تازہ ترین

جموں و کشمیر بینک چوتھے سہ ماہی مالی نتائج کا اعلان

خالص سود آمدن میں اضافہ، پراویجنگ تناسب میں بہتری

تاریخ    1 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
جموں//جموں و کشمیر بینک نے مالی سال2019-20کے چوتھے سہ ماہی اور اپنے سالانہ مالی نتائج کا اعلان بورڈ آف ڈائریکٹرس کی منطوری کے بعد کیا ہے۔سالانہ مالی نتائج کے حوالے سے بینک کی نیٹ انٹرسٹ انکم (NII)میں سال بہ سال10فیصد بہتری دیکھی گئی ہے جو کہ مالی سال2018-19کے مقابلے میں 3383.93 کروڑ روپے سے بڑھکرمالی سال 2019-20 میں 3706.67 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔بینک کے قرضہ جات کا حجم 64399کروڑ روپے ہے جبکہ ڈیپازٹس 9فی صد کے اضافے کے ساتھ89639کروڑ روپے سے بڑھکر97788کروڑ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔بینک کے مجموعی کاروبار میں 4%اضافہ درج کیا گیا ہے جو کہ 162187کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔خراب اور شک آور اثاثوں کی پراوجنگ کیلئے گزشتہ سے پہلے مالی سال کے آخر پر 1053کروڑ روپے  رکھے گئے تھے  جبکہ گزشتہ مالی سال کے لئے یہ رقم 2523کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔ اسطرح پراوجنگ سے پہلے کا آپریٹنگ منافع 1525.05کروڑ روپے درج کیا گیا ہے  اور مالی سال 2019-20کیلئے بینک نے خالص خسارہ1139.41کروڑ روپے درج کیا ہے۔ مستقبل قریب میں اپنی بنیادی سطحوں کو مظبوطی بخشنے کی غرض سے بینک نے  اپنا پراوجنگ کوریج تناسب(PCR) 64.30فی صد سے بڑھا کر اسے 78.59فی صد  کر دیا ہے۔مالی سال 2018-19کے مقابلے میں خالص NPAشرح 4.89فی صد سے کم ہوکر 3.48فی صد تک آگئی ہے۔ مالی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے بینک کے چیئرمین راجیش کمار چھبر نے کہا کہ ہمارے اعداد و شمار وقت کے عکاس ہیں جب لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس سے  پوری دنیا ایک مالی بحران سے گزر رہی ہے ۔ اس دوران ہمارے انسانی وسائل و خزانے نے کافی جرعت و ہمت سے اسکا مقابلہ ڈٹ کر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر بینک کو اس خطے میں ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے  اور ہماری توجہ  یہاں موجودکافی سارے مشکلات سے پیدا شدہ تکالیف کو کم کرنے کیلئے جاری رہے گی۔یہ بات بھی عیاں ہے کہ ہمارے ملازمین نے گزشتہ برس سے جاری اتھل پتھل کے دوران کافی ساری کٹھنائیوں میں کام کیا اور اس مرحلے پر بھی ہم نے یہ کوشش کہ کہ ہماری بیلنس شیٹ میں استحکام رہے۔ کووڈ19سے پیدا شدہ مشکلات کی وجہ سے جو ان چاہے منفی اثرات ہمارے اثاثوں/ قرضوں پر پڑ رہا ہے یا پڑنے والا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہم نے اپناNPAکو ریج تناسب 14فیصد سے زیادہ بڑھایا ہے اور اسے64.30سے بڑھا کر 78.59فی صد کردیا ہے۔چیئرمین نے کہا کہ4.10فی صد کاNIMاس صنعت میں سب سے بہتر ہے اور کاسٹ آف ڈپازٹس کو4.89فی صد سے کم کرکے4.73فیصد پر لایا گیا گیا۔CASAزمرے میں بہتری درج کی گئی ہے اور سیونگس بینک ڈپازٹس میں سال بہ سال18فیصد بڑھت درج کی گئی ہے۔جموں ، کشمیر اور لداخ میں قرضوں کی شرح میں 13فی صد اضافہ ہے  جو کہ پورے ملک کے جے کے بینک قرضوں کا 63فی صد ہے اور ہماری توجہ کارپوریٹ قرضوں کے بجائے رٹیل قرضوں پر رہی ہے۔سرکاری معاونت و حمایت پر بات کرتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ وہ بر محل اور نہایت کار آمد ہے جس میں خاص بات مالی سال2019-20کے آخری سہ ماہی کے دوران 500کروڑ کا کپیٹل انفیوجن ہے۔ جس سے بینک کا کپیٹل ایڈوکیسی ریشو(CAR) BASEL-IIIضوابط  کے تحت بر قرار ہے۔مرکزی سرکار کی گارنٹیڈ ایمر جنسی کریڈٹ لائن(GECL) اسکیم کے تحت بینک نے 31069قرضداروں میں 1068.74کروڑ روپے کے قرضے واگزار کئے ہیں۔گورنمنٹ سپانسرڈ اسکیموں کے ذریعے عوام کو راحت رساں مالی امداد پہنچائی جا رہی ہے اور حال ہی میں ہم نے دو نئی اسکیمیں بھی لانچ کی جس میں SMA1اورSMA2قرضوں کو بھی خاطر میں لایا جا رہا ہے۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں25لاکھ سے زائد پرائم منسٹرس جن دھن یوجنا خواتین کھاتہ داروں کو 126.66کروڑ روپے کی سرکاری امداد دی گئی ہے۔