تازہ ترین

سی ڈی ہسپتال میں شوپیاں کے طالب علم کی موت

حادثے میں زخمی ہوامگر علاج کووڈ کیلئے کیا گیا، تحقیقات کی مانگ

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


 سرینگر// چسٹ اینڈ ڈیزیز ہسپتال درگجن میں شوپیا ن کے 24سالہ طالب علم ابرار ریاض کی موت پر لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے معالجین کو ابرار کی موت کیلئے مبینہ طور ذمہ دار ہونے کا الزام لگایاہے۔احتجاجی مظاہرین پیر کوپریس کالونی لالچوک میں جمع ہوئے ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ۔احتجاجیوں نے مطالبہ کیا کہ جو بھی اس میں ملوث پایاجائے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مہلوک طالب علم کے لواحقین نے بتایا کہ ابرار ریاض حادثے میں زخمی ہونے کے بعد اسے  صدر اسپتال سرینگر علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا تاہم حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انہیں کورونا مثبت قرار دینے کے بعد سی ڈی اسپتال درگجن منتقل کیا گیا اور زخموں کا علاج کرنے کے بجائے انہیںکورونا کے علاج کیلئے منتقل کیا گیا ۔ انہو ں نے کہا کہ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں انہیں داخل کرنے سے اس بات کو لیکر منع کیا گیا کہ وہاں ونیٹی لیٹر نہیں ہے جبکہ صدر اسپتا ل میں جونہی اس کی صحت میں کچھ بہتری آنے لگی تھی تو کورونا کا بہانہ بنا کر انہیں سی ڈی اسپتال منتقل کیا گیا ۔لواحقین نے کہاکہ اگر کسی مریض کو سر میں چوٹ آتی ہے اور وہ بعد میں کورونا کیلئے مثبت بھی ہو تو انہیں اسے اسپتال میں علاج ملنا چاہئے تھا جہاں دونوں بیماریوں کا ایک ساتھ علاج کیا جاسکے تاہم ڈاکٹروں نے لاپروائی کا مظاہرہ کرکے ابرار کو نازک حالت میں سی ڈی اسپتال منتقل کر دیا جہاںوہ زندگی کی جنگ ہار گیا ۔ لواحقین نے مطالبہ کیا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کرائی جائے اور جو بھی ڈاکٹر اس میں ملوث ہو ،ان کے خلاف کڑی سے کڑی کارورائی کی جائے تاکہ ہمیں انصاف مل سکے۔