قلتِ آب

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

تاریخ    7 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


معراج مسکینؔ
بلا شبہ یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ وادیٔ کشمیر کے لوگوں کوماضی کی حکومتوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور درپیش مسائل کے حل کے لئے جس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا تھا ،حال میںبھی اُنہیں اُسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے بلکہ کئی معاملات میں آج وادی کے لوگوں کو ماضی سے بھی زیادہ مشکلات اور مصائب جھیلنے پڑرہے ہیں۔موجودہ صورت حال میں جہاں وادی کے عام لوگوں کی زندگی بدستور بندق و بارود ،تشدد،چیکنگ ،محاصروں،ہلاکتوں اور جھڑپوں میں ہی گذر رہی ہے وہیں وہ اشیائے ضروریہ ،بجلی ،پانی ،علاج و معالجہ،تعلیم اور ٹرانسپورٹ سمیت کئی اور معاملات کی فراہمی اور حصول کے لئے شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ یہاں محض پینے کے پانی کے موضوع پر ہی بات کی جائے توغور طلب معاملہ یہ ہے کہ کیا وادی کے دریائوںاور ندی نالوں میں پانی کی سطح اتنی تشویش ناک حد تک کم ہوگئی ہے اور کیا سارے چشمے اور ندی نالے خشک پڑچکے ہیں کہ آج پوری وادی میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا بحران پیدا ہوا ہے ۔جس طرح وادی کے اطراف و اکناف اور شہر ِ سرینگر کے بیشتر علاقہ جات سے پینے کے پانی کی قلت اورعدم دستیابی کے باعث پیدا شدہ صورت حال کی خبریں پچھلے دو مہینوں سے لگاتارروزانہ اخبارات کی زینت بن رہی ہیں،اُن سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ عام لوگوں کی زندگی کے لئے اس انتہائی اہم بنیادی ضرورت کی فراہمی کے معاملے میںبھی موجودہ انتظامیہ کے پاس کسی دُرست حکمت عملی ،موثر نظام یا ٹھوس منصوبہ بندی کی کوئی عملی صورت موجود نہیں ہے۔کورونا کے موجودہ وبائی دور کے دوران ماہرین کی طرف سے بچائو تدابیر کے تحت جہاں لوگوں کوصاف و شفاف رہنے اور ہر چیز کو صاف و پاک رکھنے کی تاکید کی جارہی ہے وہیں موسم گرما کے ان ایام میں درجہ حرارت میں بھی شدت آرہی ہے، جس کے نتیجہ میںپانی کے تصرف کا بڑھ جانا لازمی امر ہے ،انتظامیہ نے اس سلسلے میں نے کونسا منصوبہ مرتب کیا ہے یا کون سی حکمت عملی اپنائی ہے ،عوام اس سے بالکل بے خبر ہے۔ظاہر ہے کہ کشمیر وادی میں پانی کی کمی کا مسئلہ دن بہ دن سنگین نوعیت اختیار کررہا ہے اور اس کی حصولیابی کے لئے عوام کو تشویش ناک حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ رواں سال کے مارچ مہینے ہی وادی کے بیشتر علاقوں کے ساتھ ساتھ شہر سرینگر کے مختلف علاقوں بھی پینے کے پانی کی قلت کا جو مسئلہ درپیش آگیا ، اس سلسلے میں نہ صرف گورنر انتظامیہ کو آگاہ کیا جاتا رہابلکہ فیلڈ عملے کی توجہ بھی مبذول کی جاتی رہی، لیکن انتظامیہ کے متعلقہ ارکان کی خاموشی ،عدم دلچسپی اور غیر ذمہ دارانہ پالیسی نے صورت حال یہاں تک پہنچادی کہ بیشتر علاقوں کے لوگ اب مکمل طور پر پینے کے پانی کی فراہمی سے محروم ہوگئے ہیں۔بعض دیہات کے لوگ مجبوراً ندی نالوں کا گدلا اور ناصاف پانی استعمال کررہے ہیں جو نہ صرف مُضر صحت ثابت ہورہا ہے بلکہ کئی بیماریوں کا باعث بھی بن رہا ہے جبکہ سرینگر کے ڈاون ٹاون کی گنجان آبادی والے کئی علاقوں میں تو لوگوں کے لئے پانی کی حصولیابی کی خاطر اب راتوں کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔
ظاہر ہے کہ پینے کے پانی کی نایابی اور قلت اگرچہ کوئی غیر معمولی معاملہ نہیں تاہم یہ کوئی خلاف ِ توقع بات بھی نہیں ہے کیونکہ انسانی آبادی میںدن بہ دن اضافہ ہوجانے کے ساتھ ساتھ انسان کے لئے پانی کا مصرف بھی بڑھتا چلا آرہا ہے لیکن افسوس صد افسوس اس بات کا ہے کہ اس حقیقت کو سمجھنے کی ماضی کی حکومتوں نے نہ کوئی کوشش کی اورنہ ہی وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مخلص رہیں،گذشتہ تین عشروں کینا مساعد حالات کے دوران بھی جتنی حکومتیں برسراقتدار رہیں، کسی نے بھی پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے