تازہ ترین

ماڈل ٹائون سوپور یں فورسز پر فائرنگ ، اہلکارو شہری جاں بحق

فائرنگ کے تبادلے میں ،3اہلکار زخمی ، 3سالہ بچہ معجزاتی طور بچ نکلا

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


غلام محمد
سوپور// سوپور کے ماڈل ٹائون علاقے میں فورسز کی ناکہ پارٹی پر جنگجوئوں نے حملہ کیا جس کے دوران فائرنگ کا زوردار تبادلہ ہوا جس میں ایک فورسز اہلکار اور ایک شہری جاں بحق جبکہ3سی آر پی ایف اہلکار زخمی ہوئے۔اس واقعہ میں 3سالہ معصوم بچہ معجزیاتی طور پر محفوظ رہا ۔واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لیا گیا اور حملہ آوروں کو تلاش کیا گیا۔

واقعہ کیسے ہوا؟

پولیس نے بتایا کہ ماڈل ٹائون سوپور میں بدھ کی صبح قریب ساڑھے7بجے جب علاقے میں پولیس اور سی آر پی ایف کی179بٹالین سے وابستہ  اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی تھی ،تو یہاں گھات میں بیٹھے جنگجوئوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کی ۔ جوابی کارروائی میں فورسز نے بھی فائرنگ کی اور طرفین کے مابین قریب 10منٹ تک گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ فائرنگ کے اس واقعہ میں سی آر پی ایف کے4اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ فائرنگ کے اس واقعہ میں 65سالہ شہری  بشیر احمد خان ساکن مصطفیٰ کالونی ایچ ایم ٹی جاں بحق ہوا جبکہ شہری کا نواسہ معجزیاتی طور پر محفوظ رہا ،جسے پولیس نے بچالیا۔ جاں بحق ہونے والا شہری اپنے3سالہ نواسہ کیساتھ سوپور کسی کام کے سلسلہ میں جارہا تھا ۔ بشیر احمد خان پیشہ سے ٹھیکیدار تھا ۔پولیس ترجمان نے واقعہ کے حوالے سے ایک تحریری بیان جاری کیا ،جس میں بتایا کہ ماڈل ٹائون سوپور میں بدھ کی صبح7بجکر 30منٹ پر 179بٹالین سی آر پی ایف ناکہ و گشتی پارٹی کی تعیناتی عمل میں لائی جارہی تھی، جب فورسز اہلکار گاڑی سے اتر رہے تھے اور اپنی اپنی جگہوں پر ڈیوٹی کیلئے جارہے تھے ،تو یہاں ایک مسجد کے نزدیک چھپے  جنگجوئوںنے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میںہیڈ کانسٹیبل دیپ چند ورما بیلٹ نمبر031503039، کانسٹیبل  بھویا راجیش بیلٹ نمبر1451201892، کانسٹیبل دیپک پٹیل بیلٹ نمبر0374458424اور کانسٹیبل نیلیش چائودے بیلٹ نمبر 055214758شدید زخمی ہوئے ۔پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں میں ہیڈکانسٹیبل دیپ چند ورما زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا جبکہ فائرنگ کے اس واقعہ میں عام شہری کی موقعے پر ہی موت ہوگئی ۔سی آر پی ایف ترجما ن نے بھی ایک بیان جاری کیا ۔فائرنگ کے اس واقعے کے بعد جنگجوئوں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ اُنہیں ڈھونڈ نے نکالنے کیلئے پولیس وفورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے تلاش شروع کردی ۔پولیس اور سی آر پی ایف کے اعلیٰ افسران نے علاقے میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ بھی لیا ۔آئی جی ،سی آر پی ایف راجیش کمار نے بتایا کہ ماڈل ٹائون سوپور میں ایک واقعہ میں ہیڈ کانسٹیبل ہلاک اور تین دیگر اہلکار زخمی ہوئے جنکی حالت مستحکم ہے ۔زخمی اہلکاروں کو بعد میں 92فوجی اسپتال بادامی باغ سرینگر منتقل کیا گیا ۔گزشتہ تین روز میں یہ سوپور میں دوسرا حملہ ہے۔ 18اپریل کو فائرنگ ایک واقعہ میں سی آر پی ایف کے3اہلکار ہلاک ہوئے تھے ۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بجبہاڑہ اننت ناگ میں فائرنگ کے ایک واقعہ فورسز اہلکار اور 6سالہ معصوم جاں بحق ہو اتھا ۔
 

