فلسطین کے انضمام کا معاملہ فی الحال ٹل گیا!

ارضِ مقدس

تاریخ    8 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


اسدمرزا
اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف زمانہ امن کے دوران سب سے بڑی فوجی کارروائیوں میں سے ایک، وقتی طور پر ہی صحیح ،لیکن فی الحال التوا میں پڑ گیا ہے۔
 اسرائیل کے وزیر برائے علاقائی تعاون اوفر اکونس کا کہنا ہے کہ فلسطین کے انضمام کی یہ کارروائی جولائی میں یقینی طورپر ہوگی لیکن اسے امریکہ کے ساتھ مل کر انجام دیا جائے گا ۔ان کا کہنا تھا’’ انضمام کی کارروائی صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد عمل میں آئے گی۔‘‘ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع بینی گینٹز کے درمیان ہوئے معاہدے کے مطابق نیتن یاہو کو کابینہ یا پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد مغربی کنارہ کے انضمام کے متنازعہ منصوبے کا یکم جولائی کو اعلان کرنا تھا۔
انضمام کا منصوبہ
 نیتن یاہو کی طرف سے پیش کردہ انضمام کے منصوبے کے مطابق اسرائیلی افواج کو وادی اردن اور مغربی کنارہ کے کچھ علاقوں میں غیر قانونی طور پر آباد اسرائیلی علاقوں میں پیش قدمی کرکے غیرآباد علاقوں پرمزید قبضہ کرنا تھا۔مغربی کنارے میں یہ غیر قانونی اسرائیلی بستیاں 1969کے بعد سے آباد ہونا شروع ہوئی تھیںاور گزرتے وقت کے ساتھ ان کے رقبہ اور آبادی دونوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔
 اسرائیلی حکومت واضح طور پر یہ کہتی رہی ہے کہ وادی اردن اور مغربی علاقے میں رہنے والے فلسطینیوں کوشہریت نہیں دی جائے گی اور انہیں دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری حقوق اور حیثیت پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔
 ان علاقوں کے انضمام کا اسرائیلی فیصلہ نہ تو اچانک فیصلہ ہے اور نہ ہی اس کے تئیں امریکی حمایت کوئی نئی بات ہے۔ 1967میں مغربی کنارہ پر قبضہ کرنے کے بعد سے ہی اسرائیل اپنے اس ارادے کا اظہار کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعتیں طویل عرصے سے مغربی کنارہ کے تمام علاقوں کے انضمام کا مطالبہ کرتی رہی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ملک کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہودیوں کی مذہبی کتاب میں جس اسرائیل کا ذکر کیا گیا ہے یہ اس کا اٹوٹ حصہ ہے۔ 
امریکہ کا رول
 اسرائیل کے اس منصوبے کو اس وقت بڑی تقویت ملی جب2017میں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت اور2019 میں گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرلیا۔ امریکہ کے ان دونوں فیصلوںکی دنیا بھر میں نکتہ چینی ہوئی۔
اس سال کے اوائل میں ٹرمپ نے مشرق وسطی امن منصوبے کی تجویز پیش کی تھی جس میں مغربی کنارے میں غیر قانونی طورپر آباد یہودی بستیوں کو اسرائیلی علاقہ کے پر تسلیم کیا گیا تھا اور تل ابیب کو وادی اردن پر کنٹرول رکھنے کی اجازت دی گئی تھی حالانکہ یہ فلسطین کا علاقہ ہے۔اس کے فوراً بعد ایک مشترکہ امریکی اسرائیلی کمیشن نے انضمام کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے علاقے کی پیمائش کا کام شروع کردیا ۔ اس طرح اس پورے معاملے میں صدر ٹرمپ کے کھلے یا پوشیدہ رول کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔سابقہ امریکی انتظامیہ عام طور پر مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے سلسلے میں آنکھیں موندیں رکھتی تھیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ کھل کر سامنے آگئی ۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سارا کھیل دراصل ٹرمپ کے ذاتی تجارتی ترجیحاتی مفادات سے بھی وابستہ ہے۔
