تازہ ترین

فیس معاف اسکیم کا ناجائزفائدہ اُٹھانے کی کوشش

نجی اسکولوں کی انجمن کاکئی والدین پر الزام

تاریخ    1 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر//طلبہ کی فیس معاف کرنے کی اسکیم کاغلط استعمال کرنے پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے نجی اسکولوں کی انجمن نے کہا کہ سرکاری ملازمین نے بھی فیس کی ادائیگی نہیں کی جبکہ کئی اسکولوں پرحملے بھی کئے گئے۔انجمن نے کہا کہ تمام والدین نے فیس کی ادائیگی کا سلسلہ روک دیا ہے جس کی وجہ سے اسکولوں پر بند ہونے کے خطرات منڈلارہے ہیں ۔نجی اسکولوں کی انجمن نے ایک بیان میں کہا کہ انجمن نے معاشرے کے متاثرہ طبقے کی مددکیلئے اسکولوں میں مستحق بچوں کی فیس معاف کرنے کی اسکیم کومتعارف کرایاتھاتاہم کچھ لوگ اسے مکمل فیس بائیکاٹ کی صورت میں استعمال کرتے ہیں۔انجمن نے کہا ،’’سرکار کی طرف سے بچوں کی فیس معاف کرنے کیلئے کوئی حکم جاری نہیں کیا گیاتھا،حتی کہ اسکولوں کو بچوں سے فیس وصول کرنے کی بھی اجازت دی گئی تھی،تاہم سماج کے تئیں نیک جذبے کو مدنظر رکھ کرہم نے لوگوں کو کچھ راحت دینے کافیصلہ کیا،تاہم بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس اسکیم کو یرغمال بنانے کی کوشش کی ۔‘‘انجمن نے کہا کہ کچھ مفاد خصوصی رکھنے والے لالچی لوگوں نے مکمل طور پر حقائق کو کچھ اور ہی رنگت دی اور وہ لوگوں سے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ صد فیصد طلاب کیلئے صد فیصد فیس معاف کیا گیا ہے۔انجمن نے کہا کہ اس صورتحال میں ہمارا تعلیمی شعبہ خطرے میں ہے اور کسی بھی وقت منہدم ہوسکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ صاحب ثروت لوگ مستحق طلاب کے حقوق پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔نجی اسکولوں کی انجمن نے کہا،’’ صورتحال ایسی ہے کہ سرکاری ملازمین اور دوسرے طبقوں کے لوگ،جن کا لاک ڈائون کے دوران آمدنی کا معقول ذریعہ تھا ،فیس کی ادائیگی سے انکار کر رہے ہیں‘‘۔انکا کہنا تھا کہ فیس معافی اسکیم کو متعارف کرنے کے صرف ایک روز میں فیس کی ادائیگی جو50سے60فیصد ہو رہی تھی ،صفر تک پہنچ گئی،جبکہ والدین اس جانچ کیلئے بھی تیار نہیں ہے جو مستحق والدین کا پتہ لگانے کیلئے لازمی ہے۔ایسو سی ایشن نے الزام عائد کیا  کہ کئی جگہوں پر مشتعل والدین نے اسکولوں پر بھی حملے کئے۔انجمن کے ترجمان نے کہا’’ ایک ایسے وقت میں جب حکومت نے ضرورتمندوں کی مدد نہیں کی ہم مستحقین کیلئے سامنے آئے‘‘۔

تازہ ترین