گاڑی سے اُتا ر کر قتل کیا گیا ،لواحقین کا الزام

بلال فرقانی
 
سرینگر//سرینگر کے مضافاتی علاقہ مصطفیٰ کالونی ایچ ایم ٹی کے 65سالہ ٹھیکیدار بشیر احمد خان کے لواحقین نے پولیس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بشیر احمد خان کو اپنی ذاتی گاڑی سے نیچے اتار کر ہلاک کیا گیا۔ لواحقین کا الزام ہے کہ وہ  صبح 6بجے سوپور ذاتی کام کے سلسلے میں جارہے تھے اور انکے ساتھ اُن کا تین سالہ نواسہ بھی تھا ،ہمیں نہیں معلوم تھا کہ وہ زندہ لوٹ کر نہیں آئیں گے ۔جاں بحق شہری کی بیٹی نے روتے بلکتے کہا’جنہوں نے میرے والد کو قتل کیا ،اُنہیں بھی گولی ماری جائے ،اُنہیں نظر نہیں آیا ،میرا والد معصوم بچے کیساتھ ہے ‘۔جاں بحق شہری کے بیٹے نے الزام عائد کیا کہ اُسکے والد کو اپنی ذاتی گاڑی زیر نمبر JK01AF/9024 سے اُتار کر گولی مار کر قتل کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ وہ سوپور کیلئے صبح سویرے 6بجے گھر سے نکلا ، جہاں اسے ایک سائٹ پر جانا تھا جہاں اسکا ٹھیکداری کا کوئی تعمیراتی کام چل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ فائرنگ سے ہلاک ہوا ہوتا تو اسکی گاڑی کو بھی گولیاں لگی ہوتیں لیکن ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ اسے باہر نکال کر ہلاک کیا گیا اور بعد میں اسکی لاش کی تصویریں لی گئیں۔ایس ایس پی سوپور جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ شہری نے پہلے اپنے نواسہ کو بچایا اور اس بیچ اُسے گولی لگی اور جاں بحق ہوا ۔فائرنگ کی وجہ سے کئی گاڑیاں یہاں رُک گئیں ،اُنہوں نے اپنی گاڑیاں چھوڑیں اور محفوظ مقامات کی طرف بھاگ گئے ،بدقسمتی سے ایک شہری کو گولی لگی اور جاں بحق ہوا ۔دریں اثناء جونہی جاں بحق شہری کی میت آبائی علاقہ میںپہنچائی گئی تو کہرام مچ گیا۔اس موقعہ پر برٰ تعداد میں لوگ جمع ہوئے اور انہوں نے فورسز کیخلاف نعرے بازی کی۔
 

