کولگام میں دوشیزہ کیساتھ مبینہ زیادتی کیخلاف احتجاج

۔ 3اساتذہ معطل،اصل ملزم گرفتار،2کی تلاش جاری

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


خالد جاوید
اننت ناگ //کولگام میں دوشیزہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاج کیااور اس جرم میں ملوث افراد کوکڑی سزادینے کا مطالبہ کیا۔اس دوران محکمہ تعلیم نے تین اساتذہ کوتحقیقات مکمل ہونے تک معطل کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق کولگام میں دوشیزہ نے اُستاد پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے ،جس کے بعد محکمہ تعلیم نے3اساتذہ کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کیا ہے ۔چچی مولہ دمہال ہانجی پورہ کولگام کی رہنی والی20سالہ دوشیزہ(نام مخفی)نے پولیس اسٹیشن دمہال ہانجی پورہ میں تحریری شکایت درج کی کہ اُسے ہلال احمد ڈار جو کہ اُستاد ہے، نے اپنے دو دیگر ساتھیوں کی مدد سے اُس وقت اپنی ہوس کا شکار بنایا ،جب وہ کھیت میں کام کر رہی تھی ۔لڑکی کے مطابق ملزم نے بہیوش کر کے اُس کے ساتھ جنسی زیادتی کی ۔اس بیچ پولیس نے تعزیرات ہند کے دفعات366/376کے تحت کیس زیر نمبر109/2020 درج کیاہے۔ پولیس نے گھنائونی حرکت میں مرکزی ملزم کو حراست میںلیا ہے اور تحقیقات شروع کردی ہے ۔ واقع کے خلاف علاقہ میں احتجاج ہوا اور ملزموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی مانگ کی گئی ۔ ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام نے اس سلسلے میں بتایا کہ واقع کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے اور ایس ایس پی اس ساری کاروائی کی نگرانی کر رہے ہیںاور جو بھی اس جرم میں ملوث پایا جائے گا ،اُس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گئی ۔اُنہوں نے لوگوں سے انتظامیہ کو تعاون دینے کی اپیل کی ہے ۔اس بیچ زونل ایجوکیشن آفیسر دمہال ہانجی پورہ نے مبینہ جنسی ہراسانی کے الزام میں ہلال احمد ڈار،نزیر احمد شاہ اور عامر فاروق نامی تین اساتذہ کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کیا ہے ۔ادھرایک بیان میں پولیس نے کہاکہ کلگام میں پولیس نے24 گھنٹوں کے اندر لڑکی کے اغوا اور جنسی زیادتی میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔ایک بیان کے مطابق پولیس اسٹیشن ڈی ایچ پورہ کو ایک شکایت موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا  ہ کلگام کے علاقہ چچیم اللہ اور گنڈوانی کے رہنے والے 03 افراد نے لڑکی کو اغوا کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔اسی مناسبت سے پولیس اسٹیشن  ڈی ایچ پورہ میں قانون کے متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر نمبر 109/2020 درج کیا اور تفتیش شروع کردی گئی ۔ایس ڈی پی او ،ڈی ایچ پورہ کی نگرانی میں ایس ایچ او ڈی ایچ پورہ کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم نے تیزرفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے شکایت ملنے کے بعد اصلی ملزم جوکہ چچیم اللہ کارہائشی ہے ،کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کرلیا۔ اُسے  پولیس اسٹیشن ڈی ایچ پورہ منتقل کردیا گیا ہے جہاں وہ زیر حراست ہے۔ تاہم دیگر دو افراد کی گرفتاری کے لئے پولیس کی کوششیں  جاری ہیں۔تمام قانونی لوازمات کو پورا کرنے کے بعد لڑکی کو اس کے ورثا کے حوالے کردیا گیا۔ اس معاملے  میںتحقیقات جاری ہے۔بیان کے مطابق بدقسمتی سے  یہ افواہیں شرپسند عناصر کے ذریعہ پھیلائی جارہی ہیں کہ پولیس نے ملزم افراد کوچھوڑ دیا ہے اور طبی معائنہ کرنے والی نے متاثرہ لڑکی کو اپنا بیان تبدیل کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس ان افواہوں کی تردید کی ۔
 

تازہ ترین