تازہ ترین

تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں اضافہ کوروکاجائے

کان کنی کی بولی کے عمل پر نظر ثانی کرنے کااپنی پارٹی کا مطالبہ

تاریخ    1 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر// اپنی پارٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ تعمیراتی میٹریل کی قیمتوںمیں غیر متوقع اضافہ کو روکنے کیلئے مکمل ریگولیٹر ی کمیشن تشکیل دیا جائے کیونکہ لوگوں کو سخت مشکلات سے گذرنا پڑ رہا ہے اور جموں وکشمیر بھر میں ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ایک مشترکہ بیان میں سابقہ رکن قانون ساز اسمبلی اور اراکین قانون سازیہ محمد اشرف میر اور عبدالرحیم راتھر نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ماہرین کی ایک ٹیم ہونی چاہئے جس میں  تعمیراتی میٹریل تیار کرنے والی ایسوسی ایشن کے نمائندگان بھی شامل ہوں تاکہ وقتاًفوقتاًتعمیراتی شعبہ کو درپیش مسائل کا قابل عمل حل نکالاجاسکے۔ اپنی پارٹی لیڈران نے کہاکہ گذشتہ سال کے برعکس امسال تعمیراتی میٹریل جس میں اینٹیں، پتھر، ریت ، بجری وغیرہ شامل ہیں کی قیمتوں میں بلاجواز ریکارڈ60فیصد اضافہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ غیریقینی طور قیمتوں میں اضافہ سے نہ صرف عام آدمی پریشان ہے بلکہ ٹھیکیداروں بھی متاثر ہوئے  جوتعمیری میٹریل کی قیمت کو ذہن میں رکھ کر کسی بھی کام کا ٹھیکہ لیتے ہیں۔غیر منصفانہ طور قیمتوں میں اضافہ سے نجی اور سرکاری شعبہ جات میں مجموعی طور ترقیاتی سرگرمیاں بُری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ اپنی پارٹی لیڈران نے مطالبہ کیاکہ ریگولیٹری کمیشن بنایا جائے اور حکومت اِس کو تشکیل دیتی ہے تو اِس کو یہ بھی اختیار ہوکہ وہ اِس بات کو یقینی بنائے کہ  تعمیراتی میٹریل کی کان کنی عمل میں زیادہ سے زیادہ مقامی ٹھیکیداروں اور مزدوروں کی شرکت یقینی بنائی جائے جس سے عمارتی میٹریل کی قیمت کم ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ کان کنی سرگرمیوں کی آن لائن بولی متعارف کر کے حکومت نے جموں وکشمیر کے بیرون سے بھی ٹھیکیداروں کے لئے راستہ کھول دیا ہے جوکہ اِس کاروبار سے جڑے مقامی لوگوں کے لئے موت کا جھٹکا ثابت ہورہا ہے۔ نتیجہ کے طور پر پوری کان کنی سرگرمی ٹھپ ہے، اس سے نہ صرف سرکاری ونجی تعمیرات میں خلل پڑا ہے بلکہ اِس سے مقامی آبادی کے لئے خام مال کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے مقامی ٹھیکیداروں کو اہم تعمیراتی میٹریل جس میں بجری، ریت، بولڈرز، وغیرہ کی کان کنی کی اجازت بندکی گئی ،تب سے خام مال کی قلت ہے نتیجہ کے طور پر کان کنی کاروبار سے جڑے ہزاروں مقامی نوجوان بے روزگار ہوگئے ہیں۔ اپنی پارٹی لیڈران نے مقامی ٹھیکیداروں اور مزدوروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے لئے کان کنی کے لئے پورے بولی (بڈنگ)عمل پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تب تک حکومت کو چاہئے کہ مقامی ٹھیکیداروں کواکتوبر2019کو متعین کردہ قیمت کے مطابق رائلٹی کی بنیاد پر تعمیراتی میٹریل کی کان کنی کی اجازت دی جائے۔