موبائل فون اور تعلیمی نظام

کل جو ممنوع تھا آج وہی لازم ٹھہرا

تاریخ    3 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


یٰسین جنجوعہ
آپ سب نے موبائل سکولوں کا نام تو سنا ہی ہوگا ۔یہ وہ سرکاری سکول میں جو جموں وکشمیر انتظامیہ نے خانہ بدوش طبقہ کے بچوں کو تعلیم فراہم کرنے کیلئے بنائے ہیں ۔ان موبائل سکولوں کے ذریعہ جموں و کشمیر کے میدانی علا قوں سے اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ پہاڑی علا قوں کی جانب ششماہی ہجرت کرنے کے دوران بچوں کو ڈھوکوں و میدانی علا قوں میں تعلیم فراہم کر نے کیلئے خصوصی ٹیچر تعینات کرنے کیساتھ ساتھ دیگر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جبکہ موبائل سکولوں کی پوری کارکردگی پر متعلقہ چیف ایجوکیشن آفیسران نگرانی رکھتے ہیں لیکن لاک ڈائون کے دوران موبائل فون بھی اب سکولوں کو چلانے کا کام کرنے لگے ہیں ۔
جموں وکشمیر میں موبائل فون کی آمد کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی جانب سے بچوں پر موبائل فون ساتھ لانے پر پابندی عائد کر دی گی تھی جبکہ سکولوں و کالجوں میں اگر کسی بھی بچے سے موبائل فون ملتا تو متعلقہ ٹیچر و پرنسپل ان سے موبائل فون چھین لیتے تھے اور کافی التجا کرنے کے بعد بچوں کو اس شرط پر موبائل فون واپس دئیے جاتے تھے کہ آئندہ وہ کبھی بھی ان کو کالج میں لے کر نہیں آئینگے ۔کالجوں اور سکولوں کے مین گیٹ اور نوٹس بورڈ پر طلباء کے داخلے شروع ہوتے ہی نوٹس چسپاں کر دئیے جاتے تھے جن پر نمایاں لفظوں میں تحریر ہوتا تھا کہ ’کالج میں موبائل فون کا استعمال منع ‘ہے جبکہ اگر جگہ میسر ہوتی تو اس کی سزا کالج سے نکالنے کی دھمکی بھی تحریر کر دی جاتی تھی تاکہ بچے اس ڈر سے کالجوں میںموبائل فون نہ لے کر آئیں ۔اصل میں منتظمین کی جانب سے مذکورہ نوٹس چسپاں کرنا اور موبائل فون کے استعمال کو تعلیمی اداروں میں ممنوع قرار دینے کا مقصد تھاکہ طلباء پڑھائی کی جانب راغب رہیں اور غلط طریقہ سے وقت ضائع نہ کریں ۔تعلیمی اداروں میں عائد سخت پابندیاں وقت گزرنے کیساتھ ساتھ نرم پڑگئی تھیں اور لاک ڈائون سے قبل کچھ حد تک طلباء تعلیمی اداروں میں موبائل فون لے کر جاتے تھے لیکن کلاسوں کے دوران ان کو یا توسوئچ بند (switch off) کر دیتے تھے یا پھر اس کی آواز بند کر دیتے تھے اور کلاسز ختم ہونے کے بعد دوبارہ سے معمول پرلے آتے تھے لیکن کووڈ ۔19کی وجہ سے ملک بھر میں عائد کی گئی پابندیوں کے دوران سکولوں،کالجوں او ر یونیوسٹیوں نے تعلیمی عمل کو جاری رکھنے کیلئے آن لائن سسٹم شروع کر دیا جس کے دوران کئی یونیورسٹیوں و کالجوں نے اپنی ہی موبائل اپیلی کیشن بھی بنائی تاکہ طلباء ان کو لوڈ کر کے ٹیچروں کی مدد سے اپنا نصاب مکمل کرسکیں ۔ان موبائل اپیلی کیشن کی مدد سے تعلیم حاصل کرنے کیلئے موبائل فون کی اہمیت زیادہ ہوگئی اور تعلیمی اداروں میں بچوں و سٹاف ممبران کے درمیان رابطہ کیلئے ایک مرتبہ پھر سے تعلیم کیلئے ممنوع قرار دئیے گئے موبائل نے ایک اہم رول ادا کرنا شروع کر دیا ۔
