تازہ ترین

کشمیرمیں کشمیری زبان مفلوک الحال کیوں؟

تاریخ    3 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


 کشمیری زبان کی زبوں حالی پر آج کل بہت سے لوگ ماتم کناں ہیں ۔کچھ حکومت کی عدم توجہی پر نالاں توکچھ اپنی غفلت پر خفالیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ زبان اپنی آن بان اور شان کھورہی ہے ۔آج کی نئی نسل کیلئے شاید یہ کوئی اتنی اہم زبان نہ ہو لیکن انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری زبان کی جڑیں انتہائی گہری ہیں ۔یہ زبان ہمیں یوں ہی اپنے آبا و اجداد سے ورثے میں نہیں ملی ہے بلکہ اس زبان کو زندہ رکھنے کیلئے کشمیریوں نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔تاریخی اعتبار سے کشمیر میں صدیوں تک کبھی سنسکرت،کبھی فارسی ،اور پھر اُردو کے غالب اثرات رہے اور مختلف ادوار میں برسر اقتدار لوگوں نے اس عمل کا سیاسی استعمال بھی کیا ، جس کی وجہ سے کشمیری زبان یقینی طور پر نشانہ بنتی رہی۔کشمیری زبان ان سب مشکلات کے باوجود گوکہ آج کل غریب ہے ،لیکن زندہ ہے۔یہ کوئی کل کی زبان نہیں ہے بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔1919میں جارج ابراہیم گریرسن نے لکھا تھا کہ کشمیری دردی زبانوں میں سے وہ واحد زبان ہے جس کا لٹریچر دستیاب ہے ،اتنا ہی نہیں بلکہ اس کی تاریخ 750برس سے زیادہ پرانی ہے ۔یہی وہی دور ہے جہاں سے بیشتر جدید زبانوں بشمول انگریزی کا احیاء ہوا ہے۔ آزادی ہند کے بعد کشمیری کو اگر چہ کشمیر وادی میں بحیثیت مضمون پرائمری سکولوں میں متعارف کیا گیا لیکن 1955میں اس کی تدریس اس بہانے سکولوں میں روک دی گئی کہ اس سے بچوں پر زبانوں سے متعلق پڑھائی کا بوجھ کم ہوجائے گا۔اردوزبان،جو کہ کشمیریوں کیلئے بیرون وادی کے ساتھ رابطے کی زبان رہی ہے صرف محکمہ تعلیم میں استعمال ہوتی رہی اور اب بھی لازمی مضمون کے طور سکولوں میں رائج ہے۔بعد ازاں کشمیری زبان کے بہی خواہوں کی جانب سے تحریک چلانے کے بعد کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ کشمیری قائم کیا گیااور یوں70کی دہانی کے آغاز میں یونیورسٹی میں کشمیری کو بحیثیت مضمون پڑھانا شروع کیاگیا۔گوکہ بعد میں کچھ کالجوں میں بھی کشمیری پڑھایا جانے لگا لیکن یہ اضافی مضمون کے طور ہی نصاب میں رہی ۔کشمیری زبان کو روبہ زوال ہوتا دیکھ کر گوکہ حکومت نے2000میں کشمیری کو بطو لازمی مضمون سکولوں میں متعارف کرایالیکن اس فیصلہ کو عملانے میں دس سال لگ گئے۔فیصلہ عملایا بھی گیا تو کیا ہوا۔کشمیری کی کتابیں تیار کی گئیں ۔سکولی نصاب میں شامل ہوئیں لیکن معاملہ وہی لکھے من اور پڑے خدا والا۔
