نئی میڈیا پالیسی واپس لینے کا مطالبہ

پریس کالونی میں صحافیوں کا احتجاج

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر// سرینگر میں ذرائع ابلاغ  سے وابستہ ایک گروپ نے نئی میڈیا پالیسی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس کی فوری واپس کا مطالبہ کیا۔پیر کو صحافیوں کے ایک گروپ نے نئی میڈیا پالیسی کے خلاف سرینگر کی پریس کالونی میں ’’جے اینڈ کے میڈیا گلڈ‘‘ کے بینر تلے مظاہرہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ احتجاجی صحافیوں نے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر’’میڈیا  پر بندشیں بند کرئو ، ہم جمہوریت کے اہم ستون ہیں،میڈیا پالیسی2020 منسوخ کرئو‘‘ کے نعرے درج تھے۔احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ میڈیا کی نئی پالیسی کا مقصد جموں و کشمیر میں صحافیوں کو  خاموش کرنا ہے اورحکومت کی اس پالیسی کو تیار کرنے والوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میڈیا جمہوریت کا اہم ستون ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ جس طرح جمہوریت میں دیگر ستون لازمی ہے اسی طرح میڈیا کا ستون بھی ضروری ہے۔جے کے میڈیا گلڈ کے صدرمیراعجازاحمد نے اس موقعہ پر کہا کہ حکومت کے ارادے واضح ہیں کہ وہ ذرائع ابلاغ کوسچ سامنے لانے سے روک رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم دبائو میں نہیں آئیں گے اوراگر اس پالیسی کوواپس نہیں لیاگیا تو ہم ہرسطح پر اس کے خلاف آوازبلند کریں گے یہاں تک کہ ہم دلی میں بھی ضرورت پڑنے پراحتجاج کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے تمام فورموں نے اس کیخلاف جدوجہد میں یکجہتی کااظہار کیا ہے ۔جے کے میڈیاایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری میرارشد نے کہا کہ نئی میڈیا پالیسی کامقصد کشمیرمیں پریس کی آزادی کا گلاگھونٹنا ہے۔ذرائع ابلاغ سے وابستہ نمائندوں نے ہمیشہ مشکلات کے باوجود سچ کو سامنے لایا ہے ۔امتیاز احمد  نامی ایک صحافی نے بتایا ’’ نئی میڈیا پالیسی تمام اخبارات ، نیوز چینلز اور دیگر تمام نیوز پلیٹ فارموںکے خلاف ہے اور اس پالیسی کے تحت کسی بھی خبر کی چھاپنے سے قبل حکومت اور پولیس کو پہلے سے آگاہ کرنا ضروری ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگر پولیس یا حکومت کو مطلع کرنے میں کوئی ناکام ہوتا ہے تو اس کے اخبار کی رجسٹریشن منسوخ ہوجائے گی ، اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی یا سرکاری اشتہارات بند کردیئے جائیں گے۔مظاہرین نے کہا کہ انہیں اپنی ملازمت کے ساتھ ساتھ آزادانہ ماحول میں کام کرنے کا موقعہ ملنا چاہے،کیونکہ وہ کسی کی زبان نہیں بننا چاہتے۔احتجاجی صحافیوں نے اس پالیسی کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
 

تازہ ترین