تازہ ترین

اسکولی فیس کی ادائیگی | حکومت کافیصلہ آنے تک فیس ادانہ کرنے پر والدین کی انجمن کازور

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// لاک ڈائون کے دوران طلاب کے اسکولی فیس کی ادائیگی پر مخمصہ جاری ہے،جبکہ نجی اسکول منتظمین کی ایسو سی ایشنوں اور طلاب کے والدین کی انجمنوں کے درمیان یہ معاملہ باعث تنازعہ بن گیا،جس کے نتیجے میں طرفین میں ٹکرائو کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ والدین انجمن’’پاپا‘‘ نے حکومتی فیصلہ آنے تک اسکول کی فیس ادا نہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مسئلہ کے ازالہ کیلئے فاسٹ ٹریک کمیٹی تشکیل دیں۔ وادی میں کرونا لاک ڈائون کے نتیجے میں مارچ سے نجی تعلیمی ادارے مقفل ہیں،جبکہ والدین نے بھی فیس کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ نجی اسکول منتظمین کی انجمنوں اور طلاب کے والدین کی انجمن’’پیرنٹس ایسو سی ایشن آف پرائیوٹ ایڈمنسٹریٹیڈ اسکولز‘‘ کے درمیان کئی رائونڈوں کی میٹنگوں کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں مستحق طلاب کے والدین کو فیس میں راحت دینے کے فیصلے کا اعلان ہوا تھا،جبکہ مستحقین کی جانچ کیلئے اسکول انتظامیہ اور والدین کی انجمنوں سے رجوع کرنے اور مابعد تحقیقات کرنے پر بھی اتفاق پیدا ہوا تھا۔طرفین نے بعد میں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ شروع کیا،جبکہ پرائیوٹ اسکولز کارڈی نیشن کمیٹی کے چیئرمین شوکت چودھری نے واضح کیا ’’طلاب براہ راست فیس کی ادائیگی سے متعلق کسی بھی مسئلہ کو اسکول انتظامیہ کے ساتھ اٹھائے، کوئی بھی ایسو سی ایشن،محلہ کمیٹی،والدین کی انجمن یا کسی ایجنسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوگا کہ وہ رعایت کی شرح طے کریں،بلکہ صرف اسکول انتظامیہ ہی کسی بھی مستحق کیس کے حوالے سے رعایت کا فیصلہ کرے گی۔ اس دوران نجی سکولوں میں زیر تعلیم طلاب کے والدین کی ایسوسی ایشن ’’پاپا‘‘نے بدھ کے روز تمام والدین سے حکومت سے حتمی فیصلہ آنے تک فیس ادا نہ کرنے کی اپیل کی۔سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران ایسوسی ایشن نے نجی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا کے والدین سے اپیل کی کہ وہ نجی اسکولوں کے ذریعہ مسئلہ حل ہونے تک فیس ادا نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے جو پورے معاشرے کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی اسکولوں کے منتظمین متاثرہ طبقے کی توقعات پرپورااترنے میں ناکام ہوگئے ہیں جو کہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ ایسو سی ایشن کے کارڈی نیٹرمحسن گونی نے کہا کہ نجی اسکولوں کے مالکان سرمایہ دارانہ ذہنیت کی طرف راغب ہوگئے ہیں اور وہ ان برجستہ اوقات میں بھی متاثرہ افراد کو راحت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ گونی نے پرائیوٹ اسکولز ایسو سی ایشن اور پرائیوٹ اسکولز کارڈی نیشن کمیٹی کی جانب سے  والدین کے نام  فیس کی ادائیگی سے متعلق ہدایات  جاری کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور عدالتوں کے تمام پچھلے احکامات کو تسلسل کے ساتھ نافذ کیا جانا چاہئے نہ صرف وہی احکامات جو نجی اسکولوں کے لئے اہم ہوں۔ان کا کہنا تھا اول ، انہیں اضافی رقم واپس کرنی چاہئے جو انہوں نے فیس متعین کرنی والی کمیٹی کے احکامات کی خلاف ورزی کرکے فیس میں اضافہ کے ذریعہ اور غیر منظور شدہ سالانہ اور داخلہ فیس لے کر حاصل کئے ہیں۔ گونی نے کہا’’عملے کی تنخواہوں کو اسکول منتظمین اور مالکان نے ہمیشہ حکومت اور والدین کو جذباتی طور پر بلیک میل کرنے کے ہتھکنڈے کے طور استعمال کیا ہے‘‘۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں حکومت سے کہا’’ اگر والدین  اگست 2019 سے مکمل فیس ادا کرکے اسکولوں کو تعاون پیش کر رہے ہیں، تو اسکول اس وقت وبائی عرصہ تک کیلئے فیس کو کیوں معاف نہیں کرسکتے ہیں ۔‘‘
 

تازہ ترین