ماس پر موشن یا آن لائن امتحان | یا الٰہی یہ ماجراآخر کیا ہے؟

رپورتاژ

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


زبیر قریشی
سماج کی بہبودی اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے ، حکومتیں بنتی ہیں۔ استحصالی طبقوں کو کچل دینا، بے روزگاری کی لعنت کو دور کرکے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ایمانداری اور دیانتداری کی فضا ہموار کرنا  سریرسلطنت پر براجماںحکمرانوں کا فرض منصبی ہے لیکن شومئی قسمت پچھلے ساٹھ ستربرسوںکا مشاہدہ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ جموں و کشمیر میں ایسی کو ئی فضا قائم ہوتی نہیں دکھی۔5اگست کے تاریخی فیصلے کے بعد کہا جا رہا تھا کہ اب جموں کشمیر کے تمام مسائل حل ہونا شروع ہوں گے مگر ایسے بھی کوئی آثار نہیں مل پارہے۔ دورِ حاضر میں جموں و کشمیر میں بے روز گاری کے ساتھ ساتھ محکمہ تعلیم کی غیر سنجیدگی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔
 وادی کشمیر میں گذشتہ ایک سال کے دوران جو شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔5اگست 2019 کے بعد پیدا ہوئے نامساعد حالات اوراس سال مارچ سے کرونا وائرس کی صورتحال نے وادی کشمیر میں سکولوںاور کالجوں میں درس و تدریس کا کام شدت سے متاثر کیا ہوا ہے ۔ امتحانات وقت پر منعقد نہ ہونے کے باعث طلبا و طالبات ایک سال سے ایک ہی سمسٹر میںاٹکے ہوئے ہیں،نتیجہ یہ کہ طلبا و طالبات کے ساتھ ساتھ ان کے والدین بھی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔دوسری جانب محکمہ تعلیم کے حکام آئے روز جو نئے نئے حکمنامے جاری کررہے ہیں، ان سے بچوں کی ذہنی حالت مزید غیر ہورہی ہے ۔ہونا یہ چاہئے تھاکہ وادی کے مختلف کالجوں اوریونیورسٹیوں کے حکام طلبا و طالبات کو ذہنی کوفت سے آزادی دلانے کیلئے مثبت اقدامات کرتے لیکن حقیقت میں جو حکمنامے سامنے آرہے ہیں وہ طلبا کے ذہنوں میں موجود تضاد کو مزید بڑھاتے ہیں۔طلبا و طالبات کا کہناہے کہ ماس پرموشن اور انٹرنل اسسمنٹ کو لے کر اب جو اعلانات کئے جارہے ہیں،ان کی تفصیلات ہر دوسرے روز بدلی جاتی ہیں۔ 
 آپ کو یاد ہو گا کہ کشمیر یونیورسٹی ،کلسٹر یونیورسٹی سرینگر ، اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ، اور،انجینئرنگ کالج زکورہ میںزیر تعلیم طلبا و طلبات امتحانات کو لے کر لئے گئے  فیصلوں سے نالاں ہیں۔غور طلب ہے کہ ان کالجوں اوریونیورسٹیوں نے مرکزی وزارت برائے فروغ انسانی وسائل کی گائیڈ لائنز کو پہلے ہی ماننے سے انکار کیا اور اب چند سمسٹروں میں انٹرنل اسسمنٹ کی بنیاد پر ماس پرموشن کا اعلان کیا ۔اس پر طرہ یہ کہ اب یونیورسٹی حکام نے متعلقہ اختیارات مختلف فیکلٹیوں کو سونپ دئے ہیں جنہوں نے کنفیوژن کو مزید بڑھاتے ہوئے انٹرنل اسسمنٹ کیلئے آن لائن ٹیسٹ منعقدکرنے کا فیصلہ لیا ہے اوروہ بھی  MCQ طرز پر …حیرت اس بات کی ہے کہ طلبا کو MCQ یعنی کثیر آپشن والے سوالات کے طرزِامتحانات کے لئے  تیار کرنے کی خاطر ابھی تک کالجوں یا یونیورسٹیوں نے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کیا ۔