فورسز نے انتقامی کارروائی نہیں کی

شہری کے بیٹے اور بیٹی کا بیان بے بنیاد: آئی جی پی

 
بلال فرقانی
 
سرینگر// انسپکٹر جنرل پولیس کشمیر رینج وجے کمار نے کہا کہ ماڈل ٹائون سوپور میں جنگجوئوں کی فورسز پر حملے کے دوران کی گئی فائرنگ میں شہری مارا گیا اورمقتول کے بیٹے اور بیٹی کے ذریعہ سماجی میڈیا پر نشر کیا گیا ویڈیو پیغام سراسر بے بنیاد ہے،اور انہوں نے  جنگجوئوں کے خطرے کے تحت الزامات لگائے ہیں‘‘۔انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا’’ آیا وہ واقعہ کی جگہ پر موجود تھے؟۔ کیا انہوں نے خود دیکھا کہ فائرنگ کس نے کی؟ انہوں نے سری نگر سے اپنے والد کے قتل کا الزام لگاتے ہوئے ویڈیو پیغامات پھیلائے جو سراسر بے بنیاد ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی عینی شاہد ہے تو ، انہیں آگے آنا چاہیے۔’’ہم اس کے مطابق کام کریں گے‘‘۔وجے کمار نے کہا کہ فورسز کی طرف سے کسی قسم کی کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی گئی۔ جب یہ پوچھا گیا کہ واقعے کے وقت عوامی نقل و حرکت کی عدم موجودگی پر مہلوک شہری کے نوسے کی ’’پولیس کے ذریعہ بازیاب ہونے کی تصاویر‘‘کس طرح وائرل ہوگئیں ، انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس لڑکے کو بچایا جو اس کے نانا کی لاش کے قریب تھا۔انہوں نے مزید کہا’’ موبائل فونوںکے ساتھ آپریشن  علاقے میں جانا غلط ہے، میں اس بات کو یقینی بناؤں گا کہ پولیس ٹیمیں آپریشن کے دوران موبائل ساتھ نہ رکھیں کیونکہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔آئی جی نے واقعہ کے حوالے سے پولیس کنٹرول روم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کی صبح جب سی آر پی ایف کے اہلکار مشترکہ ناکہ پارٹی میں شرکت کیلئے گاڑی سے نیچے اتر رہے تھے،  توماڈل ٹاؤن سوپور مسجد میں چھپے دو جنگجوئوں نے سی آر پی ایف پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں سی آر پی ایف کا ایک اہلکار ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوگئے۔ کمار نے بتایا ، ’’ایک شہری بھی گولیوں کا نشانہ بن گیا اور بعد میں اس کی موت ہوگئی ‘‘۔انہوں نے بتایا کہ یہ حملہ لشکر طیبہ نے کیا ہے جس میں ایک غیر مقامی  جنگجوعثمان بھائی اور ایک مقامی جنگجو عادل شامل ہیں۔ انہوں نے کہا مسجد کے احاطے سے برآمد ہونے والے میگزین سے واضح طور پر 30 گولیاں چلائیں گئیںجبکہ ایک اور میگزین بھی برآمد کیا گیا جو گولیوں سے بھرا تھا ۔آئی جی پی نے بتایاکہ پولیس جوانوں نے ایک تین سالہ لڑکے کو بچایا جو اپنے دادا کے ساتھ تھا۔ وجے کمار نے کہا’’ہم نے دیکھا ہے کہ جہاں کہیں بھی شہریوں کی نقل و حرکت زیادہ ہوتی ہے ، جنگجو امن و امان کے معاملات میں خلل پیدا کرنے کے لئے حملے کرتے ہیں۔" آئی جی پی کشمیر نے کہا کہ انہوں نے جان بوجھ کر صرف سوپور میں انٹرنیٹ خدمات بند نہیں کیا تاکہ لوگوں کے رجحان کا پتہ لگایا جاسکے۔
 
ترال میں فائرنگ ،جنگجومحاصرہ توڑ کر فرار
سید اعجاز
 
ترال //جنوبی قصبہ ترال میں بس سٹینڈ سے متصل بستی میں کئی گھنٹوں تک فائرنگ کے زوردار تبادلے کے بعد جنگجو فرار ہوئے۔بس سٹینڈ سے 300فٹ کی دوری پر ترال دیور روڑ پر واقع بلال آباد برن تل بستی کا منگل کی شب قریب 9بجے محاصرہ کیا گیا اور اسکے لئے پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے 42آر آراور 180 بٹالین سی آر پی ایف سے بھی مدد حاصل کی۔رات کے 11بجے بستی میں 2انتہائی طاقتور دھماکے ہوئے جن سے قصبہ ترال دہل اٹھا۔اسکے بعد فورسز نے بستی کے ارد گرد قریب ڈیڑھ کلو میٹر کا علاقہ محاصرے میں لیا۔بدھ کی صبح 6بجے تک علاقے میں رک رک کر فائرنگ ہوتی رہی۔اسکے بعد فورسز نے میوہ باغات، اور رہائشی مکانوں کو کھنگالنا شروع کیا اور یہ کارروائی بدھ کی شام قریب ساڑھے 7 بجے تک جاری رہی۔لیکن اس دوران نہ کوئی قابل اعتراض چیز بر آمد ہوئی اور نہ جنگجوئوں کیساتھ براہ راست آمنا سامنا ہوا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جنگجو ابتدائی فائرنگ کے ساتھ ہی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔ واضح رہے کہ منگل کی شب پولیس نے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر ترال میں مسلح جھڑپ ہونے کی اطلاع دی تھی۔
 

تازہ ترین