آہ! فدا ؔ راجوروی

’شہر دل ‘کا مسافر’پتھروں کو آئینہ ‘بنا کر ابدی سفر پر روانہ

تاریخ    1 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر شمس کمال انجم
’’دور تاحد نظر سبزہ ہی سبزہ پھیلا ہوا ہے۔ نظر خیرہ ہورہی ہے۔ کائنات جیسے اپنے سارے حسن وتنوع کے ساتھ دعوت نظارہ دے رہی ہے۔ میرے سامنے دور تک کھیت ہیں۔ سر سبز لہلہاتے کھیت، ہر یالی، پہاڑ، میدان، جہاں تک نظر جاتی ہے قدرت کی بوقلمونی، درخت سبزوردی میں ملبوس، جیسے پہرہ دے رہے ہوں۔ اونچے درمیانہ ، چھوٹے مگر وردی سب کی ایک۔ خدا کا کارخانہ بھی کیسا عجیب اور دعوت نظارہ دینے والا ہے۔(۱/ اگست ۲۰۰۳ء)
ہر ذرہ ایک جہاں معنی لیے ہوئے ہے۔ ہر پتہ ایک گلستان رنگ وبو کا امین ہے۔ ہر لمحہ صدہا واقعات کا گواہ۔ ہر دل میں صدہا تار بجتے ہیں جن سے نغمے اور ساز ترتیب پاسکتے ہیں لیکن مغنی ومطرب کی تلاش وجستجو میں سرگرداں ساز اور نغمے وقت کے عمیق سمندر میں غرق ہوجاتے ہیں۔ ذرے بکھر جاتے ہیں لمحے گزر جاتے ہیں اور برگ وبار نذر خزاں ہوکر چمنستان رنگ وبو کی غمازی کے لیے باقی رہ جاتے ہیں۔ (۳ جولائی ۱۹۸۵ء)
کچھ اور مختلف موضوعات ومضامین پر فدا صاحب اس طرح کی نثر لکھتے تھے:’’زندگی بے پناہ صلاحیتوں کی حامل سہی لیکن بے اندازہ محنت ، صبر ، یثار ، عزم راسخ کی متقاضی بھی ہے۔ (۱۷ مارچ ۱۹۸۵ء)جسے ماضی سے عبرت اور کائنات میں رونما ہونے والے حالات سے سبق حاصل نہیں وہ نہ نظر رکھتا ہے نہ بصیرت وبصارت (۳۰ مارچ ۱۹۸۵ء) خدا کی بخششوںاور عنایات کا کیا بیان، جہاں چاہے باران رحمت دے دے، سوکھی کھیتیاں ہر ی ہوائیں عزت ومرتبت، منزلت ومنصب آنکھیں بچھائیں، دنیا دست بستہ حاضر ہو۔ (۲۸ جولائی ۱۹۸۵ء) وقت کا تیز دھارا سب خش وخاشاک کو بہا لے جاتا ہے لیکن اعلی اخلاق اور صداقت ودینات وہ ابدی قدریں ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود زندہ وتابندہ رہتی ہیں۔ (۲۹ دسمبر ۱۹۸۵ء) استاد معیار کھوگئے ہیں۔ بچوں میں محنت کی عادت نہیں رہی۔ اس لیے تعلیم ایک نامراد دوڑ دھوپ کا نام رہ گیا ہے۔ (۱۷ / اپریل ۱۹۸۷ء) رات کا برپا ہونا ایک فطر ی عمل ہے اور نوید صبح کی علامت بھی۔ اس میں کائنات کا تواتر بھی پوشیدہ ہے اور حیات انسانی کا تسلسل بھی۔ (۱۳ جنوری ۱۹۹۲ء) ‘‘ 
ایک جگہ خود پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’میں ایک بحر ناپیدا کنار کی نذر ہورہا ہوں۔ طوفان حوادث کی تندی میری کم کوشی ، کوتاہی فکر ونظر اور ہمسفر ان راہ کی ناپختہ کاری اور چشم نیم وا۔ یہ سب اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں جس کا مجھے سامنا ہے۔(۹ جولائی ۱۹۹۸ء)‘‘( بحوالۂ ورق ورق آئینہ)
ان کی تحریروں میں گہرا طنز چھپا ہوتا تھا۔ میرے پاس ان کی کتاب ’’روداد‘‘ فی الحال تو میرے پاس نہیں ہے لیکن انہوں نے ایک خوب صورت جملہ اس میں لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم وہاں گئے تو کتوں کے ذریعے ہماری چکنگ شروع کی گئی۔ میں نے چکنگ کرانے والے سے کہا بھائی! یہاں بھی کتے ہیں؟ کیا معنی خیز جملہ ہے۔ کیاگہرا طنز چھپا ہے اس کی پہنائیوں میں۔ سبحان اللہ!
