کووڈ 19- | سائنسی اور مذہبی تناظر میں

آگہی

تاریخ    1 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


ساحل احمد لون
دسمبر 2019کے آخری ہفتے میں چین کے شہر وُہان (Wuhan) سے نمونیا نما ایک بیماری’’ کرونا وائرس‘‘ پھوٹ پڑنے کا خلاصہ ہوا جس نے پہلے پورے چین اور پھر پوری دُنیا کوتیز رفتاری سے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وبائی شکل اختیار کی۔ عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگوں کی نظر بس اس وائرس کے طبی پہلوؤں(یعنی کتنی اموات ہوئی،کتنے لوگ اس کی زد میں آگئے وغیرہ) پر جاتی ہے ،چنانچہ اس وائرس کے کئی اور پہلو بھی ہے جن کی جانب ہماری توجہ مبذول نہیں ہوئی۔تجزیہ نگاروں کے مطابق اس وبا سے پوری دُنیا کا نظام بدل سکتا ہے۔عالمی سطح پر سیاسی اُتھل پتھل جنم لے سکتی ہے اور اقتصادی پہلو کی بات کی جائے تو اس حوالے سے شائد اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ فقط چین میںماہِ جنوری اور فروری میں تقریباً پچاس لاکھ لوگ روزگار سے محروم ہوگئے(بحوالہ: CNBC)،دُنیا پر رعب جمانے والے اور خود کو سپر پاور کہنے والے امریکہ کا حال یہ ہے کہ فقط مارچ کے مہینے میں وہاں ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑااور سرکاری امداد کے لیے درخواستیں دائر کرنی پڑی۔(حوالہ: department State)۔یہ دُنیا کے دو ترقی یافتہ ممالک کے اعداد و شمار ہے ،اب یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںکہ دُنیا کے پسماندہ ممالک کا حال کیا ہوگا ۔تصویر کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اس عالمگیر وبا کی وجہ سے لگائے گئے غیر حتمی لاک ڈاون کے نتیجے میں گھریلو تشدد (Domestic Voilence) کے گراف میں بھی کافی حد تک اضافہ درج ہوا ہے۔ 
 اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو وائرس اس قدر ہلاکت خیز ہے،جوعالمی سطح پر اس قدر دیر پا اثرات مرتب کرنے کی قوت رکھتا ہے، عالم ِ انسانیت کو اُس کے خونی پنجوں تلے سے کیسے نکالا جائے؟ اس حوالے سے اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ماضی میں جب بھی اس طرح کی وبائیںاور آفات نازل ہوتی تو اُن سے نمٹنے کے لیے دو چیزوں کا سہارا لیا جاتا تھا…مذہب اور سائنس۔ماضی کی روش کو آگے لے جاتے ہوئے آج بھی اس آفت سے نکلنے کی سبیل اِن ہی دو چیزوں کو بروئے کار لا کر نکالی جاسکتی ہے لیکن علاج ڈھونڈنے سے پہلے یہ دیکھنالازم ہے کہ یہ وائرس(سائنسی اور مذہبی تناظر) میں کیا ہے؟ کیونکہ مرض کے علاج سے پہلے اُس کی تشخیص از حد ضروری ہوتی ہے۔
کووڈ 19-(سائنس کے تناظر میں)
لفظ’’کرونا‘‘ لاطینی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معنی ’’تاج‘‘ یا ’’تاج نما‘‘ کے ہیں۔یہ نام پہلی مرتبہ  June Almeidaاور John Tyrrellنے تجویز کیا(حوالہ:وِکی پیڈیا)۔اس وائرس کو  ۱۹۶۰؁ء کی دہائی میں دریافت کیا گیا۔سال  2019 میں اس وائرس کی جو قسم نمودارہوئی(جو تاحال دُنیا کے بیشتر ممالک میں تباہی مچارہا ہے) اُسے پہلے تو’’ناول کرونا وائرس‘‘ کا نام دیا گیا(ناول سے مراد ہے ’’نیا‘‘)،بعد میں11 فروری 2020کو عالمی ادارۂ صحت نے اسے Covid-19نام دیا۔اس وائرس کی ظاہری شکل و صورت سورج کے ہالے سے مشابہت رکھتی ہے اور اس پر پر وٹین سے بنے کیل (Spike)  جیسے ہوتے ہیں جو اسے تاج نما شکل عطا کرتے ہے۔انسانی جسم چونکہ خلیوں (Cells ) سے بنا ہوتا ہے،اُن خلیوں کی سطح پر ایک خامرہ(Enzyme) پایا جاتا ہے جسے ACE2 کہتے ہے۔اسی خامرہ کی مدد سے یہ وائرس انسان کے خلیوں میں داخل ہوتا ہے اور اُسے اپنا شکار بنا لیتا ہے۔(بحوالہ:انڈین ایکسپریس)۔
