ایک اورعالمگیر وباء کی دستک

چین میں ملا پہلے سے بھی طاقتور سوائن فلو وائرس

تاریخ    2 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


سری نگر//کورونا وائرس سے نبردآزما دنیا کے لئے چین سے ایک اور بری خبر آئی ہے۔ سال 2009 میں تباہی مچانے والے سوائن فلو (خنزیری وائرس)کے وائرس کا ایک نیاقسم ملا ہے۔ یہ وائرس نہ صرف H1N1 کے مقابلے بے حد طاقتور ہے، بلکہ جلدی سے کسی بھی ماحول میں پھیلنے کا اہل ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ وائرس کورونا سے بھی بڑی وبا پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔امریکہ کے سائنس جرنل PNAS میں شائع ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سوائن فلو کے ایک نئے وائرس کا پتہ لگا ہے، جس کا نام G4 رکھا گیا ہے۔ یہ انسانوں کے لئے بے حد خطرناک ہے اور کافی آسانی سے وبا میں تبدیل ہوجانے کا اہل ہے۔ چینی یونیورسٹی اور چین کے سینٹر فارڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن سینٹر نے بھی اس وائرس کے پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2011 سے 2018 تک سائنسدانوں نے خنزیر کی ناک سے ملے 30 ہزار سے زیادہ نمونوں کی جانچ کی ہے۔ اس دوران سائنسدانوں کو179 طرح کے سوائن فلو وائرس قسم ملے ہیں، لیکن سال2016 کے بعد سے ایک وائرس ٹائپ سب سے زیادہ ملا ہے، جو کہ بے حد خطرناک ہے۔سائنسدانوں کے مطابق G4 کے رابطے میں آئے شخص کے بھی ابتدائی علامات بخار، کھانسی اور زکام ہی ہیں، لیکن یہ بے حد تیزی سے دیگر لوگوں میں پھیل رہا ہے۔ اس کے علامات مسلسل تیزی سے سنگین ہوتے جاتے ہیں اور یہ انسانی جسم کے لئے کافی نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیزنل فلو کے خلاف جسم میں جو اینٹی باڈیز بنتے ہیں، وہ اس کے خلاف موثر نہیں ہیں، جو اسے اور بھی زیادہ خطرناک بنا دیتا ہے۔ یہ بے حد کم وقت میں دنیا کی4.4 فیصد آبادی کو بیمار کرنے میں کامیاب ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ وائرس بھی جانوروں کے ذریعہ ہی انسانوں میں پھیلتا ہے۔ حالانکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ کورونا کی طرف انسانوں سے انسانوں میں پھیلنے کا اہل ہے۔سائنسدانوں نے وارننگجاری کی۔کیمبرج یونیورسٹی کے ویٹریناری محکمہ کے سربراہ ڈاکٹر جیمس ووڈ کے مطابق سبھی ممالک کو ان کے خنزیر پالنے والے مقامات پر سخت نگرانی رکھنے کی ضرورت ہے۔ خنزیر کے گوشت اور دیگر جانوروں کے گوشت کی صنعت میں اس طرح کے وائرس کا خطرہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ پالتو جانوروں کے مقابلے جنگلی جانوروں کا گوشت زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس طرح کے گوشت سے نئے نئے وائرس انسانی جسم میں داخل ہوکر بیماریوں کو پیدا کر رہے ہیں۔ اسے جوناٹک انفیکشن کہا جاتا ہے۔

تازہ ترین