فدا راجوروی کی نثر میں یہی خوبی تھی۔آپ ان کی کتاب رہنے دیںصرف اوپر ذکر کیے گئے اقتباسات کے ظاہر وباطن میں جھانکیں آپ کو فدا راجوری کی بصیرت صاف نظر آئے گی۔فدا راجوروی کا ادیب آپ سے ہمکلام ہوجائے گا۔ آپ یقین کرنے لگیں گے کہ فدا راجوروی بے انتہا خوب صورت نثر لکھنے پر قدرت رکھتے تھے۔ ان کی نثر میں سلاست بھی ہے ۔ روانی بھی۔ نغمگی بھی اور چاشنی بھی۔ بھاری بھرکم الفاظ کبھی ان کے جملوں کے دروبست ، ان کی ترکیبوں کی ساختیات ، ان کے معانی وخیالات کے درمیان حائل نہیں ہوتے تھے۔ وہ جو کہنا چاہتے تھے بڑی بلاغت کے ساتھ کہتے تھے۔ ان کی شاعری میں کہیں فکر وفن یا قواعد وضوابط یا اوزان وبحور میں کہیں کچھ ایک آنچ کی کسر کا احساس ملتا ہے لیکن ان کی نثر پوری شان وشوکت کے ساتھ اپنا سر اٹھاکر بڑے ادیبوں میں خود کوشامل کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔میں نے پتھر پتھر آئینہ پر لکھے گئے مضمون پر ان کی اس خوبی پر تفصیل سے اظہار خیال کیا ہے۔
 فدا راجوروی اردو ، فارسی انگریزی،کشمیری ، پہاڑی اور گوجری زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ اردو میں وہ نظم اور نثر دونوں لکھتے تھے۔ فارسی میں بھی کبھی کبھی شعر کہتے تھے۔یہی دونوں زبانیں ان کا ذریعۂ اظہار تھیں۔ البتہ کشمیری اور پہاڑی مادری زبان ہونے کے ناطے کبھی کبھی ان میں بھی ذائقہ بدل لیا کرتے تھے۔ وہ جب کسی مشاعرے میں آتے تھے تو میں ان کی ایک فارسی نظم ضرورسننے کی فرمائش کرتا تھا۔ وہ اپنے اس مخصوص روایتی لب ولہجے میں پڑھتے تھے جو بڑا پر کشش تھا او ران کا اپنا لہجہ تھا۔ ان کا ایک ہی شعری مجموعہ ’’شہر دل‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا جو اس وقت میرے پیش نظر ہے۔ فدا صاحب نے مجھے بھیجا تھا اور تبصرے کا حکم دیا تھا لیکن میں اس پر لکھ نہیں سکاتھا۔ ایک روز انھوں نے مجھے اپنی کچھ غزلیں بھیجیں۔ میں نے ان پر نظر ثانی بھی کی ۔ اور ایک شاگرد سے ٹائپ کرواکر انہیں واپس کردیا۔ یہ بات ان کے پہلے شعری مجموعے ’’شہر دل‘‘ کی اشاعت کے بعد کی ہے۔
شہر دل کل د وس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں غزلیں بھی ہیں۔اور نظمیں بھی۔ نظمیں آزاد بھی ہیں اور پابند بھی۔ وہی نثر والی بات ہے۔ ان کی نظمیں مجھے ان کی غزلوں سے زیادہ اچھی لگیں۔ان کی نظموں میں عصری حسیت کے ساتھ فطرت کی بازگشت بدرجۂ اتم سنائی دیتی ہے۔
کچھ مختصر نظمیں یوں ہیں:
صدیوں جسے/ دریچوں میں/ دل کے/ جواں رکھا/ وہ زندگی/ کارنگ بھی / پھیکا ہوا ہے/ آج
بہت دنوں سے یہ سوچتا ہوں/ کہ خط لکھوں اور اس میں لکھ کر/ میں دل کے / سارے غبار رکھ دوں/ بنام انسانیت وہ خط ہو/اگر چہ منسوب ہو کسی سے/ نئی صدی کاکوئی بھی زیرک/ اگر ہوا تو جوان ہوکر/ پڑھے گا مجھ کو مرے خطوں میں۔
دکھ گنگا ہے/ دکھ جمنا ہے/ آؤ بانٹیں قطرہ قطرہ/ اور کھلے کھیتوں میں جاکر/ ہر قطرہ برسائیں/اُگ آئے گی/ ہر قطرے سے پیار بھری ہریالی۔
