراب کی فلک بوس لہریں پیدا ہوگئی ہیں۔اسراف میں ایک دوسرے پر سبقت اور بے جا تمناؤں نے حلال و حرام،جائز و ناجائز کی تمیز ختم کردی ہے۔ مقتدر دین میں اعلیٰ انسانی اقدار پائمال ہوتی جارہی ہیں۔ دولت کے پجاری دنیا پر آخرت کو ترجیع دے رہے ہیں سادہ طرز زندگی کو حقارت کی نظر اور قناعت پسند لوگ تنگ نظری کے شکار ہورہے ہیں۔اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے۔ افسوس صد افسوس ہم مدہوش نیند میں خراٹے لے رہے ہیں اور برائیوں کی کثیف لحد میں کروٹیں بدل رہے ہیں۔بے جان ملت کی بد عملی ،مفاد پرستی ،ضمیر فروشی اور غفلت شعاری سے مسلم معاشرہ بربادی کے دھلیز پر کھڑا ہوگیا ہے۔
 بے جا اخراجات اور دولت کی نمائش نے ہمارے پاک و صاف معاشرے کوجکڑ کر رکھ دیا۔شادی بیاہ اور دیگرانفرادی و اجتماعی تقریبات میں انتہائی اسراف سے کام لیا جاتا ہے ۔شادی بیاہ کیا ،اب غریب لوگ ملک الموت کے آنے سے بھی ڈر رہے ہیں، وقت احتضار اور فشار قبر سے بھی زیادہ ڈر،آخری رسومات کا ڈرہے۔ شادی بیاہ کی تو بات ہی نہیں۔ جہیز کی لعنت سے لے کرسینکڑوں پکوان والے دسترخوان اور گاڑیوں کی ریل پیل تک مال و ذر کا انبار چوبیس گھنٹوں میںگیس کی طرح اڑ جاتاہے۔معاشرے میںاخلاقی اور اسلامی حس کی کوئی شئے باقی نہیںرہی۔ رسومات بدکا یہ بیہودہ نظام غریب اور مسکین عوام کی شادیوں میںایک رکاوٹ بن چکا ہے۔ ہمارے سماج میں لاکھوں کی تعداد میں لڑکے اور لڑکیاں عمر کی حدیں پار کرچکے ہیں۔کثیر تعداد میں ہمارے لخت جگرعرصہ دراز سے اسی انتظار میں ہیں کہ کب ان کے ہاتھوں پرشادی کی خوبصورت مہندی لگ جائے۔بیہودہ رسم رواج اور جھوٹی شان و شوکت کے سبب لاکھوں والدین نفسیاتی امراض کے شکار ہوگئے ہیں ۔لیکن مردہ ضمیراور بے غیرت قوم اپنی بدنصیب آنکھوں سے بڑی بے دردی کے ساتھ ان تمام برائیوں کا نظارہ کررہی ہے۔دین مبین اسلام نے نکاح کا جو میعار مقرر کیا ہے، مال و متاع کے پجاریوں نے اس کو پاؤں تلے روندھ ڈالاہے۔ اگر اسی میعار کو ملحوظ نظر رکھا جاتا تو غریب ،مفلس اور نادار بیٹیوں کا نکاح بھی بآسانی ہوجاتا۔آج مسلم معاشرے میں مسائل کے انبار سے انسانی اور اسلامی اصولوں کے تحفظ کی کمی کو شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔
 واقعتا آج کے پرُفتن دور میں نام نہادمسلمان نے تعلیمات قرآنی کو بالائے طاق رکھ کر بالی ووڈ اور ہالی ووڈ کی فلموں کو اپنا آئین تسلیم کرلیا ہے۔فحاشی اور عریانیت کے اداکاروں کواپنا آئیڈیل سمجھا۔ سینما ہالوں ،شراب خانوں اور فحاشی کے دیگر اڈوں میں تربیت پاکر زیبا ترین زندگی کو جہنم کا راستہ دکھایا۔ہمارے حکمران، دانشور اور دیگر ذمہ دار طبقے خود ایسی خرافات اور رسومات بد کے دلدل میں پھنس چکے ہیں جہاں سے نکلنا دشوار لگ رہا ہے۔ ہماری مسجدیں بے روح نمازوں تک محدود رہ گئی ہیں۔ہماری درگاہیں تفریح گاہ بن گئی ہیں۔ علماء کو ڈر ہے کہ اگر برائیوں خاص طور پر اسراف کے خلاف آواز اٹھائیں گے تو واز وان(لمبی فہرست والے پکوان) والا دسترخوان بند ہوجائے گا۔ختم قرآن اور مردے کے آخری رسومات اور فاتحہ خوانی کی مجلسوں میں ان کو نظر انداز کیاجائے گا۔ حکمرانوں نے ہی رسم و رواج کی آڑ میںجہیز جیسی لعنت اور اسراف کو پروان چڑھایا ۔علما ء اور دانشورحضرات نے آنکھیں بند رکھیں۔اسراف اور فضول خرچی کا گھوڑا بے لگام ہوگیا ،نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرہ برباد ہوگیا ۔جس معاشرے میں قانون ساز اور قانون کی رکھوالی کرنے والے افراد اس طرح کی برائیوں کے شکار ہوں گے،رعایا پرانگلی اٹھانا بے سود ہوگا ۔