کوئی قابل ِ قدر پروجیکٹ تعمیر کیا نہ ہی آبادی کے تناسب سے پینے کے پانی کا ذخیرہ کرنے کا کوئی منصوبہ بنایا،البتہ پچھلے پچاس برسوں کے دوران پینے کے پانی کا جو بھی کوئی پروجیکٹ شروع کیا گیا، اُس کے لئے وقف کی گئی رقومات کا زیادہ تر حصہ متعلقہ اداروں کے انجینئروں،افسروں ،ٹھیکیداروں اور اہلکاروں کی نذر ہوتاگیا اور نتیجتاً کوئی بھی پروجیکٹ مفید اور کار آمد ثابت نہ ہوسکابلکہ بعض پروجیکٹوں پر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد ان کی تعمیر ہی غلط قرار دی گئی اور اس طرح عوامی خزانہ بے دردی کے ساتھ ضائع ہوتا رہا۔
اب اگر عوامی سطح پر دیکھا جائے تو یہ بات بالکل عیاں ہے کہ لوگ بھی خود بڑی حد تک پانی کی نایابی کا باعث بنے ہیں ۔نا عاقبت اندیش لوگوں نے اپنی وادی میں موجود بہت سے آبی ذخائر کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔دریائوں ،ندی نالوں اور چھوٹی بڑی آب جوؤں پر ناجائز تجاوزات کئے،دریاؤں میں بہنے والے پانی کو اپنے گھروں ،ہوٹلوں ،دکانوں اور دیگر مقامات سے نکلنے والی غلاظت سے بھر دیا ۔اس طرح ان دریائوںاور جھیلوں کا پانی آلودہ ہوکر پینے کے لائق نہ رہا ۔دریائے جہلم اور ڈل جھیل کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ،ایک زمانے میں ڈل اور جہلم کے پانی کو لوگ تریاق سمجھ کر پیا کرتے تھے لیکن آج کوئی ان آبی وسائل کے پانی میں ہاتھ ڈالنا تک گوارا نہیں کرتا ،دیہات میں بھی صورت حال مختلف نہیںرہی،وہاں بھی لوگوں نے آبی ذخائر کا نہ صرف ناجائز مصرف کیا بلکہ ان پر ناجائز تجاوزات کی دوڑ لگادی۔اگرچہ آبی ذخائر کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری سب سے پہلے حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن عام لوگوں کے ہاتھوں آبی ذخائر کا غلط استعمال بھی اخلاق اورانسانیت کے زمرے میں نہیں آتے ہیں۔اسی خود غرضی اور اخلاقی بے راہ روی کے نتیجہ میں شہر اوردیہات کے وہ علاقے جہا ںپینے کے صاف پانی کی کافی بہتات ہوا کرتی تھی ، آج پانی کی شدید قلت کے شکار ہوچکے ہیں۔
اب ذرا اس پہلو پر غورکریں کہ ایک طرف جہاں بہت سارے لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں وہیں دوسری طرف لوگوں ایک اچھی خاصی تعداد پینے کے پانی کے غلط اور بے دریغ مصرف میں مشغول ہیں،جہاں اپنی موٹر گاڑیوںکی صفائیوں پر پینے کا صاف پانی کا کافی حصہ نچھاور کرتے رہتے ہیں وہیں اپنے باغ باغیچوں کو سیراب کرتے رہتے ہیں۔اسی طرح تعمیراتی کاموں میں بھی پینے کے صاف پانی کا ایک بڑا حصہ استعمال ہورہا ہے جبکہ بجلی پر چلنے والے طاقتورموٹرپمپوں کے ذریعے گھروں میں موجود چار چار پانچ پانچ ٹینکیوں اور ٹینکروں میں پینے کے پانی کا ذخیرہ کرنے کا رواج بھی عام ہوچکا ہے،جس کے نتیجے میں وادی میں سپلائی ہونے والے پینے کے پانی کا ساٹھ فیصد حصہ انہی لوگوں کے مصرف میں جاتا ہے اور باقی چالیس فیصد کا حصہ عام لوگوں کے رہ جاتا ہے ،جس سے نہ صرف بیشتر علاقوں میں پانی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے بلکہ بعض علاقے پانی کی حصولیابی سے محروم ہوجاتے ہیں۔
خیر! اپنی اس وادی میں پانی کے جتنے بھی ذخائر موجود ہیں،ان کے ہوتے ہوئے بھی عام لوگ صاف پانی سے محروم کیوں ہیں؟ یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں بار بار دستک دے کر مختلف شک و شبہات میں مبتلا کردیتاہے۔رقوم کے صرفہ کے باوجود حالات کیوںنہیں بدلتے ہیں،اس کا جواب عوام کے پاس نہیں ہے لیکن بادی النظر میں یہ ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہی لگ رہا ہے۔اس لئے اب اُس سرکاری انتظامیہ کی آنکھیں کھل جانی چاہئیںجو غریب عوام کی خیر خواہی کے دعوے کرتی رہتی ہے ۔غربت کا خاتمہ اور عوام کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اس کی ترجیحات میں شامل ہوناچاہئے،اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے جو حکومت لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی فراہم نہ کرسکے اُسے کسی بھی قسم کے ترقیاتی دعوے زیب نہیں دیتے ۔

تازہ ترین