کچھ آزاد نظمیں بہت خوب ہیں۔ جن میں ’’ماں،موسم،بے آزار صنم، نوحہ گر،وقت‘‘ بہت متاثر کرتی ہیں۔ جنہیں طوالت کے خوف سے یہاں نقل نہیں کررہا ہوں۔
ان نظموں کے علاوہ فدا صاحب کی پابند نظموں میں چھتہ پانی،میرے عہد کے لوگو،میرا وطن،سرزمین پوشانہ،خالد کے نام،وغیرہ بہت خوب ہیں۔
چھتہ پانی پوشانہ کے پاس ایک سرسبز علاقہ ہے جہاں پہاڑوں کا آبشار مسلسل نغمہ ریز رہتا ہے۔ اس نظم کے ایک دو بند ملاحظہ کریں:
برف کی چادر بچھی ہے دور تا حد نظر
کوہساروں پر سنہری دھوپ پھیلی سر بہ سر
سبزہ زاروں میں ہر اک جانب رواں ہے زندگی
گنگناہٹ میں ندی کی نغمہ خواں ہے زندگی
سینۂ کہسار میں پانی رواں یا جوئے شیر
بہتے پانی میں ترنم کوہساروں کا اسیر
وادیوں کے سرپہ قائم پاسبانوں کی طرح
خمیہ زن ہے ابر گویا سائبانوں کی طرح
پانیوں کی نغمگی ہے نغمۂ آب حیات
اس طرح یہ نظم پورے تسلسل اور آبشاروں کے ترنم کی طرح نغمگی بکھیرتی ہوئی ختم ہوتی ہے۔ پوشانہ فدا صاحب کا آبائی وطن تھا۔ یہ علاقہ بھی مغل روڈ پر اونچے اونچے پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔
فدا صاحب نے اپنے والد صاحب کا بھی مرثیہ اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ یہ مرثیہ انہوں نے آج سے پچاس برس قبل ۱۹۷۰ء کے آس پاس لکھا تھا۔ ظاہر ہے ایک باپ کو اپنے بیٹے کے وفات پر کن جاں گسل حالات سے گزرنا پڑتا ہے یہ مرثیہ ہر بیٹے کے دل اور جذبات کی بڑی واضح ترجمانی کرتا ہے۔
فدا صاحب اچھے نثر نگار، اچھے شاعر، غزل گو، نظم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص استاد بھی تھے۔ انہوں نے مجھے ایک نشست میں بتایا کہ انہوں نے پورے ضلع کے تقریبا ہر اسکول میں پڑھایا ہے۔ حالات خواہ کیسے ناگفتہ بہ رہے ہوں۔ موسم چاہے جتنا سرد، خنک اور ناقابل برداشت رہا ہو وہ کبھی اسکول سے ناغہ نہیں ہوتے تھے۔ پابندی سے اسکول جاتے ۔ ایسی جگہوں پر بھی پہاڑوں کو دریائے شور کی مانند عبور کرکے جاتے اور اپنا فرض منصبی ادا کرتے۔ اسی لیے ان کے انتقال کے بعد ان کے جنازے میں ایک خلق کثیر نے شرکت کی۔ یہ بات سچ ہے کہ فدا صاحب راجوری کی علمی وادبی فضا کے لیے، شعری نشستوں اور مشاعروں کے لیے، سماجی پروگراموں کے لیے لازم وملزوم تھے۔ ہر جگہ وہ حاضر بھی ہوتے تھے اور اپنے افکاروخیالات سے سب کو فیضیاب بھی کرتے تھے ۔ اسی لیے ان کے جانے سے ان علمی وادبی حلقوں میں سوگ کا سا سماں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ’’شہر دل‘‘ کا مسافر ’’پتھر پتھر کو آئینہ‘‘بناکر سفر آخرت پر ورانہ ہوگیا۔دوست احباب، ساتھی اور اعزاء واقرباء سبھی ان کی اچانک رحلت سے اشکبار اور سوگوار ہیں۔
دعا ہے اللہ تعالی ان کی لغزشوں کو معاف کرے۔ ان کی نیکیوں کو قبول کرے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ آمین…(ختم شد)
صدر شعبہ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
موبائل نمبر:  9086180380
 

تازہ ترین