مرسل اعظم ؐ نے فرمایا :۔’’میری امت کے دو طبقے اگر ٹھیک ہوجائیں تو میری امت کی اصلاح ہوجائے گی۔لیکن اگر یہ دونوں خراب ہوجائیں تو میری اُمت بگڑ جائے گی۔سوال ہوا اے اﷲ کے رسولؐ وہ کون ہیں ؟ فرمایا:علماء اور حکام۔‘‘(کتاب الخصال صفحہ ۳۶)
مسلمانوں کے لیے کتنی بڑی حماقت کی بات ہے کہ ایک طرف مرسل اعظم ؐ کے امتی ہونے کے دعویدار ہیں،دوسری جانب آپ ؐ کی تعلیمات سے منہ پھیر رہے ہیں، آپؐ کی طرز زندگی اپنانے میںشرم و عار محسوس کررہے ہیں۔ جس قرآن کومسلمان کلام اللہ سمجھ کر ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، درحقیقت اس کے اصل ا ہداف سے روگردانی اختیار کرکے مغرب کے ذلیل و خوار معاشرے کوپیار کررہے ہیں۔قرآن و سنت سے روگردانی سب سے بڑا وجہ بنی کہ معاشرہ زوال پذیری کی جانب گامزن ہے۔
قرآن پاک اسراف اوربے جا خرچی کے بارے میں فرماتا ہے:’’کھاؤ ،پیو اور اسراف نہ کروکیونکہ خدا اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘ (سورہ اعراف آیت نمبر ۳۱)۔اسی طرح اسراف کرنے والوں کو اﷲ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کا بھائی بنادیا ہے ۔ارشاد خداوندی ہے :۔’’اسراف کرنے والے شیطانوں کا بھائی ہے۔‘‘( سورہ اسراء آیت ۲۷)
 مسلمانو!قرآن و سنت کی کسوٹی پر اپنے نفس کو پرکھ کر محاسبہ کیجئے ،باریک بینی سے جائزہ لے کر بتائیںکہ قرآن و سنت کی رو سے کیا ہم امت محمدیؐکا دعویٰ کرسکتے ہیں؟اگر ہمیں قران و سنت سے محبت ہے۔سچے عاشقان رسولؐاور پیروان اہلبیتؑ کے دعویدار ہیں تو اس مادی جاہ و حشمت، مال ودولت ،بے جا اخراجات اسراف اور فضول خرچی سے گریز لازمی ہے ۔خواہشات نفسانی کے غلام اورضمیر فروش افراد کسی بھی صورت میں امت محمدی ؐ کا دعویٰ نہیںکرسکتے۔   
دورحاضر میں اگرہم سامراجی اور صیہونی مظالم پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں،کشمیر ،یمن ،بحرین ،نائجریا ،سیریا اور عراق میں ہورہی ظلم وزیادتی پرواویلا مچارہے ہیں،یزیدیت کے خلاف نفرت وبیزاری کا اظہار کررہے ہیںتو کیاکبھی ہم نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا ؟کہیں ہم بھی وقت کے یزید، فرعون اور نمرود تونہیں؟ اگرہمارے افعال کی وجہ سے کسی مفلس بیٹی کا ہاتھ مہندی لگنے سے رہ جائے تو ہم سے بڑا ظالم کون ہوسکتاہے۔یہی یزیدی کردار ہے کہ غریب عوام ہمارے شر سے محفوظ نہیں ۔  
 آج دولت کے پجاریوں نے اپنی بدکرداری سے جس طرح ماحول کو آلودہ کیا ہے ،نچلے طبقے کی امنگوں اور امیدوں کا سرعام قتل کیا ہے، قوم کی لاکھوں بیٹیوں کوضائع کردیا ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دور جاہلیت نے ایک مرتبہ پھر سرنکالاہے۔ اس دور میں اگر باپ شرم سے بیٹی کو زندہ درگور کرتا تھاتوآج والدین اپنے آپ کو زندہ درگور کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔بے جا اخراجات نے سماج کے نچلے طبقے کا جینا حرام کردیا ہے ۔ہماری وادی میں ہزاروں لڑکیاں ازدواجی زندگی کے لیے ترس رہی ہیں لیکن ریکارڈ تورڈ رسومات نے ان کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔معاشرہ کا ذی شعور طبقہ،علماء ،حکمران اور دانشوران ’’صم بکم عمی فھم لا یعقلون‘‘ کے مصداق بنے ہوئے ہیں ۔اگر ہم ابھی بھی خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو انجام عبرتناک ہوگا۔وقت کا تقاضا ہے کہ ایسے افراد اور ایسے گھرانوں سے بائیکاٹ کیا جائے جو رسومات بد ،بے جا اخراجات ،جھوٹی شان و شوکت ،اسراف اور فضول خرچی سے معاشرے کو آلودہ کررہے ہیں ۔علماء اور ذی شعو رطبقہ اس ناسور کے خلاف مل کر مزاحمت کا اعلان کریں ۔
 رابطہ :گنڈ حسی بٹ سرینگر،موبائل نمبر7006861759
ای میل: mujtabaalia5@gmail.com
 

تازہ ترین