پھر بھی وہ توقع رکھتے ہیں کہ طلبا اس طرز پر امتحان دے سکتے ہیں ۔ یہ بات بھی کسی سے چھپی نہیں ہے کہ وادی میں فراہم کی جانے والی انٹرنیٹ سہولیات 2Gصلاحیت والی ہیںجن کے چلتے ایک چھوٹا سا ویڈیو بھی بیسیوں بار بفرنگ کا شکار ہوتا ہے، لہٰذا آن لائن امتحان منعقد کرنا کس حد تک کامیاب ہوسکتا ہے،یہ ایک بڑا سوال ہے ۔ یاد رہے کہ کلسٹر یونیورسٹی سرینگر کے 6thسمسٹر کے طلبا و طالبات MCQ طرز کے امتحان کیلئے بالکل تیار نہیںہیں۔ان اُمیدواروں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی حکام نے 70منٹ میں   60 ایسے سوالات حل کرنے کو کہا ہے جو ان کے ساتھ نا انصافی ہے۔ امیدوار پوچھتے ہیں کہ اگرایک طرف ماس پرموشن کا اعلان کیا گیا  تو پھرا س طرح کے امتحان منعقد کرکے ان کی ذہنی حالت سے کیوں کھلواڑ کیاجارہاہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر محکمہ تعلیم کے حکام یا مختلف فیکلٹیوں کے سربراہ MCQطرز کے امتحان منعقدکرنے پر بضد ہیں تو پھر نصاب میں کمی کی جائے اور4Gنٹرنیٹ کی سہولت فوراًفراہم کی جائے۔
انجینئرنگ کالج زکورہ اور اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں زیر تعلیم طلبا  دیگر اداروں کے طلبا کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہتے ہیں کہ2G سپیڈ پر 30منٹ کے وقفے میں MCQ طرز پر امتحان دینا ایک دشوار عمل ہے اور یہ فقط امیدواروں کو پریشان کرنے کا ایک حربہ ہے۔ کچھ طلبا و طالبات کا یہ بھی کہنا ہے کہ فیکلٹی ممبران جان بوجھ کر ان کے لئے الجھنیں پیدا کررہے ہیں۔یہاں یہ کہنا لازم ہے کہ یہ معاملہ  صرف اعلیٰ تعلیم شعبے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ سکول ایجوکیشن شعبے میں بھی طلباایسے ہی ذہنی تنائو کا شکار ہیں۔ایک طرف محکمہ تعلیم کے پرنسپل کمشنر سیکریٹری اعلان کرتے ہیں کہ 31مئی کے بعد سکول کھول دئے جائیں گے اور کچھ وقت بعد ایک اور اعلان سامنے آتا ہے کہ15جون سے سکول کھولے جائیں گے۔آخرکار مرکزی سرکار کی مداخلت کے بعد لیفٹنٹ گورنر کے مشیر کو یہ اعلان کرناپڑتاہے کہ فی الحال سکول کھولنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ایسے میں یہ پوچھنا واجب ہے کہ اس طرح کے اعلانات کیاطلبا اور ان کے والدین کوپریشان کرنے کیلئے کئے جاتے ہیںیا ان سے یہ مطلب لیا جائے کہ ہمارے یہاں اعلیٰ تعلیم اور سکولی تعلیم کے محکموں کی کارگزاری تال میل کے فقدان اور خلفشار کا شکار ہوچکی ہے ۔عوامی حلقے اس سلسلہ میں کہتے ہیںکہ وادی کشمیر میں شعبہ تعلیم کے تعلق سے فیصلے لیتے وقت فیصلہ سازوں کوجموںیا  ملک کے دیگر حصوں کے حالات کے ساتھ موازنہ نہیں کرنا چاہئے چوں کہ جس علاقے میں لگ بھگ ایک سال سے انٹرنیٹ کی سہولت لگ بھگ بند ہو اورنہ صرف انٹرنیٹ بلکہ زندگی کی دیگر اہم سہولیات بھی حالات کے رحم و کرم پر ہو ں، وہاںکے عوام باالخصوص طلبا و طالبات کے مستقبل کی نسبت کوئی قدم اٹھاتے وقت غیر معمولی ہوش مندی اور حساسیت کی ضرورت ہے ۔ 
 
رابطہ :ولی وارلار گاندربل
+91-9697394893
 

تازہ ترین