 ایک طرف کشمیری زبان کو فروغ دینے کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب جن بچوں کو کشمیری بطور مضمون پڑھایا جارہا ہے ،وہ بھی نیم حکیم ہی ہونگے کیونکہ وہ زبان کے اصلوب سے بالکل بے بہرہ ہیں۔آخر ہوگا بھی کیا ۔مضمون تو متعارف کرایا لیکن اساتذہ میسر نہیں ہیں۔بیشتر سرکاری سکولوں میں تو سائنس اور اردو کے اساتذہ کشمیری پڑھاتے ہیں ۔ایسے اساتذہ زبان کے ساتھ کیا انصاف کر پائیں گے جب انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ اس زبان کی تحریر و تقریر کے اصالیب کیا ہیں۔یہی حالت ریاست میں سرکاری زبان اردوکا بھی  ہے ۔گوکہ بولنے کو تو یہاں اردو زبان بولی جاتی ہے لیکن اس کے اصل مفہوم سے اکثر بے خبر ہیں۔اگر حکومت واقعی کشمیری زبان کو روبہ زوال ہونے سے بچانے کے علاوہ اس کو فروغ دینے کی خواہاں ہے تو اس کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔سکولوں میں جب بچو ںکوکشمیری زبان پر ماہرانہ عبورسے عاری اساتذہ کشمیری مضمون پڑھاتے جائیں گے تو ماحصل طالب علموں کی ایک ایسی کھیپ ہوگی جو نہ ادھر کے ہونگے ،نہ اُدھر کے۔نجی سکولوںمیں کشمیری مضمون کی پڑھائی کا حال ہی بے حال ہے۔وہاں ذریعہ تعلیم و تدریس انگریزی ہے اور انگریزی زبان پر اس قدر توجہ دی جارہی ہے کہ بچے کشمیری بولنا ہی تقریباً بھول گئے ہیں اور جب بول چال کی زبان دوسری ہو،تو بھلا انہیں کیسے کشمیری زبان سیکھنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔موجودہ ماحول میں روز اول سے ہی بچوں کو کشمیری زبان سے اس قدر دور رکھا جارہا ہے کہ ان کے نزدیک اب یہ زبان بے وزن ہوگئی ہے۔گھروں میں کشمیری بولنے کا چلن نہیں ،سکولوں میں انگریزی اور اردو کا بول بالا،ایسے میں کشمیری زبان پروان چڑھے تو کیسے۔اس صورتحال کیلئے صرف سرکار کی طرز عمل ہی ذمہ دار نہیں بلکہ من حیثیت المجوع سارا سماج ذمہ دار ہے،جس نے گھروں کے اندر بچوں کے ساتھ کشمیری زبان میں بول چال کو ممنوعات میں شامل کیا ہے اور شاید ہی کوئی فرد ہوگا جو چھوٹے بچوں کے ساتھ اپنی مادری زبان میں گفتگو کرتا ہو۔موجودہ برق رفتار اور ترقی یافتہ دور میں اگر کسی زبان کو فروغ دینا ہے تو اس کو روزگار سے جوڑنا ضروری ہے۔اگر ہم بھی یہاں کشمیری تمدن اور زبان کو زندہ جاوید رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کو جاب مارکیٹ سے جوڑنا ہی پڑے گااور اس کو بول چال کی زبان سے روزگار کا وسیلہ بنانا ہوگا ۔
کشمیری زبان کی موجودہ حالت کیلئے بحیثیت قوم کشمیری ہی ذمہ دار ہیں ۔اگر اس زبان اور اپنی شناخت کو ہم نے زندہ رکھنا ہے تو ہمیں اپنی زبان کو تحفظ دینا ضروری ہے ۔کیونکہ جب زبان نہ رہے تو شناخت خود بخود مٹ جاتی ہے اور اگر بعد میں چِلاچِلا کر بھی کہیں کہ ہم کشمیری ہیں لیکن کوئی ماننے والا نہیں ہوگا،لہٰذا کشمیریوں کو بحیثیت قوم زندہ رکھنے کیلئے کشمیری زبان کا زندہ رہنا ضروری ہے ۔اس کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ بذات خود کشمیری عوام کو بھی کوششیں کرنا ہونگی ۔
 

تازہ ترین