چین میں مسلم کُشی

مانع حمل آبادی پر روک کا نیا حربہ

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بشری ثبات روشن
ویغور مسلمانوں پر جو ظلم وستم ڈھایا جا رہا ہے عام طور پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اس کو بیان نہیں کرتے بلکہ اور تو اور حقوق انسانی کے نام پر نعرہ لگانے والے تمام ادارے خاموش ہو جاتے ہیں جو چیزیں ہم تک پہنچتی ہیں یا تو وہ بے بنیاد ہوتی ہیں یا دروغ گوئی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں حقائق تک رسائی بڑی مشکل ہو جاتی ہے۔
چینی حکومت اپنی مسلم آبادی کو کم کرنے کے لیے نسلی اقلیت ایغور باشندوں کو شرح پیدائش کم کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ چینی حکومت ایغور مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ہاں بچوں کی پیدائش کی شرح پر کنٹرول کے لیے بہت سخت اقدامات کر رہی ہے۔ دوسری طرف ہان نسل کی اکثریتی آبادی کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
متعدد خواتین انفرادی طور پر جبری فیملی پلاننگ کے بارے میں اپنے خیالات اور تجربات کا اظہار کرتی آئی ہیں تاہم خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے اس بارے میں چھان بین کی۔ یہ چھان بین حکومتی اعداد و شمار، سرکاری دستاویزات اور ماضی میں چین میں زیر حراست رہنے والے 30 افراد، ان کے اہل خانہ اور حراستی کیمپ کے ایک سابق انسٹرکٹر سے ملنے والی اطلاعات کو بروئے کار لاتے ہوئے مکمل کی گئی۔ چین میں ریاست کی طرف سے اقلیتی خواتین کو باقاعدگی سے 'حمل چیک‘ کا پابند بنایا جاتا ہے۔ اس کے لیے مختلف مانع حمل ذرائع بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر انٹرا یوٹیرائن ڈیوائسز IUDs، نس بندی اور یہاں تک کہ خواتین کو اسقاط حمل پر مجبور بھی کیا جاتا ہے۔ آئی یو ڈی یا کوائل دراصل T  کی شکل کا ایک پلاسٹک ہوتا ہے، جو کاپر خارج کرتا ہے۔ اسے خواتین کے رحم میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ یہ خواتین حاملہ نہ ہو سکیں۔ گرچہ چین میں ملکی سطح پرانٹرا یوٹیرائن ڈیوائسز اور نس بندی کی شرح تیزی سے کم ہوئی ہے لیکن گزشتہ چار سالوں سے صوبے سنکیانگ میں اس کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کچھ ماہرین اسے مقامی مسلم آبادی کی 'نسل کْشی‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔
مانع حمل کے ذرائع میں سے ایک آئی یو ڈی یا کوائل T کی شکل کا ایک پلاسٹک اسے خواتین کے رحم میں ڈال دیا جاتا ہے۔چین میں خاندانی منصوبہ بندی کا پابند بنانے کے لیے شہریوں کو حراستی کیمپوں میں ڈال دینے کے خطرات سے ڈرایا جاتا ہے اور فیملی پلاننگ کے اصولوں کی خلاف ورزی یا ان کے احترام میں ناکامی کی سزا کے طور پر انہیں کیمپوں میں زیر حراست بھی رکھا جاتا ہے۔  تین یا اس سے زیادہ بچوں کے والدین کو ان کی فیملی سے دور کر کے سزا کے طور پر اس وقت تک کے لیے کسی نہ کسی حراستی کیمپ میں پہنچا دیا جاتا ہے، جب تک کہ وہ جرمانے کی بھاری رقم ادا نہ کریں۔ قزاقستان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون گلنار عمیرزاخ جن کی پیدائش چین کی ہے۔ انہوں نے اپنے تجربات کے بارے میں بتایا کہ جیسے ہی ان کے ہاں تیسرے بچے کی پیدائش ہوئی، حکومت نے انہیں IUD استعمال کرنے کا حکم دیا۔ دو سال بعد جنوری 2018ء میں فوجی اہلکار ان کے گھر آئے اور دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر انہیں 2685 ڈالر کے برابر جرمانہ ادا کرنے کا حکم سنا کر تین دن کی ڈیڈ لائن دے گئے۔ گلنار ایک غریب سبزی فروش کی بیوی ہیں۔ ان سے ان فوجیوں نے کہہ دیا کہ اگر انہوں نے جرمانہ وقت پر ادا نہ کیا تو، انہیں بھی ان کے شوہر اور دیگر نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں شہریوں کی طرح کسی حراستی کیمپ میں بند کر دیا جائے گا۔
چینی حکومت ایغور مسلم اقلیت کی آبادی میں اضافے پر سخت کنٹرول رکھنا چاہتی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جہاں چین میں ملک گیر سطح پر نس بندی کی شرح گری ہے، وہاں 2016تا 2018 سنکیانگ میں اس کی شرح میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور ان دو سالوں کے دوران اسٹرلائزیشن کے  60 ہزار پروسیجرز عمل میں لائے گئے۔ ایغور مسلمانوں کی اکثریت والے شہر ہوتان میں بچے پیدا کرنے کی عمر والی تمام شادی شدہ خواتین کا 34 فیصد حصہ مانع حمل ضوابط پر عمل کرتے ہوئے جبری فیملی پلاننگ کر رہا ہے۔
تاریخ دیکھنا ہو تو  فرانسیسی استعمار، برطانوی استعمار، اور پھر سوویت یونین کے استعماری ظلم کی داستان دیکھ لیجیے جس کی کوکھ سے 14 جمہوریائیں نکلیں۔ کمیونزم کے اس اژدھے نے کتنے بڑے مسلم خطہ کوہڑپ کر رکھا تھا۔مغرب کے مظالم اسی سلسلہ کی ایک کڑی اویغور مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو ختم کرنے، ان کو نابود کر نے اور لادین چینی حکومت کے ذریعے ان کو بھی لادین بنانے ، روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی کوشش بھی ہے۔ چنانچہ دونوں مقامات پر بھیانک قسم کے فسادات ہوئے ، جو سہی تصاویر اور ویڈیوز اور خبریں موصول ہوئی وہ انسان کے ہاتھ سے لقمہ گرا دینے کے لیے کافی تھیں۔
خیال رہے کہ مشرقی ترکستان (سنکیانگ/زنگ جیان) میں ترک نسل سے تعلق رکھنے والے اویغور (Uyghur) مسلمانوں پر ہونے والے ظلم تشدد کی دل خراش داستان کو سمجھنے کے لیے اس استبدادی نظام کے پیچھے کارفرما فکر کو سمجھنا ضروری ہے،جس نے ترکستان پر قبضہ اور اپنی بالادستی قائم کر کے اس کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا،مشہور مقامات اور جگہوں کے ناموں کو تبدیل کر دیا، غلط اوہام وخرافات، من گھڑت واقعات کو اس کی طرف منسوب کر کے اسکی تاریخ کو مسخ کر دیا اور وہاں کے باشندوں پر ظلم و ستم ڈھا کر انکو غلامی کی ایسی بیڑیوں میں جکڑ دیا کہ نہ تو وہ خود اس سے ازاد ہو سکتے ہیں اور نا ہی اپنی رہائی کے لئے دنیا سے فریاد کر سکتے ہیں۔
آج کے عالمی ماحول میں اگر ہم کھل کر انکی مدد نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے لیے دعا تو کر سکتے ہیں۔ان کے حالات اور ان پر ہونے والے ظلم سے دنیا کو باخبر تو کر سکتے ہیں ۔ان کے حق میں قلمی ولسانی جہاد تو کر ہی سکتے ہیں۔ میڈیائی مہم تو برپا کر ہی سکتے ہیں تاکہ احساس زیاں باقی رہے۔

تازہ ترین