تازہ ترین

جموں کشمیر میں 200چھوٹے بڑے پروجیکٹوں پر 3ماہ سے کام بند

ٹھیکیدار وں کے ذمہ 500کروڑ بینک قرضہ، 70میکڈم پلانٹ ،500کریشر اور اینٹ بٹھے مقفل، 3لاکھ مزدور و کاریگر بیکار

تاریخ    1 جولائی 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں وادی میں قریب 50بڑے تعمیراتی پروجیکٹ بند پڑے ہیں جبکہ دیگر چھوٹے پروجیکٹوں کو ملا کر مجموعی تعداد 200کے قریب ہے۔سرسری اندازے کے مطابق ابھی ان پروجیکٹوں سے جڑے افراد کو 1400کروڑ روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور قریب 5لاکھ لوگ براہ راست متاثر ہوچکے ہیں، جو پچھلے تین ماہ سے بے کار ہوگئے ہیں۔ ٹھیکیداروں کے مشترکہ اتحاد سینٹرل کانٹریکٹرس کارڈی نیشن کمیٹی نے کورونا لاک ڈائون سے اب تک نقصانات کا تخمینہ1400کروڑ روپے لگایا ہے۔ جنرل سیکریٹری فاروق احمد ڈار نے کشمیر کو عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں تعمیرات عامہ،آبپاشی و فلڈ کنٹرول،محکمہ بجلی،محکمہ صحت،شہری ترقی و مکانات،تعلیم اور دیگر محکموں میں قریب32ہزار ٹھیکیدار کام کرتے ہیں،جو لاک ڈائون میں بیکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قریب3لاکھ مزدور و ہنر مند کاریگر بھی پروجیکٹوں اور تعمیراتی کاموں پر کام بند ہونے کے نتیجے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور انکی حالت بہت خستہ ہوچکی ہے۔ڈار نے کہا کہ یہی نہیں بلکہ500  کے قریب ریت،کان کنی اور انیٹ بھٹوں کے علاوہ کریشروں پر کام کرنے والے مزدوراور دیگر عملے کے علاوہ مالکان بھی متاثر ہیں اور گزشتہ100دنوں سے حصول روزگار کے حوالے سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ان کا کہناہے کہ قریب8ہزار سپلائر تعمیراتی میٹریل ٹھیکیداروں کو فراہم کرتے ہیں، اور لاک ڈائون کے نتیجے میں وہ کسمپرسی کے دن گزار رہے ہیں۔فاروق احمد ڈار کا کہنا تھا کہ جہاں سرکار کے پاس قریب500کروڑ روپے واجب الادا ہیں،وہیں ٹھیکیداروں نے مالیاتی اداروں سے قرضے بھی حاصل کئے ہیںاور نجی سیکٹر میں بھی کام بند پڑا ہوا ہے۔تعمیراتی شعبہ سے جڑے  لوگوں کا کہنا ہے کہ موسم گرما کے ان ایام میں جہاں میکڈم بچھایا جاتا ہے،وہیں نومبر کے بعد وادی میں تعمیراتی و ترقیاتی کاموں کا سلسلہ بھی بند ہوجاتا ہے،اور انہیں خدشات ہے کہ رقومات بھی لیپس ہونگے۔ میکڈم پلانٹوں کی انجمن کے محمد جیلانی پرزہ نے کہا کہ وادی میں قریب88میکڈم پلانٹ ہیں،جن میں صرف محدود10سے12پلانٹ ہی کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کانٹریکٹروں کی موجودہ حالت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو سینکڑوں کروڑ روپے سرکار کے پاس واجب الادا ہیں،اور دوسری جانب کام ٹھپ ہونے کی وجہ سے وہ بے روزگار ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میکڈم پلانٹوں کے بند ہونے کے نتیجے میں کریشروں اور ریٹ کا کام بھی متاثر ہوا ہے۔