UNESCO's گلوبل ایجوکیشن مو نیٹرنگ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی آمد کے بعد دیگر شعبوں کیساتھ ساتھ تعلیمی نظام بھی متاثر ہوا ہے جبکہ اس سے طلباء و منتظمین کی بے چینی میں لگاتار اضافہ ہو تا جارہاہے۔رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں سے پوری دنیا میں 154کروڑ سے زائد طلباء متاثر ہوئے ہیں حالانکہ میں ان میں سے کچھ طلباء کو آن لائن نظام تعلیم کے ذریعہ فائدہ پہنچایا جارہاہے لیکن پہلی مرتبہ مذکورہ نظام کی آمدسے زیادہ تر طلباء مسائل کا شکا ر بھی ہوچکے ہیں ۔ہندوستان میں تمام بڑی یونیورسٹیوں اور کالجوں کی جانب سے لاک ڈائون کے کچھ عرصہ میں ہی آن لائن تعلیم فراہم کرنے کی سہولیات شروع کر دی تھیں لیکن آن لائن تعلیم کے سلسلہ میں ابھی بھی کئی ایسے ٹیچر موجود ہیں جوبغیر کسی مشق اور کورس کے مذکورہ نظام تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ طلباء کو موبائل فون کے ذریعہ آن لائن کلاسز میں بھی مسائل کا سامنا رہتا ہے لیکن اس سب کے باوجود کووڈ19کی وجہ سے پیدا شدہ حالات میں موبائل فون مثبت رول بھی ادا کر رہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ موبائل فون کے مثبت پہلو سماج کی تعمیر وترقی کیلئے انتہائی اہم ہیں اور سائنس کی بہترین ایجاد میں موبائل فون بھی ایک ہے ۔موبائل فون ہی کی مدد سے انسان اپنے گھروں میں سے دنیا کے کسی بھی کونے میں رابطہ کر سکتا ہے لیکن اگر اس کو منفی طریقہ سے استعمال کیا جائے تو جہاں نسلوں کا مستقبل خراب ہو سکتا ہے وہیں تعلیمی اداروں میں اس کا استعمال ممنوع قرار دینے جیسی صورت پیدا ہو سکتی ہے ۔اگر کووڈ 19 کی آمد اور لاک ڈائون میں موبائل فون اور انٹر نیٹ سہولیات دستیاب نہیں ہوتے تو تعلیمی نظام اس سے زیادہ متاثر ہو سکتا تھا جبکہ موبائل فون کی آمد کیساتھ ساتھ واٹس اپ ،فیس بک ،انسٹگرام ،ٹوئٹر ،زوم اپیلی کیش ودیگر سہولیات اس طرح کی صورتحال میں گھروں میں بیٹھے ہوئے انساں کی مختلف چیزوں تک رسائی ممکن بنادیتے ہیں لیکن سوشل میڈیا کا عادی ہونا اور موبائل فون کا منفی استعمال نوجوان نسل کو تباہ بھی کر سکتا ہے ۔اس وقت دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر نوجوان بغیر کسی ضرورت کے سوشل میڈیا پر ہی آن لائن رہتے ہیں اور اس عمل سے جہاں ان کا قیمتی وقت ضائع ہو تا ہے وہیں ان کے والدین کی امیدیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں ۔طلباء کیساتھ ساتھ سماج کے ہرایک فرد کو چاہئے کہ وہ سائنسی ایجاد کو مثبت طریقہ سے استعمال کرکے فائدہ حاصل کریں تاکہ نسلوں کا مستقبل روشن ہو سکے ۔حالانکہ جموں وکشمیر میں بچوں کا تعلیمی نظام کوششوں کے باوجود زیادہ متاثر ہو ا ہے جس میں انتظامیہ پوری طرح سے ذمہ دار ہے ۔جموںوکشمیر کاخصوصی درجہ ختم کرنے اور مرکزی زیر انتظامیہ دو علاقے بنانے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی تاہم بعد میں 2جی سروس بحال کی گئی تھی لیکن اس کی مد د سے ویڈیو کالز و دیگر آن لائن کلاسیں ممکن ہی نہیں ہیں ۔اگر بچے اور سٹاف ممبران کوششیں بھی کرتے ہیں تو اس میں وقت ضائع کرنے کے بغیر کچھ بھی نہیں ہے ۔اگر طلباء شروع سے ہی موبائل فون کا مثبت استعمال کرتے تو شائد تعلیمی اداروں میں اس کے استعمال کر پہلے سے ہی ممنوع نہیں قرار دیا جاتا اور موجودہ صورتحال میں اس کو مزید بہتر انداز میں استعمال کرنے کیلئے ہر ایک تیار رہتا ۔لاک ڈائون کے بعد موبائل فون اور انٹر نیٹ تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ بن جائے گا لیکن استعمال کے طریقوں کی وجہ سے فرق ضرور آئے گا ۔
رابطہ:9419952597
ای میل :janjuayaseen@gmail.com