 کووڈ 19-ایک انسان کو کئی طریقوں سے متاثرکرسکتا  ہے۔اس کے پھیلاؤ کی سب سے خطرناک صورت یہ ہے کہ جب ایک متاثرہ شخص کسی دوسرے شخص سے قریبی رابطہ استوار کریں ۔لاک ڈاؤن کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے رابطے میں نہ آئے اور اس کے پھیلاو ٔکے امکان کم ہوجائے۔عالمی ادارۂ صحت کے وضع کردہ ہدایات کے مطابق ملاقات کرتے وقت دوا شخاص میں کم از کم تین فٹ کی دوری ہونی چاہیے۔اسمیں مبتلا لوگوں میں کئی علامات ظاہر ہوسکتی ہے مثلاً نمونیا،بخار،کھانسی،سانس لینے میں تکلیف،تھکاوٹ وغیرہ۔اگرچہ آج تک ذرائع ابلاغ میں اس کے ویکسین کی تیاری کے حوالے سے کئی دعوے کئے گئے تاہم وہ سب سراب ہی ثابت ہوئے اور تاحال ڈُنیا کا کوئی بھی ملک اس میں کامیاب نہیں ہواہے۔
کووڈ19-(مذہب کے تناظر میں)
وبائیں،بلائیں،قحط سالی ،زلزلے ،آفاتِ سماوی،لاعلاج امراض وغیرہ کے ظاہری اسباب کچھ بھی ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دراصل اللہ تاتعالیٰ کا عذاب ، اُس کی تنبیہ،اور اُس کی آزمائشیں ہوتی ہے تاکہ انسان راہِ راست پر آجائے اور اُس کی ڈوبتی نَیا کو کنارہ مل جائے ۔انسان جب جب اللہ کے وضع کردہ قوانین اور اصوال و ضوابط سے روگردان ہوتا ہے،خدائی کے منصب پر فائز ہونے کی کوشش کرتا ہے،مادیت میں اتنا  غرق ہوتا ہے کہ اپنے خالق ِ حقیقی کو ہی فراموش کر بیٹھتا ہے،عریانیت،اور فحاشی کا بازار گرم ہونے لگتا ہے،تب تب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے ۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے،’’جو مصیبت بھی تم پر آتی ہے،وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے۔‘‘(الشوریٰ:۳۰)۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ’’ آخرکار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی جو وہ کر رہے تھے‘‘(البقرہ:۵۹)۔نیز اسی سورۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر،فاقہ کشی ،جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے‘‘۔دُنیا کے سب سے بڑے مذہب عیسائیت کا بھی اس حوالے سے کم و بیش یہی نظریہ ہے ۔بائبل میں اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ:
’’The God will strike you with wasting disease,with fever and with inflammation...which will palgue you until you perish‘‘(Dueteronomy 28:22)۔
بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ طاعون اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے،اللہ جس پر چاہتا ہے بھیجتا ہے۔
راہِ نجات
کووڈ 19-کیا ہے؟اس موضوع پر مذہب اور سائنس کے تناظرمیں کم و بیش روشنی ڈالنے کے بعد اب اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ اس آفت اور لاعلاج مرض سے کس طرح عالم ِ انسانیت کو باہر نکالا جاسکتا ہے؟ اس سے نمٹنے کے لیے کیا طریقۂ کار اپنایا جائے؟کیاواحد مذہب ہی اس کا علاج بتا سکتا ہے یا پھر سائنس کا دامن تھامنا بھی ضروری ہے؟ اس ضمن میں سب سے پہلے اس بات کی وضاحت کرنا بے جا نہ ہوگا کہ اس بیماری کا علاج ڈھونڈنا تبھی کارگر ہوسکتا ہے جب پہلے لوگ اس کے وجوکو تسلیم کریں اور اسے سنجیدگی سے لیں۔اس سے بڑے ستم ظریفی اور المیہ کیا ہوگا کہ جنوب ایشائی ممالک (خاص کر پاکستان اور بھارت) میں لوگ اس بیماری کے وجود سے سرے سے ہی انکار کرتے ہیں کُجا کہ وہ اس کی روک تھام کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں!!۔ایک اور مصیبت یہ ہے کہ اگر کوئی اس کے وجود کو تسلیم کر بھی لیتا ہے تو پھر وہ اسے یہودیوں کی سازش سے تعبیر کرتا ہے،کوئی اسے امریکہ پر اللہ کا عذاب بتا رہا ہے اور کوئی عربوں کی عیش کوشی کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔ہماری ذہنی پسمانگی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی۔
 ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے سماج میں بعض خود ساختہ دین دار لوگ احتیاطی تدابیر اپنانے سے سرے سے ہی انکار کرتے ہے۔اُن سے وجہ پوچھی جائے تو اُن کا جواب یہی ہوتا ہے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہے ،وہ خود ہمارا محافظ ہے،احتیاطی تدابیر اپنانے سے کیا ہوگا۔حالانکہ یہ وطیرہ جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔تدبیر بھی دراصل تقدیر کا ہی حصہ ہے اور ہمارے دینِ اسلام نے ایسے مواقع پر رجوعِ الی اللہ کے ساتھ ساتھ طبی ہدایات پر عمل پیرا ہونے کی بھی تلقین کی ہے ۔
اب بات واضح ہوگئی کہ کووڈ ۱۹ یا کرونا وائرس جیسی وبا سے نکلنے کے لیے ہمیں دین اور سائنس،دونوں کے دامن میں پناہ لینی ہوگی ،اُسی میں ہماری کامیابی اور بھلائی کا راز مضمر ہے۔اس ضمن میںمزید جن باتوں کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے،وہ یوں ہیں :
۱)روٹھے رب سے رابطہ بحال کریں اور اس کے لیے توبہ و استغفاراور نمازوں کی پابندی کریں۔
۲)کلامِ اللہ کی تلاوت کرتے رہیں اور اسے معنیٰ و مفہوم کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کریں۔
۳)گھر سے نکلتے وقت لازمی طور پر ماسک پہنیں اور سماجی دوری (Social Distance) کا خصوصی خیال رکھیں۔
۴) صاحبِ ثروت لوگ اپنے ارد گرد موجود غُرباء و مساکین اور اُن لوگوں کا خیال رکھیں جن کا روزگار اس مہلک وبا کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا۔
  ۵) دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریںکیونکہ دینِ حق نے دعا کو مومن کا ’’ہتھیار‘‘ کہا ہے۔
۶)لاک ڈاؤن کے ان ایام میں زیادہ سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کریں۔ایک مقولہ ہے کہ ’’Leaders are Readers‘‘،مطالعہ نہ صرف آپ کی ذہنی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے بلکہ آپ میں قائدانہ صلاحتیں بھی آجاتی ہے ۔علم کا چراغ ہی ہے جو ایک انسان کی تاریک زندگی کو روشی عطا کرتا ہے۔
یہی راستہ ہے جس کی بدولت ایک مربتہ پھر آپ دُنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہوسکتے ہیں۔ 
۸)انسان کو (Social Animal) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔سماجی روابط منقطع کرنا انسانی فطرت کے عین خلاف ہے مگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے آج پوری کائنات کے لوگ اپنے گھروں کے اندر محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ایسے میں سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرنا وقت کی ناگزیز ضرورت ہے تاکہ اُکتاہٹ کا شکار ہونے سے بچا جاسکے اور آپس میں روابط بھی قائم رہے ۔
یہ چند نکات ہیں جو کرونا وائرس کو شکست فاش کرنے کے لیے انفرادی طور پر اُٹھائے جا سکتے ہیں۔اجتماعی طور پرسب سے بڑی ذمہ داری سرکار کی ہے کہ وہ طبی شعبے میں سدھار لائے۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ نیوکلیائی ہتھیاروں اور بربادی کے دیگر ساز و سامان کو پسِ پشت ڈال کر طبی شعبے کا سدھار سرکاروں کی اولین ترجیح ہوتی۔کرونا سے متاثرہ لوگوں کی خاطر خواہ امداد بھی سرکار کی عین ذمہ داری ہے۔بیت المال قائم کرکے ضرورت مندوں کی اجتماعی مدد کرنا مسلمانانِ عالم کا اجتماعی فریضہ ہے اور آخری نقطہ جو ہمیں انفرادی و اجتماعی سطح پر اپنانا ہوگا ،یہ ہے کہ نا اُمیدی اور یاس سے اجتناب کیا جائے۔ہم بھی آج انتہائی مشکل آزمائش میں مبتلا ہیں لیکن یہ بات ذہن نشین کرنی ہوگی کہ ان شاء اللہ بہت جلد یہ دور بھی گزر جائے گا،کیونکہ خزاں کے بعد ہمیشہ بہار آتی ہے اور اندھیری راتین ہمیشہ صبحِ نو کی نوید لے کر آتی ہیں۔
رابطہ : برپورہ پلوامہ کشمیر
ای میل : lonesahilahmadkmr@gmail.com

تازہ ترین