درس و تدریس کاغیر روایتی نظام

خامیوں سے مفرنہیں،خوبیوں کی بھی داد دیں

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ارشاد احمد حجام
کورونا وائرس کی وجہ سے ساری زندگی ٹھپ ہوکے رہ گئی، تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے مفلوج ہیں تاہم کچھ ادارے آج بھی اِن مشکل حالات میں اپنے فرائض جان فشانی سے انجام دے رہے ہیں۔جہاںمحکمہ صحت عامہ،بجلی،پولیس، پی ایچ ای(PHE) ،محکمہ مال،بینک وغیرہ اگرچہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنے فرائض روایتی انداز میں ہی انجام دے رہے ہیں وہاں کچھ دیگر ادارے غیر روایتی انداز میں اپنے کام نبھانے میں مصروف ہیں۔محکمہ تعلیم بھی ان میں سے ایک ہے،جس نے اپنے کام کاج کا انداز یکسر ہی بدل دیا ہے۔غیر روایتی انداز میں درس و تدریس کا عمل ایک نئے جوش و جذبے سے جاری ہے۔محکمہ تعلیم نے طالب علموں کی بہتری کے لیے کئی حوصلہ افزا اقدامات اٹھائے ہیں۔عام مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ہماری وادی میں ہمیشہ مشکل حالات میں تمام شعبوں میں سب سے زیادہ منفی اثرات تعلیم پر ہی پڑتے ہیں۔پچھلی دہائی سے خاص کر محکمہ تعلیم کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کھبی سیلابی صورتحال تو کھبی ناسازگار حالات کی وجہ سے ہمارے بچوں کا بیش قیمتی وقت ضائع ہوا اور اب اس سال کے مارچ مہینے میں ہمارے تعلیمی ادارے کھلتے ہی کرونا کے وبا کی وجہ سے بند کرنے پڑے ہیںاور صورتحال سے نمٹنے کیلئے محکمہ تعلیم نے قابلِ تحسین اقدامات اٹھائے ہیں، جن سے یقیناکافی حد تک ضائع ہونے والے وقت کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔
لاک ڈاون کے دوران محکمہ تعلیم نے سب سے پہلے طالب علموں کے لئے اسائنمنٹس(assignments)تیار کیے، جو بڑی محنت سے اساتذہ صاحبان نے طالب علموں کے گھروں تک پہنچائے اور یوں طالب علم پڑھائی کے عمل میں کسی حد تک مصروف رہے۔اس کے بعد آن لائن کلاسز کا اہتمام کیا گیا جو الحمداللہ تا ایں جاری ہے۔ ِاِن آن لائن کلاسز کی کامیابی میں معلمین (Teachers)کا اہم رول ہے۔انھوں نے بڑی محنت اور لگن سے اِن آن لائن کلاسز کو عملی جامہ پہنایا۔ اس کے علاوہ ہماری وادی میں بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں صرف مشکل سے کال (call)کرنا ممکن ہوتا ہے اور انٹرنیٹ (internet) تک رسائی ناممکن ہے، ایسے علاقوں کے اساتذہ صاحبان نے کانفرنس کالزکے وسیلے طالب علموں کو پڑھائی کے نیک شغل میں مشغول رکھا۔آج کل وادی میں ہر طرف پڑھنے پڑھانے کا ایک نرالا عمل جاری ہے۔ہر گھر اسکول جیسا منظر پیش کرتا ہے، جس سے روح کو کسی حد تک سکون ملتا ہے کیونکہ آج کل اس وبائی ماحول میں تعلیمی ادارے  یا تو ویران نظر آتے ہیں یا قرنطینہ مراکز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ایسے نظارے کسی بھی صاحبِ دل کیلئے یقیناتکلیف دہ ہے ،لیکن آن لائن کلاسزکے منعقد ہونے سے اس ذہنی پریشانی سے کسی حد تک چھٹکارا ملا ہے۔بچے بھی بڑی دلچسپی سے اِن کلاسوں میں حصہ لیتے ہیں۔ 
کرونا وائرس کے پیدا ہونے سے بہت پہلے کچھ لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ برِ صغیر میں تعلیمی نظام اب یورپی نظام تعلیم کی طرح ہونا چاہیے، یعنی جدید تکنالوجی (Technology) کی وساطت سے گھروں میں ہی بیٹھ کے تعلیم حاصل کرنا لیکن بیشتر ماہرینِ تعلیم اور دیگر  لوگ اس کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ یہاں کی تعلیم کا بنیادی ڈھانچہ (infrastructure)  اْس درجے کا نہیں ہے جیسے یورپ(Europe)کا ہے، بلکہ اْسے کوسوں دور ہے۔ کرونا وائرس سے پیدا شدہ حالات نے ہمیں مجبوراً آن لائن کلاسز کی طرف دھکیل دیا جو کہ ایک بہت بڑاچیلنج ہے ،لیکن ہمارے اسکولی تعلیم محکمے کی کاوشوں اور معلمین حضرات کی محنت سے ایسا کرنا ممکن ہوا ہے۔ حالانکہ اس قسم کے نظام تعلیم میں کئی منفی اثرات بھی موجود ہیں لیکن وہ اس کے مثبت پہلو پر غالب نہیں آسکتے۔ایسے فیصلوں سے طالب علموں کابیش قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ گیا۔اگرچہ آن لائن کلاسز روایتی کلاسزکی کمی پوری نہیں کرسکتے،پھر بھی لاک ڈاون کے دوران ایسی کوشش قابلِ ستائش ہے۔یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اگر انسان میں ہمت اور عزم ہوتو کوئی بھی مشکل سے مشکل کام انجام دیا جا سکتا ہے۔ اسی کی مثال تعلیم محکمے نے پیش کی ہے ۔معلمین حضرات میں اس مرتبہ ایک نیا ولولہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔وہ ہر ممکن ذرایع سے ایک ایک طالب علم تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور اْن کو علم کے نور سے منور کرتے ہیں۔یہ علم ہی ہے جو کسی بھی قوم کی حالت کو بہتر بنانے کی ضامن ہوتی ہے۔خالقِ کائنات سے دعا ہے کہ اس وبائی بیماری سے ہمیں جلدی چھٹکارا ملے اور ہم ایک مرتبہ پھر تعلیمی اداروں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی پیاری آوازیں سن سکیں۔آمین
 رابطہ :  ستورہ ترال پلوامہ 
موبائیل نمبر:9797013883 

تازہ ترین