لیکن امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ممکنہ امیدوار جوئے بیڈن چاہتے ہیں کہ اسرائیل کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے جو مسئلہ فلسطین کے حل کے سلسلے میں دو قومی حل کو ناممکن بنادے۔
فلسطینی موقف
بین الاقوامی برداری مغربی کنارہ بشمول یروشلم کو بین الاقوامی قانون کے تحت مقبوضہ علاقہ قرار دیتی ہے۔گویا وہاں کسی بھی طرح کی یہودی بستی بسانا یا مجوزہ انضمام غیر قانونی ہے۔
فلسطینی حکام نے دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے ا نضمام کے منصوبے پرعمل درآمد کیا تو وہ اس کے ساتھ تمام باہمی معاہدے ختم کردیں گے ، جس سے دو قومی حل مزید مشکل ہوجائے گا۔فلسطینی پورے مغربی کنارے کو مستقبل کی آزاد ریاست کا مرکزی علاقہ سمجھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر ٹرمپ کے منصوبے کو نافذ کردیا جائے توایک آزاد وطن کی ان کی امیدیں ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائیں گی۔
مجوزہ منصوبے کے مطابق فلسطینیوں کو اپنے علاقے کے ایک مختصر سے حصے میں محدود خودمختاری حاصل ہوگی ، فلسطین کے اندرونی علاقے میں آباداسرائیلی بستیوں کو نہیں چھیڑا جائے گااور اسرائیلی فوج فلسطین پرسیکورٹی کنٹرول برقرار رکھے گی۔
فلسطینی اتھارٹی نے مجوزہ انضمام کے خلاف بطور احتجاج اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیے ہیں ۔امن کے امکانات کی عدم موجودگی میںفلسطینی اتھارٹی کو ملنے والی بین الاقوامی مالی امداد رک جانے کابھی خدشہ ہے جس سے کہ فلسطینی اتھارٹی بالکل ایک غیر فعال ادارہ بن کر رہ جائے گا۔
بین الاقوامی ردعمل
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کا کہنا ہے کہ انضمام ’ بین الاقوامی قوانین کی سب سے سنگین ترین خلاف ورزی ‘ ہوگی۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسف  بوریل نے اس کے انتہائی سنگین مضمرات کے سلسلے میں متنبہ کیا ہے۔ برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ اس انضمام کی حمایت نہیں کرے گا ۔ فرانس، بیلجیئم ، لکزمبرگ او رآئر لینڈ نے تادیبی اقتصادی اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔چین نے جہاں ’ انتہائی تشویش‘ کا اظہار کیا ہے وہیں روس نے اس منصوبے پر سخت اعتراض کیا ہے ، حتی کہ ویٹیکن نے بھی اس انضمام کے خلاف متنبہ کیا ہے۔ دریں اثنا ایسی خبریں ہیں کہ برطانیہ نے اشارہ دیا ہے کہ اپنی تاریخی ناانصافیوں کا ’کفارہ‘  ادا کرنے کے لیے وہ انضمام کے اس منصوبے کو سردخانے میں ڈالنے کے لیے مداخلت کرے گا۔
عربوں کا ردعمل
اسلامی ملکوں میں ترکی اور بین الاقوامی کمیونٹی کی اکثریت 1967میں مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔  اردن نے سخت لہجے میں احتجاج کیا ہے جب کہ دیگر خلیجی ملکوں نے بھی متنبہ کیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ انور غرغش نے کہا ہے کہ مجوزہ انضمام ’ امن مساعی کے لیے ایک سنگین دھچکا ‘ ہوگا ۔ سعودی عرب نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
ہر ملک اپنے اپنے مفادات کو تکمیل میں مصروف ہے اور عرب ممالک بھی اس سے مستشنی نہیں ہیں۔ اردن سے لے کر خلیجی ممالک تک ، فوجی امداد کے لیے امریکہ پر منحصر ہیں ۔ اس کے علاوہ ان میں سے بہت سے ممالک کے اسرائیل کے ساتھ اچھے تجارتی تعلقات ہیں۔صورت حال یہ ہے کہ آپ چاہیں تودوبئی کے مشہور دوبئی مال میں اسرائیلی کھانے کوشر(حلال) سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں اور دوبئی میں واقع دو اسرائیلی صعومے میں ہونے والی مذہبی تقریبات میں دیگر یہودیوں کے ساتھ شامل ہوسکتے ہیں۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا کہ اگر آپ کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا ویزا لگا ہو تو کسی بھی خلیجی ملک میں داخلے کی اجازت نہیں ملتی تھی لیکن اب سعودی شہری بھی زیارت کے نام پر اسرائیل کا بے روک ٹوک دورہ کرتے ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے اب تک جس طرح کے ردعمل کااظہار کیا ہے وہ بیان بازی سے زیادہ نظر نہیں آتے ہیں۔ ماضی میں بھی وہ اسی طرح کی بیا ن بازیاں کرتے رہے ہیں۔ اقو ام متحدہ، عرب لیگ اور یورپی پارلیمنٹ میں اب تک اسرائیل کے خلاف درجنوں قراردادیں منظور ہوچکی ہیں اور انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں اسرائیلی حکومت کے خلاف مقدمے دائر ہوچکے ہیں لیکن یہ صرف کاغذی کارروائیا ں ہی ہیں۔
ہندوستان کا ردعمل
حالانکہ ایسی اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے پچھلے چار ماہ کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم کے ساتھ تین مرتبہ بات چیت کی ہے لیکن یہ بات چیت صرف کورونا وائرس سے نمٹنے کے سلسلے میں باہمی تعاون کے متعلق ہوئی ہے اور کسی ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے کہ وزیر اعظم مودی نے انضمام کا معاملہ بھی کبھی اٹھایاہے۔اس سال جنوری میں ہندوستان نے امریکہ اسرائیل امن منصوبہ کو نامنظور کرتے ہوئے فلسطینی کاز کے تئیں اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
دریں اثنا فلسطینی حکومت نے ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے منصوبے کی مخالفت کرے۔ فلسطینی صدر محمود عباس کے سینئر سفارتی مشیر ماجدی الخالدی نے ہندوستان سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی حق خود ارادیت او رریاست کے مطالبے کی حمایت جاری رکھے۔
حاصلِ کلام
جب ہم یہ سنتے ہیں کہ اسرائیل کا مجوزہ منصوبہ نافذ ہوجانے کی صورت میں وادی اردن اور مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینی شہریت حاصل کرنے کے حق سے محروم ہوجائیں گے اور انہیں دوسرے اورتیسرے درجے کے شہری کے طورپر رہنا ہوگا، اس ذکر کے آتے ہی ہمیں ہندوستان میں سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر پر موجودہ حکمرانوں کا موقف ہمارے سامنے آجاتا ہے اورہندوستان اور اسرائیلی دونوں حکومتوں کے درمیان ذہنی اور نفسیاتی ہم آہنگی کو بھی واضح کردیتا ہے۔
 مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر انضمام کے منصوبے پر عمل درآمد کیا گیا تواسرائیل او رفلسطین تصادم کے حل کے سلسلے میںدو قومی تجویز خطرے میںپڑجائے گی اور اس سے نہ صرف فلسطینی اتھارٹی کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں علاقائی کشیدگی میں بھی اضافہ ہوگا۔
امید کی جانی چاہئے کہ کچھ وقت کے لیے ہی صحیح اسرائیل کی داخلی سیاست کی وجہ سے یہ معاملہ سردخانے میں پڑا رہے ۔ مستقبل کے بارے میں کوئی پیشن گوئی کرنا تو ممکن نہیں ہے لیکن سیاسی حالت کب کیا رخ اختیا ر کرلیں کوئی نہیں جانتا ۔ایک طرف اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہوگھریلو سیاسی مسائل سے دوچار ہیں دوسری طرف امریکی صدارتی انتخابات میں جوئے بیڈن کی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ 
 فی الوقت فلسطینی ایک ایسی جدوجہد میں کوشاں ہیں جس کے ذریعہ وہ اپنی زمین ، اپنی آزادی اوراپنے قومی حقوق کو ایک نئے متحدہ فلسطین کی شکل میں دیکھنا چاہئے ہیں۔ لیکن وہ جن مصائب کا سامنا کررہے ہیں ان کے فوری طور پر ختم ہونے کے کوئی آثار فی الحال دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ہم صرف ان کے حق میں دعا کرسکتے ہیں۔
(اسد مرزا نئی دہلی میں مقیم سینئرصحافی ہیں۔ وہ بی بی سی اردوسروس اور خلیج ٹائمز سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ وہ مسلمانوں، تعلیمی نیز بین الاقوامی امور اور بین مذاہب امور پر لکھتے ہیں۔)
ا ی میل:  asad.mirza.nd@gmail.com
����������
 

تازہ ترین